نتائج تلاش

  1. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    محبت کی، تو پائی ہی نہیں ان کی جھلک شاہد اس مصرعے کو دیکھئے ذرا۔ محبت کی تو پھر ان کی جھلک پائی نہیں شاہد میرا خیال ہے وہ ابہامی کیفیت باقی نہیں رہتی۔
  2. محمد یعقوب آسی

    آج کی تصویر - 1

    ان سے ملئے! ۔۔۔۔ http://www.giftube.name/img8669.html
  3. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    غزل پر گفتگو اگلی نشست میں، ان شاء اللہ۔
  4. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    لفظیات پر تھوڑی سی بات کر لی جائے۔ پہلے مصرعے میں تکرارِ معنوی کسی قدر ثقالت پیدا کر رہی ہے۔ زمانہ اور عہد؟ تیسرا مصرع موجود کی نسبت مضبوط تر ہونا چاہئے تھا، اور چوتھے مصرعے میں ’’سنا ہے‘‘ تیسرے مصرعے کے ’’لازم ہے‘‘ سے میل نہیں کھا رہا۔ اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ ’’دجال‘‘ آج کے دور میں...
  5. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    شاہد شاہنواز صاحب اپنے پیش کردہ تیسرے قطعے کے بارے میں رقم طراز ہیں: اس قطعے میں اوزان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں اس کی تقطیع یوں کرتا ہوں ’’فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن‘‘ اس میں ’’فاعلتن‘‘ کے مقابل ’’مفعولن‘‘ آ سکتا ہے۔ چھٹے دائرے (دائرہ موتودہ) کی پہلی بحر ’’فاعلات فاعلتن فاعلات فاعلتن‘‘ کا...
  6. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    شاہد شاہنواز صاحب کا یہ قطعہ، اُن کے اپنے ریمارکس کے ساتھ۔ مجھے تو اس میں مسئلہ وحدتِ مضمون کا لگتا ہے۔ دو شعروں میں دو الگ الگ مضمون ہیں اور اپنی اپنی جگہ مکمل ہیں۔ اس کو فردیات میں رکھ لیجئے، کسی مرحلے پر غزل بن گئی تو ٹھیک، نہ بنی تو بھی کوئی قباحت نہیں۔
  7. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    شاہد شاہنواز صاحب کے قطعات ۔۔ پہلے مصرعے میں الفاظ کی در وبست ٹھیک کر لیجئے، ضعف جاتا رہے گا۔ الف عین صاحب لقمہ بنا کر دینے کے قائل نہیں، میں اُن سے متفق ہوں، کہ میاں روٹی خود توڑو! تاہم روٹی پر انگلی پھیر کر یہ بتانے میں کوئی ہرج نہیں جانتا کہ ’’یہاں یہاں تک سے توڑ لو‘‘۔ شاہد شاہنواز صاحب کو...
  8. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    قطعہ بنیادی طور پر ابیات ہی کا مجموعہ ہے۔ غزل میں ایک شعر میں ایک مضمون باندھنے کا تقاضا بہت معروف ہے۔ ایک مضمون ایسا آ گیا کہ ایک شعر میں پورا بیان نہیں ہوتا تو اُس کو دوسرے شعر میں لے جائیں، تیسرے میں لے جائیں۔ اساتذہ کے ہاں غزلوں کے اندر قطعہ بند اشعار ملتے ہیں۔ پھر یوں ہوا کہ قطعہ بذاتِ خود...
  9. محمد یعقوب آسی

    بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید

    جنابِ شاہد شاہنواز صاحب۔ زیرِ نظر غزل کے قوافی کی آپ نے خوب کہی کہ آپ خود اِن کو ’’عجیب سے‘‘ قرار دے رہے ہیں اور مزمل شیخ بسمل صاحب نے اِن کو غلط قرار دیا ہے؟ یقیناً اِس کی کوئی وجہ رہی ہو گی۔ اس پر شیخ صاحب کا استدلال دیکھ کر بات کی جا سکتی ہے۔ آپ کو یہ ’’عجیب سے‘‘ کیوں لگے، اِس کا بھی کوئی...
  10. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    اللہ خوشیاں نصیب کرے، مجھے بھی اور آپ کو بھی!۔
  11. محمد یعقوب آسی

