نتائج تلاش

  1. عظیم آثم

    تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے

    جون ایلیا کی غزل ہے قبلہ۔
  2. عظیم آثم

    آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے - حسن عباس رضا

    رِبّ وصال، وصل کا موسم تو آچکا اب تو مرا نصیب سنور جانا چاہیے
  3. عظیم آثم

    جون ایلیا لمحے کو بےوفا سمجھ لیجئے۔ جون ایلیا

    جون ملحد تھے۔ کسی خدا پہ یقین نہ رکھتے تھے۔ اس لیے اس میں عجیب کوئی بات نہیں۔ جیسے لوگ خدا کو مانتے ہیں ویسے ہی لوگ خدا کو نہیں بھی مانتے۔ آسان ہے۔
  4. عظیم آثم

    گوتم کا آخری وعظ ۔ اسلم انصاری

    يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے مرے عزيزو تمام دکھ ہے!
  5. عظیم آثم

    جون ایلیا زخمِ امید بھر گیا کب کا۔۔۔۔جون ایلیا

    اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے ناصحو، میں سُدھر گیا کب کا کیا کہنے
  6. عظیم آثم

    دوسرا مصرعہ؟

    حیات جاوید گمان مبر که به پایان رسید کار مغان هزار بادهٔ ناخورده در رگ تاک است چمن خوش است ولیکن چو غنچه نتوان زیست قبای زندگیش از دم صبا چاک است اگر ز رمز حیات آگهی مجوی و مگیر دلی که از خلش خار آرزو پاک است به خود خزیده و محکم چو کوهساران زی چو خش مزی که هوا تیز و شعله بی‌باک است
Top