ہاں لیکن وہ چوٹیں میکوں ہر گز نہ آتیں کیونکہ ہم بیکری سے لانے کی بجائے خود بیک کرنے کی زحمت کر لیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ کچن میں کوئی حادثہ نہ پیش آئے جائے۔ اللہ نہ کرے۔
بالکل۔۔۔۔ اسی طرح جیسے میکوں چوٹ لگنے سے پہلے پتہ نہیں چلتا کہ سر ٹکرایا کس چیز سے تھا۔
جیسے کل اسٹور روم سے اون تلاش کرتے ہوئے یاد ہی نہ رہا کہ بالکل سیدھ میں کھڑا نہیں ہونا بلکہ 65 کا زاویہ بناتے ہوئے پیچھے ہٹنا ہے۔ مگر واہ ری قسمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیک رسک لیتے کبھی کبھار مگر دودھ کے ساتھ۔ وہ بھی خود سے بیک کیے ہوئے۔
البتہ زیر والا۔۔۔ اس کی تو گل رہن ہی دیو۔ اب تو وہ خود ہم سے گھبراتا ہے۔ گل جو زبر سے پڑھنا ہے۔
ایک کمبل گلے پڑ گیا ہے۔۔ اسی کے تانے بانے سیدھے کرنے میں وقت گزر گیا۔ رولا تو ہم پاتے نہیں چوٹ لگنے پر بھی۔ کام کرتےہوئے بھی خاموش ہی رہتے ہیں۔
باقی کی بچیا۔۔۔ ہلہ تے گلہ
گل کو پیار سے گلہ کہہ لیا ہو گا۔ مگر ہلہ کسے کہا بھلا۔
آمین ثم آمین
بالکل معذرت کی ضرورت نہیں۔ اپنوں کی اس محفل میں انسان جلدی سنبھل جاتا ہے۔ محفل پہ گزرے ان چند سالوں میں 9 قریبی رشتے کھو دئیے۔ محفل اور محفل والے نہ ہوتے ، ان کی دعائیں ساتھ نہ ہوتیں تو ہر بار نئے سرے سے خود کو سمیٹنا مشکل رہتا۔
سلامت رہئیے۔