    جب بھی مظلوم نے ظالم کی حمایت کر دی ::برائے اصلاح

    بہت آداب جناب الف عین، اور جناب محمد بلال اعظم۔
  12. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    ان اسباق میں آپ جوں جوں آگے جائیں گے، ایک مرحلہ آئے گا کہ آپ اس کو شاید کلی طور پر رد کر دیں۔ خاص طور پر رباعی کے اوزان میں تو آپ کو اچھا خاصا دھچکا لگے گا۔ اس سب کچھ کے لئے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ خوش رہئے۔ اور فقیر کو دعائیں دیجئے۔
  13. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    ایک چیز جو مجھے مشکل لگی، میں نے یہ سوچا کہ فلاں فلاں فلاں کو بھی مشکل لگی ہو گی۔ چلئے اس میں کچھ ایسی چیز ڈھونڈتے ہیں جو اس کو آسان بنا دے۔ اور ایک نو آموز شاعر بھی اس چیز کو بہ سہولت استعمال کر سکے اور اپنے اشعار کو اوزان و بحور کے مطابق ڈھال سکے۔ یہ چیز مفید ثابت ہوئی ہے۔
  14. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    جیسا آپ نے فرمایا اس وزن تک پہنچنے اور اس کو بہ سہولت یاد رکھنے کے لئے عروض کے عام قاری کو یا تو خرب، کف، قصر سب پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔ یا پھر ایک ایسا نام سمجھ لینا ہو گا جس میں یہ سارے زحاف اور ان کے مقامات از خود آ گئے۔ اس طرح مجھے ذاتی طور پر ’’بحر اہزوجہ‘‘ کی تفہیم آسان لگتی ہے۔ آپ...
  15. محمد یعقوب آسی

    جب بھی مظلوم نے ظالم کی حمایت کر دی ::برائے اصلاح

    محترمی جناب محمد بلال اعظم صاحب۔ سب سے پہلی گزارش (تمام احباب سے) کہ یہ ’’استاد‘‘ والی بات کم از کم میرے جیسے بندے پر کچھ جچتی نہیں ہے۔ زیرِ نظر غزل کے بارے میں کچھ جسارتیں:۔ جب بھی مظلوم نے ظالم کی حمایت کر دی ہم نے اِس شہر سے اُس شہر کو ہجرت کر دی اِس شہر اور اُس شہر میں کسی قدر ابہام ہے۔ مراد...
  16. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    پروفیسر غضنفر جب بحرِ نغمہ، بحرِ زمزمہ، بحرِ مرغوب، بحرِ اہزوجہ اور بحرِ مہزوج (ہزج سے)، بحرِ ارمولہ (رمل سے)، بحرِ ضروع (مضارع سے)، بحرِ ترانہ، بحرِ متزاج اور بحرِ مزدوج کا تعارف کراتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ روایتی عروض کو کامل و اکمل تسلیم نہیں کرتا۔ میرا تو سارا کام ہی غضنفر کے اس ’’انکار‘‘...
  17. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    بڑی عجیب بات یہ بھی دیکھئے کہ پانچواں دائرہ (دائرہ مشتبہ) کی کوئی بحر بعینہ اردو میں کبھی مقبول نہیں ہو سکی، تجربات البتہ ملتے ہیں اور نہ صرف اردو میں بلکہ پنجابی میں بھی خالص عربی بحور میں شاعری کی گئی ہے، مگر وہ تجرباتی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ روایتی عروض میں ہم ’’فاعلن‘‘ اور ’’مستفعلن‘‘ کو حکماً...
  18. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    محترمی جناب مزمل شیخ بسمل صاحب، دو گزارشات ہیں۔ اول: نہ صرف یہ کہ ماضی میں نئے ناموں سے سے نئی بحور متعارف ہوئی ہیں، بلکہ نئے دائرے بھی متعارف ہوئے ہیں۔ دائرہ منعکسہ اور دائرہ متوافقہ فارسی اہلِ عروض کی ایجاد ہیں۔ اور ان دونوں دائروں سے نو، نو بحریں نکلتی ہیں۔ ’’اسباق‘‘ کا صفحہ نمبر 74 اور 75...
  19. محمد یعقوب آسی

    نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔۔ برائے تنقید

    بہت دل چسپ اور پتے کی بات کی آپ نے، محب علوی صاحب۔ خوش رہئے۔
  20. محمد یعقوب آسی

    آسان عروض کے دس سبق

    مجھے اس سوال کی توقع تھی، جنابِ مزمل شیخ بسمل! روایتی عروض اور زحافات کے بنیادی حوالوں سے آپ کے ارشادات بالکل بجا ہیں۔ تاہم میں جیسا پہلے عرض کر چکا ہوں، (اور اتفاق سے رات ہی آپ کا عروض والا صفحہ بھی دیکھا) خاص طور پر اِس بحر (زمزمہ) کے حوالے سے۔ میں نے اس پر کسی قدر تفصیل سے بات کی ہے۔ اور...
Top