رمضان کی برکت سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان اور کمانڈر محمود خان گرفتار

dxbgraphics

محفلین
آپ کی پوسٹ سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ اصل میں نظام عدل نہیں بلک ایک مخصوص فرقے کے تنگ نظر ،تشدد پسند اور دہشت گرد گروہ کی ظلم اور بربریت کو قائم کی خواہش کا اظہار ہے۔ عوام کو اگر موجودہ کرپٹ نظام پسند نہیں ہے تو انہیں لشکر جھنگوی اور طالبان جیسے جاہل اور درندہ صفت گروہ بھی پسند نہیں ہیں جو دوسرے فرقوں کی عبادت گاہوں پر خودکش دھماکے کرتے ہیں اور لوگوں کو ذبح کرکے ان کی ویڈیو تیار کرتے ہیں۔ ان ۔۔۔۔ لوگوں کا صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے موازنہ کرنا انتہائی پست ذہنیت کا کام ہی ہو سکتا ہے۔

لیکن نبیل بھائی میں اس جمہوریت کے حق میں بلکل نہیں ہوں جہاں عوام پر زندگی کا دائرہ روز بروز تنگ کیا جارہا ہے۔ چپڑاسی سے لیکر صدر و وزیر اعظم تک سب ناکام اور خود غرض ہوچکے ہیں ۔ تھانہ۔ عدالت۔ پاسپورٹ، کچہری، رجسٹرار آفس، محکمہ تعلیم، ڈی سی او، تحصیلداری نظام غرض ہر جگہ روپے کی بالادستی ہے بغیر رشوت لیئے کسی غریب کا کام نہیں ہوتا۔ جس کا زور جس پر چل گیا سو چل گیا آئے روز چوری ڈاکہ، رہزنی، مہنگائی ہر طرف سے غریب ہی اس چکی میں پسا جا رہا ہے سیاستدان اپنی ہنڈیا پکانے کے لئے سرگرم ہیں۔ جبکہ عدلیہ کی آزادی کا یہ حال ہے کہ چینی بھی عدالتی حکم کے مطابق فراہم نہیں کی جاسکتی۔ پیٹرول کے نرخ کم کئے جاتے ہیں تو دوسرے دن صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ ایک کھیل کا میدان بن گیا ہے ہماری سیاست۔
اللہ سے یہی دعا کرونگا کہ اللہ پاکستان کو صدا سلامت اور آباد رکھے ۔ اور ملک دشمن عناصر کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ (آمین(
 

عسکری

معطل
jhanda.gif
jhanda.gif

jhanda.gif
jhanda.gif
jhanda.gif



پاکستانی عوام فوج اور انصاف جیت گیا ملا ریڈیو گرفتار سوات طالبان کی کہانی ختم
 

ساجد

محفلین
خدا کرے یہ جاہل اب اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ جائیں اور پاکستان کے عوام چین کا سانس لے سکیں۔
 

