ملاحظہ فرمائیے ہماری ایک پرانی غزل
انہی کو ووٹ دے کے پھر نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
‘نہ ہو جب دِ ل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو’
کسر کوئی نہ چھوڑیں گے وہ اب برباد کرنے میں
عوام اب اُن سے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
وفا کیسی، کہاں کی شرم، جب سب لوٹنا ٹھہرا
مرے بھولے ، بچا ہو...