کتنی اچھی تھی زندگی جب سادہ تھی
جب پیدل سکول جاتے تھے
سکول کے ٹاٹ جھاڑتے تھے
قلم دوات کی سہاہی آدھے منہ پر آدھی کپڑوں پر ہوتی تھی
چہرے گلاب کی طرح نرم اور دل گداز تھے
محبتیں سچی اور وفائیں بے نظیر تھیں
یہاں صبح کے ساڑھے آٹھ ہوئے چاہتے ہیں
ہائے وہ وقت
جب ماں کے ہاتھ کے پراٹھے کھا کر دو میل چل کر سکول جاتے تھے
ریڈیو پاکستان پر صبح سویرے مستنصر حسین تاڑڑ کی پرسکون آوز کا لطف اب کہاں
وقت بہت عجیب ہے بہرحال سب فانی ہے