ساری دنیا کے دہشت گرد قبائیلی علاقوں میں ہیں اور بہت ہی خطرناک ہیں باقی لوگ جو ان پر انگلیاں اٹھاتے ہیں دودھ کے دھلے ہوئے ہیں
باقی تسی تے سمجھ ہی گئے او
یہ بات مستند ہے کہ دجال یہود و صیہونی کانپ اٹھتے ہیں جہاد کا نام سن کر۔ کیوں کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت کا توڑ کسی بھی سائنسی ترقی سے ممکن نہیں۔
اب تو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پرمسلمانوں کی آبادی کم سے کم کی جارہی ہے
ختم نبوت پے پلیٹ فارم پر جس پر ہر مسلک کے علماء ایک ہیں اس پر اگر سرسید صاحب کے عقیدے پر اعتراض موجود ہے تو میں بھی سرسید کی شخصیت کو متنازعہ سمجھوں گا۔