اسرائیلی سائنسدانوں کا کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ

جاسم محمد

محفلین
اسرائیلی سائنسدانوں کا کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ
215248_8971491_updates.jpg

ہمیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں کامیابی ملی ہے، آئندہ 3 ماہ میں ویکسین کو انسانوں پر استعمال کیلئے تیار کرلیا جائے گا، اسرائیلی وزیر— فوٹو: یروشلم پوسٹ

اسرائیلی وزارت سائنس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر میں ہزاروں افراد کی موت کا سبب بننے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرلی ہے۔

بھارتی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اوفیر اکونیس کا کہنا ہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنےمیں کامیابی ملی ہے، آئندہ 3 ماہ میں ویکسین کو انسانوں پر استعمال کیلئے تیار کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں ’دی گلیلی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ (میگل) کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مجھے امید ہے کہ اس معاملے پر مزید تیزی سے پیش رفت ہوگی اور ہم عالمی خطرہ بننے والے کورونا وائرس کو روکنے کے اہل ہوسکیں گے۔

اخبار کے مطابق میگل کے سائنسدان گزشتہ 4 برسوں سے انفیکشیس برونکائٹس وائرس (آئی بی وی) کی ویکسین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کہ مرغیوں کے نظام تنفس کو متاثر کرنے والی بیماری ہے۔

215248_3243719_updates.jpg

جب سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے ڈی این اے کا مشاہدہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ مرغیوں میں موجود کورونا وائرس اور انسانوں میں موجود کورونا وائرس میں کافی حد تک جینیاتی مماثلت موجود ہے— فوٹو: یروشلم پوسٹ

رپورٹ کے مطابق اس ویکسین کی جانوروں پر کامیاب جانچ ہوچکی ہے جس میں اس کی مؤثریت ثابت ہوچکی ہے۔

میگل کے بائیو ٹیکنالوجی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر چین کاٹز کا کہنا ہے کہ ’ہماری بنیادی منصوبہ کسی خاص قسم کے وائرس کی ویکسین تیار کرنا نہیں بلکہ ایسا طریقہ کار یا ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جس سے اس قسم کے وائرس سے نمٹا جاسکے‘۔

کاٹز کا کہنا ہے کہ ’اسے خوش قسمتی کہہ لیجئے کہ ہم نے اپنی ٹیکنالوجی کو درست ثابت کرنے کیلئے ماڈل کے طور پر کورونا وائرس کو ہی منتخب کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ جب سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے ڈی این اے کا مشاہدہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ مرغیوں میں موجود کورونا وائرس اور انسانوں میں موجود کورونا وائرس میں کافی حد تک جینیاتی مماثلت موجود ہے اور دونوں ہی میں یہ وائرس انفیکشن کا ایک جیسا مکینزم استعمال کرتا ہےجس کی وجہ سے اس بات کے امکانات کافی حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ہم انسانوں میں کورونا وائرس کو روکنے کی ویکسین بہت جلد حاصل کرلیں گے۔

ڈاکٹر کاٹز نے کہا کہ ’ہمیں بس اپنے سسٹم کو نئے ترتیب سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، ہم اس عمل کے درمیان میں موجود ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں ویکسین ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو اس ویکسین سے کورونا وائرس کو روکا جاسکے گا‘۔

کاٹز کا کہنا ہے کہ میگل نیا ویکسین تیار تو کرلے گا لیکن اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنے سے قبل متعدد قانونی مراحل اور کلینکل ٹرائلز سے گزرنا ہوگا۔

اسرائیلی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ انہوں وزارت کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ہر طرح کی قانونی کارروائیاں جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ویکسین جلد از جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوسکے۔

میگل کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ زیگدون کا کہنا ہے کہ یہ دوا منہ سے کھانے والی ہوگی لہٰذا عام لوگوں تک باآسانی پہنچ سکے گی۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 82 ہزار 588 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 2 ہزار 814 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 33 ہزار 345 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

سب سے زیادہ 2747 ہلاکتیں چین، جنوبی کوریا میں 13، ایران میں 26 اور اٹلی میں 14 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
 

سین خے

محفلین
US biotec firm Moderna developed an experimental vaccine for covid19 in february.

Its different from traditional vaccines.

Typical vaccines for viruses, such as
measles, are made from a weakened or killed virus.

But the mRNA-1273 vaccine is not made from the virus that causes Covid-19.

Instead, it includes a short segment of genetic code copied from the virus that scientists have been able to make in a laboratory.

This will hopefully prime the body's own immune system to fight off the real infection.

The first human trial of this vaccine has started in US.

