غزل ، معین نظامی

  1. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::غرض تھی اپنی تو بانہوں میں بھر لیا تھا مجھے:::::Shafiq-Khalish

    غزل غرض تھی اپنی تو بانہوں میں بھر لیا تھا مجھے کسی کی دشمنی میں دوست کرلیا تھا مجھے مُسلسَل ایسے تھے حالات مَیں سنبھل نہ سکا کُچھ اُس نے عِشق میں بھی سہل تر لیا تھا مجھے کسی بھی بات کا کیونکر یقیں نہیں تھا اُنھیں خُدا ہی جانے جو آشفتہ سر لیا تھا مجھے کسی کا مشوَرہ درخورِ اِعتنا کب تھا تھی...
  2. ابوعبید

    مجھ کو سرکشی دی ہے باپ کی سزاؤں نے

    مجھ کو سرکشی دی ہے باپ کی سزاؤں نے بھائی کے طمانچوں نے ماں کی بد دعاؤں نے سختیوں کو سہ لینا جھڑکیوں کو پی جانا مجھ کو یہ سکھایا ہے وقت کی اداؤں نے ذائقوں کے چسکے نے پیٹ کی پرستش نے نیند تلخ کردی ہے روغنی غذاؤں نے نبض رکتی جاتی ہے سانس گھٹتی جاتی ہے روگ کیا لگایا ہے گاؤں کی فضاؤں نے دی...
Top