نتائج تلاش

  1. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    ف آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمہارے سب خلاف شیخ مت رُوکش ہو مستوں کا تو اس جبے اُوپر لیتے استنجے کا ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف
  2. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    204 شیخ، سچ ، خوب ہے بہشت کا باغ جائیں گے گر وفا کرے گا دماغ
  3. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    203 غ ہم اور تیری گلی سے سفر، دروغ دروغ کہاں دماغ ہمیں اس قدر، دروغ دروغ تم اور ہم سے محبت تمہیں، خلاف خلاف ہم اور اُلفتِ خوبِ دگر، دروغ دروغ غلط غلط کہ رہیں تم سے ہم تنک غافل تم اور پوچھو ہماری خبر، دروغ دروغ فروغ کچھ نہیں دعوے کو صبحِ صادق کے شبِ فراق کو کب ہے سَحر ، دروغ...
  4. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    ط سب سے آئینہ نمط رکھتے ہیں خوباں اختلاط ہوتے ہیں یہ لوگ بھی کتنے پریشاں اختلاط تنگ آگیا ہوں میں رشکِ تنگ پوشی سے تری اس تنِ نازک سے یہ جامے کو چسپاں اختلاط
  5. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    ض سال میں ابر بہاری تجھ سے اک باری ہے فیض چشمِ نم دیدہ سے عاشق کے سدا جاری ہے فیض
  6. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    ص شیخ ہو دشمنِ زنِ رقاص کیوں نہ “القاص لایحب القاص“
  7. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    199 پان تو لیتا جا فقیروں کے “برگِ سبزست تحفہء درویش“ فکر کر زادِ آخرت کا بھی میر اگر تُو ہے عاقبت اندیش
  8. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    198 ش ہر جز و مد سے دست وبغل اُٹھتےہیں خروش کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یے ہیں جوش ابروے کج ہے موج، کوئی چشم ہے حباب موتی کسی کی بات ہے، سیپی کسی کا گوش ان مغ بچوں کے کُوچے ہی سے میں کیا سلام کیا مجھ کو طوفِ کعبہ سے، میں رندِ دُرد نوش حیرت سے ہووے پرتوِ مہ نور آئنہ تو چاندنی...
  9. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    197 مر گیا میں ملا نہ یار افسوس آہ افسوس صد ہزار افسوس یوں گنواتا ہے دل کوئی، مجھ کو یہی آتا ہے بار بار افسوس قتل گر تُو ہمیں کرے گا خوشی یہ توقع تجھ سے یار افسوس رخصتِ سیرِ باغ تک نہ ہوئی یوں ہی جاتی رہی بہار، افسوس خوب بد عہد تُو نہ مل لیکن میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس
  10. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    196 کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم مجھ بیدل کے پاس آکے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس ہے پریشاں دشت میں کس کا غبارِ ناتواں گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس بوئے خوں آتی ہے بادِ صبح گاہی سے مجھے نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کےپاس آہ نالے مت کیا کر اس قدر بے تاب ہو اے ستم کش...
  11. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    س حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا اک برگِ گل گرا نہ، جہاں تھا مرا قفس مجنوں کا دل ہوں، محملِ لیلیٰ سے ہوں جدا تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالہء جرس اے گریہ اُس کے دل میں اثر خوب ہی گیا روتا ہوں جب میں سامنے اُس کے تودے ہے ہنس اُس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوں کہتا ہوں...
  12. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    194 مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز ہوچکے حشر، میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز اشک کی لغزشِ مستانہ پہ مت کیجو نظر دامنِ دیدہء گریاں سے مرا پاک ہنوز بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے اُس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز
  13. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    193 مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز تر ہیں سب کے لہو سے درودیوار ہنوز دل بھی پُر داغِ چمن ہے پر اسے کیا کیجیے جی سے جاتی ہی نہں حسرتِ دیدار ہنوز بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبییب بہِ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ! تُو نہیں چھوڑتا...
  14. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    192 خبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز آتشِ دل نہیں بجھی شاید قطرہء اشک ہے شرارہ ہنوز اشک جھمکا ہے جب نہ نکلا تھا چرخ پر صبح کا ستارہ ہنوز عمر گزری دوائیں کرتے میر دردِ دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز
  15. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    ز ہوتا نہیں ہے باب اجابت کا وا ہنوز بسمل پڑی ہے چرخ پہ میری دعا ہنوز غنچے چمن چمن کھلے اس باغ دہر میں دل ہی مرا ہے جو نہیں ہوتا ہے وا ہنوز احوال نامہ بر سے مرا سن کے کہہ اُٹھا جیتا ہے وہ ستم زدہ مہجور کیا ہنوز توڑا تھا کس کا شیشہء دل تُو نے سنگ دل ہے دل خراش کُوچے میں تیرے صدا...
  16. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    190 ڑ زخمِ دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو اب ضبطِ گریہ سے ہے اُدھر ہی کو سب نچوڑ بلبل کی اوُر چشمِ مروت سے دیکھ ٹک بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ کچھ کوہ کن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ بے طاقتی سے میر لگے چُھوٹنے پران ظالم خیال دیکھنے...
  17. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    189 حاصل بجز کدورت اس خاک داں سے کیا ہے خوش وہ کہ اُٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر یہ مشتِ خاک یعنی انسان ہی ہے رُوکش ورنہ اٹھائی کن نے اس آسماں کی ٹکر منزل کی میر اس کی کب راہ تجھ سے نکلے یاں خضر سے ہزاروں مرمر گئے بھٹک کر
  18. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    188 جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر اَن جان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر جھمکے دکھا کے باعثِ ہنگامہ ہی رہے پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر تاکشتہء وفا مجھے جانے تمام خلق تُربت پہ میری خون سے میرے نشان...
  19. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    187 پشتِ پا ماری بسکہ دنیا پر زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر گرد مے نوش، آؤ شیخِ شہر! ابر جھوما ہی جا ہے، صحرا پر یاں جہاں میں کہ شہر کوراں ہے سات پردے ہیں چشمِ بینا پر فرصتِ عیش اپنی یوں گزری کہ مصیبت پڑی تمنا پر میر کیا بات...
  20. وہاب اعجاز خان

    انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

    186 سوتا ہے بے خبر تو نشے میں جو رات کو سو بار میر نے تری اُٹھ اُٹھ کے لی خبر
Top