ساجد

محفلین
لیکن نبیل بھائی میں اس جمہوریت کے حق میں بلکل نہیں ہوں جہاں عوام پر زندگی کا دائرہ روز بروز تنگ کیا جارہا ہے۔ چپڑاسی سے لیکر صدر و وزیر اعظم تک سب ناکام اور خود غرض ہوچکے ہیں ۔ تھانہ۔ عدالت۔ پاسپورٹ، کچہری، رجسٹرار آفس، محکمہ تعلیم، ڈی سی او، تحصیلداری نظام غرض ہر جگہ روپے کی بالادستی ہے بغیر رشوت لیئے کسی غریب کا کام نہیں ہوتا۔ جس کا زور جس پر چل گیا سو چل گیا آئے روز چوری ڈاکہ، رہزنی، مہنگائی ہر طرف سے غریب ہی اس چکی میں پسا جا رہا ہے سیاستدان اپنی ہنڈیا پکانے کے لئے سرگرم ہیں۔ جبکہ عدلیہ کی آزادی کا یہ حال ہے کہ چینی بھی عدالتی حکم کے مطابق فراہم نہیں کی جاسکتی۔ پیٹرول کے نرخ کم کئے جاتے ہیں تو دوسرے دن صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ ایک کھیل کا میدان بن گیا ہے ہماری سیاست۔
اللہ سے یہی دعا کرونگا کہ اللہ پاکستان کو صدا سلامت اور آباد رکھے ۔ اور ملک دشمن عناصر کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ (آمین(
برادر عزیز ، یہ جمہوریت کا قصور نہیں یہ ہمارے بے حس اور ظالم حکمرانوں کا کیا دھرا ہے۔ جنہوں نے سیاست کا مطلب ہی اپنی تجوریاں بھرنا سمجھ رکھا ہے۔ طالبان کا ظہور اور عروج بھی انہی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھا اور ابھی بھی اس بات کا شدید خدشہ موجود ہے کہ اگر حکمرانوں نے اپنی روش نہ بدلی تو طالبان سے کہیں زیادہ شدید اور خوں ریز تحریک کا ہمیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہم جس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں اسے انقلاب کہا جاتا ہے اور پاکستان کی بد حالی و بد امنی اس کا راستہ ہے۔ مجھے موجودہ ناکام اور نام کی جمہوری حکومت کے کسی بھی اقدام کا دفاع نہیں کرنا ہے۔ یہ حکمران اور نام کی اپوزیشن جس جمہوریت کا اعلان کرتے پھر رہے ہیں یہ آمریت سے بھی بد تر ہے اور بالآخر ملک کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
 

dxbgraphics

محفلین
لیکن ساری لچک اور خرابیاں جمہوریت ہی فراہم کرتی ہے ۔۔ جبکہ اس کے برعکس خلافت میں ایسی کوئی ڈھیل نہیں ہوتی ہے
 

