muhammad ahmed

  1. محمداحمد

    غزل ۔ پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے ۔ محمد احمدؔ

    غزل پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے مرے نقشِ کفِ پا کون دیکھے کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آکر مگر دریا میں صحرا کون دیکھے اب اس دشتِ طلب میں کون آئے سرابوں کا تماشہ کون دیکھے اگرچہ دامنِ دل ہے دریدہ دُرونِ نخلِ تازہ کون دیکھے بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے مری بے ربط دُنیا کون دیکھے...
  2. محمداحمد

    غزل ۔ چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے ۔ محمد احمدؔ

    غزل چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے اک دریچہ دُروں میں کُھلا چاہیے سر میں سودا بھی ہے، دل میں وحشت بھی ہے رختِ صحرا نوردی کو کیا چاہیے ہم ہی دیکھیں کہاں تک تجھے آئینے اب تجھے بھی ہمیں دیکھنا چاہیے اُس کو تیری طلب ہے تو حیراں نہ ہو بادِ چنچل کو جلتا دیا چاہیے عیب کیوں ہو گئے...
Top