بیادِ فیض

  1. فرحت کیانی

    فراز بیادِ فیض

    بیادِ فیض قلم بدست ہوں حیران ہوں کہ کیا لکھوں میں تیری بات کہ دنیا کا تذکرہ لکھوں لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں جہاں یزید بہت ہوں، حسین اکیلا ہو تو کیوں نہ اپنی زمیں کو بھی کر بلا لکھوں تیرے بغیر ہے ہر نقش "نقشِ فریادی" تو پھول "دستِ صبا" پر...
Top