ظفری

لائبریرین
جمہوریت کے حوالے سے یہاں عارف کریم نے بھی کئی بار اپنا راگ الاپا ہے ۔ مگر جب ان سےکہا جائے کہ جمہوریت کا متبادل پیش کرو تو جواب ندارد ۔ ایسا بارہا کئی دھاگوں پر مختلف فورمز پر ہوا ہے ۔ اب پھر سے ایک اعتراض سامنے آگیا ہے ۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب جمہوریت کو برا کہا جاتا ہے تو اس نظام کی ان تیکنکی خامیوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جاتا جو جمہوریت کی اساس ہے ۔ مگر اس کے برعکس ان لوگوں اور ذرائع کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جو جمہوریت کو اس کے نظم کے ساتھ چلنے نہیں دیتے ۔ یہاں جتنی بھی مثالیں دی گئیں ہیں ۔ وہ سب انسٹیٹوشن سے متعلق ہیں ۔ جہاں یہ ساری خرابیاں پائی جاتیں ہیں ۔ اور جمہوریت کو کسی معاشرے میں پنپنے کے لیئے ضروری ہے کہ آپ کی انسٹیٹوشن مضبوط ہو ۔ اگر آپ کی انسٹیٹوشن مضبوط اور ایماندار ہوگی تو جمہوریت کا نظام کسی بھی معاشرے میں کبھی انارکی پھیلنے نہیں دیگا ۔ لہذا جن " تعلیم یافتہ " ملکوں میں بعض انسٹیٹوشنز میں کبھی کوئی کرپشن کا واقع پیش بھی آجاتا ہے تو انسٹیٹوشن کے مضبوطی کے باعث وہ گرفت میں آجاتا ہے ۔ جسے عموما" چیک ایند بیلنس " بھی کہا جاتا ہے ۔ جمہوریت انسانوں‌کا بنایا ہوا ایک نظام ہے ۔ اس میں اگر کوئی بات اسلام کے خلاف ہوگی تو اس سے انحراف کرکے کوئی اور ردوبدل کیا جاسکتا ہے ۔ تحقیق کرکے مذید مفید بنایا جاسکتا ہے ۔
جمہوریت کے حوالے سے یہاں اکثر اس نظام کو یہود و نصاریٰ کا ایجاد کردہ نظام کہہ کر اس کو رد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مگر ہم کو یہود و نصاری کے ایجاد کردہ کمپوٹرز پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے آج ہم اس وقت ایک دوسرے تک اپنے خیالات پہنچا رہے ہیں ۔ ہم کو ان کے ایجاد کردہ جہازوں پر بھی اعتراض نہیں ہے ، جن پر بیٹھ کر ہم دور دراز علاقوں میں جاکر اپنی خاندانوں کی کفالت کا انتظام کرتے ہیں ۔ ان کے بنائے ہوئے ائیرکینڈشنز پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے جن کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کر سلگتی ہوئی گرمی کو شکست دیتے ہیں ۔ اسی طرح ان کی فراہم کردہ سینکڑوں چیزیں ہیں جن سے ہم مستفید ہورہے ہیں ، ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اگر اعتراض ہے تو صرف ان کے ایک پیش کردہ طرزِ حکومت کے نظام پر ہے ۔
اصل میں جمہوریت کیا چیز ہے ۔ ؟ دنیا میں اقتدار و حکومت حاصل کرنے کی جہدوجہد اور خواہش کی جبلت انسان میں قدرتی طور پر موجود ہے ۔ تاریخ میں اس کے حصول کے لیئے افراد اور گروہ لڑتے مرتے رہے ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لجیئے کہ اگر کسی جگہ کوئی حکومت قائم ہوگئی ہے تو اس میں مسلسل بغاوتیں ہوتیں رہیں ہیں ۔ غیر مسلموں کو چھوڑیں ۔ مسلمانوں میں دیکھ لجیئے ۔ بابر ہندوستان آکر ابراہیم لودھی کی گردن اتارتا ہے ۔ شیر شاہ سوری ، ہمایوں کو ایران بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ امیر تیمور ، یلدرم کو تہہ نہس کردیتا ہے ۔ خلافت راشدہ کودیکھ لیں تین خلفاء کو شہید کیا گیا ۔اس کے بعد بنو امیہ ، بنو عباس کے دور میں کیسی کیسی بغاوتیں ہوتیں رہیں ہیں ۔ اس اقتدار کی جنگ میں کتنے لوگ مرتے تھے ۔ اور یہی حال کم و بیش مغرب کا بھی تھا ۔ چنانچہ اس خونریزی سے بچنے کے لیئے لوگوں نے بہت سوچ بچار کے بعد انتقالِ اقتدار کا یہ طریقہ ایجاد کیا کہ چلو ۔۔۔۔ لوگوں سے پوچھ لیتے ہیں ۔سو ایک پرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ ایجاد ہوا ۔ پھر یہ طریقہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا کہ " امرھم شوری بینھم " یعنی مسلمان اپنا نظام رائے سے قائم کریں ۔ استبداد سے قائم نہ کریں ۔ یہ ایک اصول ہے اور اس اصول کے اطلاق کے لیئے ہم ایک نظام مرتب کرتے ہیں ۔ اور یہ نظام ظاہر ہے انسانوں کا تخلیق کردہ ہوتا ہے ۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں خامیاں ہوں ۔ جو بتدریج وقت اور تجربے کیساتھ دور کی جاسکتیں ہیں ۔ مثال کے طور پر آج کمپوٹر جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ دو تین دہائیوں قبل اس کی کیا حالت تھی ۔ بتدریج یہ تبدیلیوں اور تجربے کیساتھ آج اس مقام پر پہنچا ہے ۔ کل اس کی اور کیا خامیاں دریافت ہونگیں اور مذید اس میں کیا مفید تبدیلیاں آئیں گی وہ تو وقت اور تجربے پر منحصر ہے ۔
لہذا یہ سب علم ہے اور یہ سب انسانوں‌کی میراث ہے ۔ اس کو یہود و نصاری کے تناظر میں دیکھنا کوئی صحتمندانہ رویہ نہیں ہے ۔ اگر اس نظام میں کوئی خامی ہے تو اس کو ہم اپنی کاہلی ترک کرکے اسے دور کرنے کی کوشش کریں اور انتقالِ اقتدار کو مذید بہتر بنائیں ۔بصورتِ دیگر اس وقت دنیا میں اقتدار کے حصول کے جو تین طریقے رائج ہیں وہ ملکویت " بادشاہت " ، طبقاتی نظام یا پھر جمہوریت ہے ۔ اگر جمہوریت نہیں پسند تو ان دونوں نظاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلجیئے ۔ یہ کوئی اتنا پیچیدہ مسئلہ تو نہیں ۔۔۔۔۔ !!!
 
