جاڑے

  1. کاشفی

    جاڑے - ساغر خیامی

    جاڑے (ساغر خیامی) ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے دو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارے سرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائی عمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی آگ چھونے سے بھی ہاتھوں میں نمی لگتی تھی سات کپڑوں میں بھی...
Top