193
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب کے لہو سے درودیوار ہنوز
دل بھی پُر داغِ چمن ہے پر اسے کیا کیجیے
جی سے جاتی ہی نہں حسرتِ دیدار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبییب
بہِ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ!
تُو نہیں چھوڑتا...