جمہوریت کیلئیے ایک مثال یہاں دینا چاہوں گا۔ ۔ ۔
زید، عمر اور بکر الیکشن میںایک ہی حلقے سے کھڑے ہوئے۔ جب رزلٹ آیا تو زید کو 33 ووٹ ملے۔ عمر کو بھی 33 ووٹ ملے اور بکر کو 34۔ جمہوریت کی رو سے بکر کو فاتح قرار دیا گیا۔۔۔۔حالانکہ 100 میں سے 66 لوگوں نے اسکو مسترد کردیا تھا۔ ۔ ۔ اب آپ خود ہی سوچ لیجئیے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسکا متبادل نظام کونسا ہے جو پاکستان میں چل جائے؟
 

dxbgraphics

محفلین
جمہوریت کے حوالے سے یہاں عارف کریم نے بھی کئی بار اپنا راگ الاپا ہے ۔ مگر جب ان سےکہا جائے کہ جمہوریت کا متبادل پیش کرو تو جواب ندارد ۔ ایسا بارہا کئی دھاگوں پر مختلف فورمز پر ہوا ہے ۔ اب پھر سے ایک اعتراض سامنے آگیا ہے ۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب جمہوریت کو برا کہا جاتا ہے تو اس نظام کی ان تیکنکی خامیوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جاتا جو جمہوریت کی اساس ہے ۔ مگر اس کے برعکس ان لوگوں اور ذرائع کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جو جمہوریت کو اس کے نظم کے ساتھ چلنے نہیں دیتے ۔ یہاں جتنی بھی مثالیں دی گئیں ہیں ۔ وہ سب انسٹیٹوشن سے متعلق ہیں ۔ جہاں یہ ساری خرابیاں پائی جاتیں ہیں ۔ اور جمہوریت کو کسی معاشرے میں پنپنے کے لیئے ضروری ہے کہ آپ کی انسٹیٹوشن مضبوط ہو ۔ اگر آپ کی انسٹیٹوشن مضبوط اور ایماندار ہوگی تو جمہوریت کا نظام کسی بھی معاشرے میں کبھی انارکی پھیلنے نہیں دیگا ۔ لہذا جن " تعلیم یافتہ " ملکوں میں بعض انسٹیٹوشنز میں کبھی کوئی کرپشن کا واقع پیش بھی آجاتا ہے تو انسٹیٹوشن کے مضبوطی کے باعث وہ گرفت میں آجاتا ہے ۔ جسے عموما" چیک ایند بیلنس " بھی کہا جاتا ہے ۔ جمہوریت انسانوں‌کا بنایا ہوا ایک نظام ہے ۔ اس میں اگر کوئی بات اسلام کے خلاف ہوگی تو اس سے انحراف کرکے کوئی اور ردوبدل کیا جاسکتا ہے ۔ تحقیق کرکے مذید مفید بنایا جاسکتا ہے ۔
جمہوریت کے حوالے سے یہاں اکثر اس نظام کو یہود و نصاریٰ کا ایجاد کردہ نظام کہہ کر اس کو رد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مگر ہم کو یہود و نصاری کے ایجاد کردہ کمپوٹرز پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے آج ہم اس وقت ایک دوسرے تک اپنے خیالات پہنچا رہے ہیں ۔ ہم کو ان کے ایجاد کردہ جہازوں پر بھی اعتراض نہیں ہے ، جن پر بیٹھ کر ہم دور دراز علاقوں میں جاکر اپنی خاندانوں کی کفالت کا انتظام کرتے ہیں ۔ ان کے بنائے ہوئے ائیرکینڈشنز پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے جن کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کر سلگتی ہوئی گرمی کو شکست دیتے ہیں ۔ اسی طرح ان کی فراہم کردہ سینکڑوں چیزیں ہیں جن سے ہم مستفید ہورہے ہیں ، ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اگر اعتراض ہے تو صرف ان کے ایک پیش کردہ طرزِ حکومت کے نظام پر ہے ۔
