یہ جو موت ہے
یہ اُصول ہے
کوئی کوہ کن ، کوئی کاریگر
کسی کہکشاں میں دراز ہے
کوئی کوچہ کوچہ سفر میں دُور نکل گیا
جہاں کائنات نے تھک کے گرنا ہے ایک دن
وہاں وقت پہلے سے ہانپ ہانپ کے سوچکا
یہ جو موت ہے
یہ بھی اک طرح کا جہان ہے
کوئی راز، جس میں ہزار راز کے در کُھلیں
یہ جو موت ہے
یہ بھی...