رحمت کی آغوش میں جا کے چھپ جاتے ہیں
آو نبی کے آلے دوالے چھپ جاتے ہیں
دھرتی کے جس ٹکڑے پر وہ جلوہ نما ہیں
ہفت افلاک بھی ان کے سامنے چھپ جاتے ہیں
آخری خطبہ اور پھر وہ معیار تقویٰ
جس میں سارے گورے کالے چھپ جاتے ہیں
ان کے سامنے جس کو دیکھو ماند پڑا ہے
سورج آ جائے تو تارے چھپ جاتے ہیں...