اصل میں جمہوریت کیا چیز ہے ۔ ؟ دنیا میں اقتدار و حکومت حاصل کرنے کی جہدوجہد اور خواہش کی جبلت انسان میں قدرتی طور پر موجود ہے ۔ تاریخ میں اس کے حصول کے لیئے افراد اور گروہ لڑتے مرتے رہے ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لجیئے کہ اگر کسی جگہ کوئی حکومت قائم ہوگئی ہے تو اس میں مسلسل بغاوتیں ہوتیں رہیں ہیں ۔ غیر مسلموں کو چھوڑیں ۔ مسلمانوں میں دیکھ لجیئے ۔ بابر ہندوستان آکر ابراہیم لودھی کی گردن اتارتا ہے ۔ شیر شاہ سوری ، ہمایوں کو ایران بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ امیر تیمور ، یلدرم کو تہہ نہس کردیتا ہے ۔ خلافت راشدہ کودیکھ لیں تین خلفاء کو شہید کیا گیا ۔اس کے بعد بنو امیہ ، بنو عباس کے دور میں کیسی کیسی بغاوتیں ہوتیں رہیں ہیں ۔ اس اقتدار کی جنگ میں کتنے لوگ مرتے تھے ۔ اور یہی حال کم و بیش مغرب کا بھی تھا ۔ چنانچہ اس خونریزی سے بچنے کے لیئے لوگوں نے بہت سوچ بچار کے بعد انتقالِ اقتدار کا یہ طریقہ ایجاد کیا کہ چلو ۔۔۔۔ لوگوں سے پوچھ لیتے ہیں ۔سو ایک پرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ ایجاد ہوا ۔ پھر یہ طریقہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا کہ " امرھم شوری بینھم " یعنی مسلمان اپنا نظام رائے سے قائم کریں ۔ استبداد سے قائم نہ کریں ۔ یہ ایک اصول ہے اور اس اصول کے اطلاق کے لیئے ہم ایک نظام مرتب کرتے ہیں ۔ اور یہ نظام ظاہر ہے انسانوں کا تخلیق کردہ ہوتا ہے ۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں خامیاں ہوں ۔ جو بتدریج وقت اور تجربے کیساتھ دور کی جاسکتیں ہیں ۔ مثال کے طور پر آج کمپوٹر جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ دو تین دہائیوں قبل اس کی کیا حالت تھی ۔ بتدریج یہ تبدیلیوں اور تجربے کیساتھ آج اس مقام پر پہنچا ہے ۔ کل اس کی اور کیا خامیاں دریافت ہونگیں اور مذید اس میں کیا مفید تبدیلیاں آئیں گی وہ تو وقت اور تجربے پر منحصر ہے ۔
لہذا یہ سب علم ہے اور یہ سب انسانوں‌کی میراث ہے ۔ اس کو یہود و نصاری کے تناظر میں دیکھنا کوئی صحتمندانہ رویہ نہیں ہے ۔ اگر اس نظام میں کوئی خامی ہے تو اس کو ہم اپنی کاہلی ترک کرکے اسے دور کرنے کی کوشش کریں اور انتقالِ اقتدار کو مذید بہتر بنائیں ۔بصورتِ دیگر اس وقت دنیا میں اقتدار کے حصول کے جو تین طریقے رائج ہیں وہ ملکویت " بادشاہت " ، طبقاتی نظام یا پھر جمہوریت ہے ۔ اگر جمہوریت نہیں پسند تو ان دونوں نظاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلجیئے ۔ یہ کوئی اتنا پیچیدہ مسئلہ تو نہیں ۔۔۔۔۔ !!!

