منتظر خود ہے بصد شوق خدا آج کی رات
کس کی آمد ہے سر عرش عُلیٰ آج کی رات
فاصلے گھٹ گئے یوں قرب بڑھا آج کی رات
عبد و معبود میں پردہ نہ رہا آج کی رات
بخشوا لیں گے وہ امت کو خدا سے اپنے
مانا جائے گا ضرور ان کا کہا آج کی رات
قاب قوسین کی صورت میں ہوا قرب و وصال
کھل گیا فلسفہ ء ثمّ دنا آج کی...