دنیا تو دنیا، پاکستان میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بلوائیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے بلوائی گئی فوج نے یہ کہہ کر انکار کردیا ہو کہ یہ تو ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم ان پر تشدد نہیں کرسکتے، سوائے اس ایک واقعے کے۔
جھوٹے کپتان نے قوم کو کیا لارے لپے دئیے تھے یاد کیجیے؟ ایک کروڑ نوکریوں کا لارا دے کر بے روزگاری دی۔ اربوں کھربوں ملک میں لانے کا جھوٹا لارا دیا اور ریکارڈ قرضے لیے۔ اپنے ساتھیوں کو نوازنے کے لیے ریکارڈ مہنگائی کی۔
باقی رہی معیشت، اس کا پتہ موصوف کے ٹکٹ کٹانے کے بعد چلے گا۔ یہ بھی سیدھے لندن...
ہماری صلاح
عمومی طور پر یوں لگتا ہے جیسے آپ کو وزن کا اندازہ ہے ۔ صرف الفاظکی نشست اور مضمون بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ چند ایک اشعار میں وزن کا مسئلہ ہے جو یقین ہے آپ خود بہتر کرلیں گے۔
اس مصرع میں آپ نے ہوگا کو ہگا باندھا ہے۔ دوبارہ کہہ لیجیے
سب سے پہلے دو الفاظ کا املا درست کرلیجیے
خشی نہیں...
ہر چند کہ اب کپتان کو ترین کے جہاز کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ان کے پاس حکومت کا اپنا پچپن روپیے کلومیٹر والا ہیلی کاپٹر موجود ہے، لیکن ترین اور ان کے ساتھیوں کی سیٹیں تو چاہئیں!!!
چند دن اور ٹھہر جائیے۔ ترین صاحب بھی باعزت بری ہوکر پہلے کی طرح کپتان کے دائیں جانب بیٹھے ہوں گے۔ بائیں طرف سیٹ قریشی صاحب کی پکی ہے۔ صاف چلی شفاف چلی!