میں نے عمران خان کو اسرائیل تسلیم کرنے کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا اور نہ ہی ہوش ربا مہنگائی کرنے کے لیے۔
لہذا آئندہ عمران خان کے دشمن کو ہی ووٹ دوں گا۔
جئے مولانا ، جئے مولانا
فارن فنڈنگ کیس کی تفتیش کروا لیں ، قادیانی لابی کی فنڈنگ ظاہر ہو جائے گی۔
مزید یہ کہ جو گروپ عمران خان کے حق میں سوشل میڈیا پر پروپگنڈا کر رہا ہے وہی گروپ اسرائیل تسلیم کروانے کی لابنگ کر رہا ہے۔
حکیم سعید رحمة اللہ علیہ نے یہودیوں کے ایجنٹ عمران خان کے بارے میں کئی سال قبل بتا دیا تھا۔ اب ظاہر ہوا جب اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اپنے ٹٹو صحافیوں (لفافیوں) مبشر لقمان اور کامران خان کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ڈھول پیٹنے پر لگایا ہوا ہے۔ غدار کہیں کے۔
میراڈونا ارجنٹائن میں پیدا ہوا لیکن اس کا دل فلسطینی تھا اس نے کھل کر فلسطینیوں کی حمائت کی آپکو اپنے اردگرد ایسے کئی شاہکار نظر آئیں گے جو پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن آجکل انکے دل اسرائیل کے لئے دھڑکتے ہیں سمجھ گئے ناں یہ کون لوگ ہیں؟
نہیں ، بلکہ پرانوں سے مایوس ہو کر نئے آنے والوں سے امید لگانے کا ایک بہانہ۔
لیکن حقیقی طور پر مسائل تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف متوجہ ہونے سے ہی حل ہو سکتے ہیں
مولانا آ رہا ہے ، مولانا آ رہا ہے۔
ملک کا اگلا وزیر اعظم مولانا فضل الرحمان
مظلوموں کا ساتھی نہیں ہے عمران خان
مظلوموں کا ساتھی نہیں تھا الطاف حسین
مظلوموں کا ساتھی ہے فضل الرحمان
تیری شان میری شان
فضل الرحمان فضل الرحمان