یار دنیا کے تین اصولوں کو چھوڑ دیں اگر دنیا کی بقاء ہے تو صرف خلافت میں ہے اور وہ بھی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے طرز کی خلافت۔ آپ جو اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں کہاں ہیں وہ ادارے وہ تو اندر سے دیمک نےایسے کھوکھلے کر دیئے ہیں کہ صرف اس کا ڈھانچہ رہ گیا ہے۔ ان اداروں میں‌ ہمارے جیسے ہی لوگ تو ہیں لیکن پھر بھی یہ کیوں مضبوط نہیں ہیں ؟ لارڈ میکالے کا کالا قانون بھی لاگو ہے پھر بھی انصاف نہیں ہے ۔ انصاف کے لئے بھی وکیل کو نوٹوں کی گڈیاں دینی پڑتی ہیں کیوں؟ ایک چھوٹی سی ایف آئی آر لکھنے کے لئے بھی ہزاروں روپے دینے پڑتے ہیں کیوں؟ ہونہار طالب علم کی بجائے ڈوگر حمید کی بیٹی جیسے طلباء کا مستقبل سنوار کر اصل حقدار کی زندگی برباد کی جاتی ہے کیوں؟ پاسپورٹ دفاتر میں ویری فیکیشن کے نام پر ہزاروں روپے لوٹے جاتے ہیں کیوں؟ ۔ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں وہی ذخیرہ اندوزی کو کاروبار سمجھ کا اپنے لئے حلال کر رہے ہیں کیوں؟ ایکسائز کے دفتر میں ایک غریب آدمی اپنی پرانی کھٹارا موٹر سائیکل کے کاغذات بنوانے جاتا ہے تو اس کی فائل غآئب ہوجای ہے کیوں؟ ایک چھوٹا آدمی براہ راست انسپکٹر سے نہیں مل سکتا تو وہ وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم سے کیسے مل سکتا ہے کیوں؟ زناکار کو عدالت میں چار پانچ ہزار کے عوض چھوڑ دیا جاتا ہے کیوں؟ چور کا ہاتھ کاٹنے کی بجائے اسے قید کردیا جاتا ہے اور جب وہ نکلتا ہے تو اس سے بھی بڑا چور بن جاتا ہے کیوں؟
کیوں کہ جمہوری نظام انسان کی بقاء کے الٹ ہے۔ اگر ہم یورپ میں جمہوری نظام کی بات کریں تو وہاں تو جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔کوئیgayرائٹس دے رہا ہے تو کوئی مرد سے مرد کی شادی کے قوانین بنارہا ہے جمہوری نظام میں اگر جمہور کی رائے غیر شرعی ہوگی تو اس کی اجازت دی جائیگی جو بلکل غلط ہے
برادرم معاف کیجئے گا میں ایسی جمہوریت نہیں چاہتا۔
اور ایک بات کہی آپ نے کے ان کی بنائی ہوئی اشیاء ہم استعمال کر سکتے ہیں تو ہمارے سامنے آپ صلعم کی زندگی کا نمونہ موجود ہے ۔ یہودیوں کو خط و کتابت کے لئے یہودی مامور تھا جس پر آپ صلعم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ان کی زبان سیکھ لو کیا پتہ یہ کیا لکھ رہا ہے۔
تو اسی طرح ٹیکنالوجی میں بھی اس جمہوری نظام کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں ۔ کہ انہیں بروقت اپنایا نہیں جاتا ہے
 

ظفری

لائبریرین
جمہوریت کیلئیے ایک مثال یہاں دینا چاہوں گا۔ ۔ ۔
زید، عمر اور بکر الیکشن میںایک ہی حلقے سے کھڑے ہوئے۔ جب رزلٹ آیا تو زید کو 33 ووٹ ملے۔ عمر کو بھی 33 ووٹ ملے اور بکر کو 34۔ جمہوریت کی رو سے بکر کو فاتح قرار دیا گیا۔۔۔۔حالانکہ 100 میں سے 66 لوگوں نے اسکو مسترد کردیا تھا۔ ۔ ۔ اب آپ خود ہی سوچ لیجئیے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسکا متبادل نظام کونسا ہے جو پاکستان میں چل جائے؟

امریکہ میں حالیہ صدارتی الیکشن میں کامن ووٹ کا تناسب 53 اور 46 فیصد رہا ۔ یعنی 46 فیصد امریکنز نے اوبامہ کو مسترد کردیا ۔ مگر امریکہ کے نظم کے سلسلے میں نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے میری پوسٹ غور سے نہیں پڑھی ۔ جمہوریت کا اصل مقصد اقتدار کی منتقلی پُرامن طریقے سے کرنا ہے ۔ جوکہ پہلے خونریزی سے ہوتا تھا ۔ شاید آپ جمہوریت کی اس اصل روح کو نظر انداز کرگئے ۔
 
