پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈُھونڈ رہا ہے
پاگل ہے جو دُنیا میں وَفا ڈُھونڈ رہا ہے
خُود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اَب سر کو چُھپانے کی جگہ ڈُھونڈ رہا ہے
کل رات تو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دِن کے اُجالے میں دِیا ڈُھونڈ رہا ہے
شاید کے ابھی اُس پہ زوال آیا ہوا ہے
جُگنُو جو اندھیرے میں...