لاہوتی

  1. فرخ منظور

    تبسم رات ابھری تری زلفوں کی درازی کیا کیا ۔ لاہوتی کی غزل کا ترجمہ از صوفی تبسم

    رات ابھری تری زلفوں کی درازی کیا کیا خواجۂ حسن نے کی بندہ نوازی کیا کیا کبھی زنجیر، کبھی مار، کبھی پھول بنی زلفِ خم دار میں تھی شعبدہ بازی کیا کیا خالِ رخسار سے میں زلفِ رسا تک پہنچا دلِ بدمست نے کی دست درازی کیا کیا ہنس دیا میں رہِ الفت کی بلا خیزی پر عقلِ عیّار نے کی فلسفہ سازی کیا کیا...
Top