خلافت علی منہاج نبوت کی بات آپ نے کہیں سے پڑھ تو لی ہے لیکن بندہِ خدا تھوڑا سوچ بھی لیتے ہیں۔ ۔ یہ نظام کہیں باہر سے نافذ نہیں ہوتا۔ ۔ جب آپ لوگ بدل جائیں گے تو آپکا نظام بھی بدل جائے گا
 

ظفری

لائبریرین
یار دنیا کے تین اصولوں کو چھوڑ دیں اگر دنیا کی بقاء ہے تو صرف خلافت میں ہے اور وہ بھی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے طرز کی خلافت۔ آپ جو اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں کہاں ہیں وہ ادارے وہ تو اندر سے دیمک نےایسے کھوکھلے کر دیئے ہیں کہ صرف اس کا ڈھانچہ رہ گیا ہے۔ ان اداروں میں‌ ہمارے جیسے ہی لوگ تو ہیں لیکن پھر بھی یہ کیوں مضبوط نہیں ہیں ؟ لارڈ میکالے کا کالا قانون بھی لاگو ہے پھر بھی انصاف نہیں ہے ۔ انصاف کے لئے بھی وکیل کو نوٹوں کی گڈیاں دینی پڑتی ہیں کیوں؟ ایک چھوٹی سی ایف آئی آر لکھنے کے لئے بھی ہزاروں روپے دینے پڑتے ہیں کیوں؟ ہونہار طالب علم کی بجائے ڈوگر حمید کی بیٹی جیسے طلباء کا مستقبل سنوار کر اصل حقدار کی زندگی برباد کی جاتی ہے کیوں؟ پاسپورٹ دفاتر میں ویری فیکیشن کے نام پر ہزاروں روپے لوٹے جاتے ہیں کیوں؟ ۔ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں وہی ذخیرہ اندوزی کو کاروبار سمجھ کا اپنے لئے حلال کر رہے ہیں کیوں؟ ایکسائز کے دفتر میں ایک غریب آدمی اپنی پرانی کھٹارا موٹر سائیکل کے کاغذات بنوانے جاتا ہے تو اس کی فائل غآئب ہوجای ہے کیوں؟ ایک چھوٹا آدمی براہ راست انسپکٹر سے نہیں مل سکتا تو وہ وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم سے کیسے مل سکتا ہے کیوں؟ زناکار کو عدالت میں چار پانچ ہزار کے عوض چھوڑ دیا جاتا ہے کیوں؟ چور کا ہاتھ کاٹنے کی بجائے اسے قید کردیا جاتا ہے اور جب وہ نکلتا ہے تو اس سے بھی بڑا چور بن جاتا ہے کیوں؟
کیوں کہ جمہوری نظام انسان کی بقاء کے الٹ ہے۔ اگر ہم یورپ میں جمہوری نظام کی بات کریں تو وہاں تو جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔کوئیgayرائٹس دے رہا ہے تو کوئی مرد سے مرد کی شادی کے قوانین بنارہا ہے جمہوری نظام میں اگر جمہور کی رائے غیر شرعی ہوگی تو اس کی اجازت دی جائیگی جو بلکل غلط ہے
برادرم معاف کیجئے گا میں ایسی جمہوریت نہیں چاہتا۔

خلافت کے لیئے خلفیہ کہاں سے لاؤگے ۔۔۔۔ ؟
جس معاشرے کی بات کر رہے ہو وہاں تو ایسا خلیفہ دریافت ہونے سے رہا جس کا خاکہ کھنیچ رہے ہو ۔
تو بس امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کرو کہ وہی آکر خلافت کا یہ منصب سنھبالیں گے ۔ ورنہ فرشتے تو انسانوں میں پیدا ہونے سے رہے ۔
برادرم مجھے بھی معاف فرمایئے گا میں بھی ان خیالی خلافتوں پر یقین نہیں رکھتا ۔ جن کا ظہور اس زمین پر ناممکن ہے ۔
 
