دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سما
دیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سما
ہے کونسی وہ چشم نہیں جس میں اس کا نور
ہے کونسا وہ دل کہ نہیں جس میں اس کی جا
قمری اس کی یاد میں کو کو کرے ہے یار
بلبل اس ی کے شوق میں کرتی ہے چہچہا
مفلس کہیں غریب تونگر کہیں غنی
عاجز کہیں ، نبل کہیں سلطان کہیں گدا
بہروپ...