جبّار جمیل

  1. کاشفی

    کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے؟ - جبّار جمیل

    کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے؟ (جبّار جمیل) چہرہ کوئی ہوتا ہے پر اور کسی چہرے کا گماں گزرتا ہے پھر چند لمحوں کی خاطر ہم اردگرد سے کٹ جاتے ہیں یادوں کے خوش رنگ جہانوں میں بٹ جاتے ہیں نہ موسم ہوش کا ہوتا ہے نہ لہر جنوں کی ہوتی ہے کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے؟
Top