Coronavirus vaccine is ready for first tests, says Biotech company Moderna - CNN

Coronavirus: US volunteers test first vaccine
 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
پاکستان میں تھوڑا بہت بایوٹیکنالوجی میں بھی انویسٹ کر لینا چاہیے۔ اگر جوہری ٹیکنالوجی مقامی سطح پر بن سکتی ہے تو کچھ نہ کچھ طبی تحقیق کی تجربہ گاہوں پر بھی کام ہو سکتا ہے۔ کب تک دوسروں کی جانب دیکھنا پڑے گا ایسے حالات میں؟
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان میں تھوڑا بہت بایوٹیکنالوجی میں بھی انویسٹ کر لینا چاہیے۔ اگر جوہری ٹیکنالوجی مقامی سطح پر بن سکتی ہے تو کچھ نہ کچھ طبی تحقیق کی تجربہ گاہوں پر بھی کام ہو سکتا ہے۔ کب تک دوسروں کی جانب دیکھنا پڑے گا ایسے حالات میں؟
نسٹ والوں نے ایک تشخیصی کٹ تیار کی ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
جب تک ہم ڈاکٹر عطاء الرحمان اور ڈاکٹر عمر سیف اور ہر شعبے میں اس قبیل کے افراد سے فیض حاصل نہ کریں گے، رسوا اور نامراد ہی رہیں گے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جب تک ہم ڈاکٹر عطاء الرحمان اور ڈاکٹر عمر سیف اور ہر شعبے میں اس قبیل کے افراد سے فیض حاصل نہ کریں گے، رسوا اور نامراد ہی رہیں گے۔
حکومت کو اس وقت ڈاکٹر عطا الرحمان سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور انہیں 20 سال کے لیے ملک کا مستقل وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنانا چاہیے تب ہی اس ملک میں اصل تبدیلی آئے گی جس کے نتیجے میں ہم کنزیومر ملک سے نکل کر کچھ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔
 

زاہد لطیف

محفلین
اگر یہ سچ ہے اور یہ مان لیا جائے کہ اسرائیل دوا بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ اسے ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیتا ہے تو کیا پاکستانی مذہبی ٹریڈ مارکہ برادری اسے استعمال کرے گی یا مرنے کو ترجیح دے گی؟
 

فرقان احمد

محفلین
اگر یہ سچ ہے اور یہ مان لیا جائے کہ اسرائیل دوا بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ اسے ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیتا ہے تو کیا پاکستانی مذہبی ٹریڈ مارکہ برادری اسے استعمال کرے گی یا مرنے کو ترجیح دے گی؟
اسرائیلیوں کو کس نے بنایا؟ :) ہمیں تو بس، قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے!
 

فرقان احمد

محفلین
فی الوقت تو 79 برس پرانی دوا کلوروکوائن نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے موجود ملیریا کی اس دوا کے کورونا کے مرض میں مبتلا افراد کے حوالے سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کا نام لے کر اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ دیکھیے، کیا بنتا ہے!
 

فرقان احمد

محفلین
اتنی پرانی دوا رکھے رکھے خراب نہ ہوگئی ہوگی؟؟؟
تفنن برطرف! چین نے بیس سال قبل بنانا بند کر دی تھی۔ فروری میں پاکستان سے منگوائی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز کورونا کے مریضوں کو اول روز سے یہی دوا تجویز کر رہے ہیں۔ :)
 

سروش

محفلین

سروش

محفلین
Following published in 1997 about Chloroquine
Ann Trop Med Parasitol. 1997 Sep;91(6):591-602.
Chloroquine resistance in Pakistan and the upsurge of falciparum malaria in Pakistani and Afghan refugee populations.
Shah I1, Rowland M, Mehmood P, Mujahid C, Razique F, Hewitt S, Durrani N.
Author information
1
National Institute of Malaria Research and Training, Lahore, Pakistan. malaria@msfhni.psw.erum.com.pk
Abstract
Surveys conducted in Pakistan during the last decade show that falciparum malaria has become resistant to chloroquine in Pakistani and Afghan refugee populations throughout the country. Although RI resistance is common everywhere (with a frequency of 30%-84%), RII is rarer (2%-36%), and RIII resistance has yet to be detected. The national policy is to prescribe chloroquine as first-line treatment of malaria. A repeated in-vivo survey in a sentinel village indicated that prescription of chloroquine can lead to a 15% increase in the frequency of resistance in a single year, and similar trends were observed in other districts. Coinciding with the spread of resistance is a 6-fold increase in the number of falciparum cases recorded nationally between 1982 and 1992 and a parallel, 5-fold increase in the number of cases recorded in the Afghan refugee population. Resistance contributes to this trend in various ways. Firstly, patients with resistant malaria make repeated visits to health centres. In the sentinel village, for example, where resistance was measured at 71%, recrudescent infections inflated by 66% the genuine incidence of new infections recorded at the health centre. Secondly, owing to ineffective treatment, resistant infections are often still patent during the post-transmission season. This may enlarge the 'overwintering' parasite reservoir, leading to a surge of new cases when transmission resumes. Other factors potentially contributing to the upsurge in falciparum include the decrease availability of insecticide for indoor spraying. Despite the problems posed by resistance for case management, the evidence from the vector-control programme among the refugees is that malaria control through well-targeted campaigns of insecticide spraying is still able to reduce the incidence of falciparum malaria to a level that existed before the advent of resistance.
 

سید عمران

محفلین
تفنن برطرف! چین نے بیس سال قبل بنانا بند کر دی تھی۔ فروری میں پاکستان سے منگوائی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز کورونا کے مریضوں کو اول روز سے یہی دوا تجویز کر رہے ہیں۔ :)
آپ نے تو اولڈ از گولڈ کردیا!!!
 
Top