فضائے قدس میں حیرت کا وہ دلکش سماں ہو گا
کہ بندہ میہماں معبود برحق میزباں ہو گا
سر مقتل شہیدانِ وفا کا امتحاں ہو گا
تو یہ ہوگا کہ قاتل تیرا دامن خوں فشاں ہو گا
گلے مل مل کے اس نے حسرتیں دل کی نکالی ہیں
تمہارا جانفشاں خنجر ابھی تک خوں فشاں ہو گا
ترا خنجر شہادت دے گا محشر میں شہیدوں کی...