اکبر حمیدی

  1. محمداحمد

    غزل ۔ گنوا نہ آبِ گہر، یار آبدیدہ مرے ۔ اکبر حمیدی

    غزل گنوا نہ آبِ گہر، یار آبدیدہ مرے بہار آئے گی نخلِ خزاں رسیدہ مرے زوال کی ہے علامت، عروج ظلمت کا حصارِ غم سے نکل ، مہر شب گزیدہ مرے فضا میں تھام لے اُس کے گلاب ہاتھوں کو ہوائے شوق میں اُٹھ دست نا رسیدہ مرے زمانہ گوش بر آواز ہے تری خاطر یہ ترا عہد ہے، اے حرف نا شنیدہ مرے...
  2. ظ

    گماں یک طرفہ ہے ، نظر ہے یک طرفہ

    گماں یک طرفہ ہے ، نظر ہے یک طرفہ ہماری عمر میں سارا سفر ہے یک طرفہ جو اُس گلی میں گیا لوٹ کر نہیں آیا کہ اس کے گھر ہر اک رہگذر ہے یک طرفہ یہ زندگی ہے جو سمجھوتہ کر سکو اس سے تمہارے حق میں ہے پھر بھی ، اگر ہے یک طرفہ ہمی کو سارا سفر کرنا ہوگا جانبِ دوست کہ دوستی کا تو سفر...
Top