امریکہ میں حالیہ صدارتی الیکشن میں کامن ووٹ کا تناسب 53 اور 46 فیصد رہا ۔ یعنی 46 فیصد امریکنز نے اوبامہ کو مسترد کردیا ۔ مگر امریکہ کے نظم کے سلسلے میں نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے میری پوسٹ غور سے نہیں پڑھی ۔ جمہوریت کا اصل مقصد اقتدار کی منتقلی پُرامن طریقے سے کرنا ہے ۔ جوکہ پہلے خونریزی سے ہوتا تھا ۔ شاید آپ جمہوریت کی اس اصل روح کو نظر انداز کرگئے ۔
میری پوسٹ آپکے پیغام کے سلسلے میں نہیں تھی۔ ۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس اس وقت اپنی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اس سے بہتر کوئی اور متبادل نظام بھی نہیں ہے۔:confused:
 

ظفری

لائبریرین
اور ایک بات کہی آپ نے کے ان کی بنائی ہوئی اشیاء ہم استعمال کر سکتے ہیں تو ہمارے سامنے آپ صلعم کی زندگی کا نمونہ موجود ہے ۔ یہودیوں کو خط و کتابت کے لئے یہودی مامور تھا جس پر آپ صلعم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ان کی زبان سیکھ لو کیا پتہ یہ کیا لکھ رہا ہے۔
تو اسی طرح ٹیکنالوجی میں بھی اس جمہوری نظام کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں ۔ کہ انہیں بروقت اپنایا نہیں جاتا ہے

بڑی دلچسپ دلیل آپ نے دی ۔ مجھے امید ہے کہ آپ برا نہ منائیں گے کہ اس بات کے علاوہ میں نے جہاں جہاں ، جو جو باتیں آپ کی اب تک پڑھیں ہیں ۔ ان پر آدمی صبر تو کرسکتا ہے مگر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا ۔ لہذا مجھے تو آپ معاف ہی رکھیں ۔
 

dxbgraphics

محفلین
خلافت علی منہاج نبوت کی بات آپ نے کہیں سے پڑھ تو لی ہے لیکن بندہِ خدا تھوڑا سوچ بھی لیتے ہیں۔ ۔ یہ نظام کہیں باہر سے نافذ نہیں ہوتا۔ ۔ جب آپ لوگ بدل جائیں گے تو آپکا نظام بھی بدل جائے گا

جب لوگ بدل کر اسلامی نظام کی کوشش کرتے ہیں تو آپ لوگ دہشت گرد کہتے ہیں ان کو۔
اسلام میں اہل رائے سے رائے لی جاتی ہے اور جمہوریت میں ہر کوئی رائے دیتا ہے ۔۔۔ زمین آسمان کا فرق ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
میری پوسٹ آپکے پیغام کے سلسلے میں نہیں تھی۔ ۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس اس وقت اپنی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اس سے بہتر کوئی اور متبادل نظام بھی نہیں ہے۔:confused:
ایسی بات ہے تو میں معذرت خواہ ہوں کہ تسلسل کی وجہ سے میں آپ کی پوسٹ کو اپنی پوسٹ پر تبصرہ سمجھا ۔
آپ کا آخری جملہ صداقت پر مبنی ہے ۔ علامہ اقبال کا بھی یہی نکتہِ نظر جمہوریت کے لیئے تھا ۔
 

dxbgraphics

محفلین
یہ سب کیسے ہوگا۔ کوئی خاکہ آپ کے ذہن میں ہو۔ جو عام ان پڑھ آدمی کے ذہن میں بھی سمایا جاسکے
 

عسکری

معطل
خلافت مر گئی اب گڑے مردے اکھاڑنا بے وقوفی کی انتہا اور موجودہ دنیا کو ریورس کرنا ہے جو خون ریزی اور تباہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دے گی۔اور رہی خلافت کی تاریخ تو یاد کر کے بتائیں جتنے اچھے خلیفہ گزرے اس سے کہین زیادہ شرابی زانی اور ڈاکو بھی خلیفہ بنے تھے۔ہائے میرے خوابوں میں رہنے والے پاکستانی پاکستان جمہوریت سے بنا خلافت کا جنازہ اس وقت اٹھ چکا تھا۔:whistle:
 
Top