بھارتی فضائیہ کی ایل او سی کی خلاف ورزی، پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے بھاگ نکلے

مسٹر جاسم کیا آپ کا ارادہ پوری محفل کو محاذِ جنگ بنانے کا ہے؟ براہ مہربانی یہ یک طرفہ پراپیگنڈا بند کیجیے۔
کمزور دل افراد نا دیکھیں :)

بھائی محفل موضوعات کا مجموعہ ہے جو اردو میں لکھے جاتے ہیں، خدارا بیلنس رکھئے اور اردو ادب وغیرہ تھوڑا کم پوسٹ کیا کیجئے :) کسی کو مذہبی موضوعات پر اعتراض ہے اور کسی کو سیاسی اور جنگی گفتگو پر۔

ضرورت ہے کہ بے بنیاد تنقید کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
 
معاملہ سے متعلقہ کوئی باضابطہ خبر ہو تو یہاں بے شک پوسٹ کیجیے۔ باقی ٹوئٹر اور فیسبک سب کے پاس ہے۔ ہر ٹویٹ اور پوسٹ شئر کرنے کی ضرورت نہیں۔

فیس بک اور ٹوئیٹر پر کمنٹس کی تعداد کا اندازہ ہے جناب؟ اگر کوئی لنک یا مواد شئیر کرتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟
 
اگر یہ نیا قانون بنایا گیا ہے تو پن کردیں سرورق پر۔
جنگ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اس میں ٹرولنگ سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیس بک اور ٹوئیٹر پر کمنٹس کی تعداد کا اندازہ ہے جناب؟ اگر کوئی لنک یا مواد شئیر کرتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟
لنک اور مواد شئر کرنے پر قدغن نہیں، غیر سنجیدہ مواد کی بھرمار سے گریز کا کہا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کراچی کے مختلف علاقے کچھ گھنٹوں سے ہائی الرٹ پر ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارتی نیوی یا فضائیہ کراچی کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
لاؤڈ اسپیکر پر اعلان
 

جاسم محمد

محفلین
Govt unmoved by Pakistan PM Imran Khan's speech, face-off could escalate
‘Non-military’ raid: How India and Pakistan differ
پاکستان نے دو بار کھلے عام بھارت کو امن و مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ مگر دوسری طرف سے وہی سرد جواب کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت کا موقف ہے ان کے پاس ٹھوس انٹیلی جنس تھی کہ جیش محمد کے پاکستان میں مقیم کیمپ مزید خطرناک حملے کر سکتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے پاکستانی حدود کی خلاف وزری کی اور مبینہ کیمپ کو نشانہ بنایا۔( یعنی وہ محض انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آزاد و خودمختار ملک میں کاروائی کا حق رکھتے ہیں۔ )
لیکن اس حملے کے جواب میں پاکستان نے جوبھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ایک بھارتی جہاز مار گرایا۔ یہ بہت غلط کیا۔ ہم اسے "ایکٹ آف وار" تصور کرتے ہیں۔ (یعنی بھارت کو پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر کاروائی کا حق حاصل ہے، پاکستان کو نہیں ہے)

یہ تمام کا تمام منافقانہ بیانیہ اسرائیلی سرکار بنیامن نتانیاہو سے مستعار لیا گیا ہے۔ اسرائیل میں جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ فورا سے پہلے اپنے جنگی طیارے لے کر مبینہ دہشت گردوں کے کیمپ پر بمباری کیلئے روانہ کر دیتے ہیں۔ خواہ وہ غزہ ہو، لبنان ہو یا شام۔ ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود کی بالکل کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اور اس غیرقانونی کاروائی پران کو عالمی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
بھارت بعینہٖ اسی بیانیہ پر چل رہا ہے اور اقوام عالم سے اپنے مؤقف کی حمایت چاہتا ہے۔ یعنی پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر مبینہ دہشت گرد کیمپ پر حملے کو جائز قرار دیا جائے اور جو پاکستان نے بھارتی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اسے "ایکٹ آف وار" تصور کیا جائے۔
 

فرقان احمد

محفلین
کمزور دل افراد نا دیکھیں :)

بھائی محفل موضوعات کا مجموعہ ہے جو اردو میں لکھے جاتے ہیں، خدارا بیلنس رکھئے اور اردو ادب وغیرہ تھوڑا کم پوسٹ کیا کیجئے :) کسی کو مذہبی موضوعات پر اعتراض ہے اور کسی کو سیاسی اور جنگی گفتگو پر۔

ضرورت ہے کہ بے بنیاد تنقید کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
آپ کی بات مجموعی حوالے سے درست ہے۔ بے جا تنقید کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور اس حوالے سے ہمارا بھی یہی موقف ہے۔ تاہم، جیسا کہ تابش بھائی نے بھی اشارہ کیا ہے کہ ہمیں جنگی جنون کو پروان چڑھانے کے حوالے سے بہرصورت کسی قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے؛ مزید یہ کہ کسی ایک قوم کو مسلسل نشانے پر رکھ لینا بھی ٹھیک نہیں۔ بقیہ، مدیران و منتظمین جانیں اور مراسلہ نگار۔ ہم نے تو بس اپنی سی بات کر دی تھی۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
بھاج پا کی بلی تھیلے سے باہر آتے ہوئے!

D0eFJlBU4AU13Bq.png:large
 
کیا کسی محفلین نے جنگ بذات خود بھگت رکھی ہے یا کوئی جنگ زدہ علاقے میں وقت گزار چکا ہو !


شدید بچپن کے بات ہے کہ گاؤں میں دو فریقین ہمہ وقت حالتِ جنگ میں ہوتے تھے۔ اکثر گاؤں سے باہر زمین پر ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ ہوتی رہتی تھی کہ جس رات گولیوں کی آواز نہیں آتی صبح لوگ پوچھتے تھے سب ٹھیک تو ہے ناں۔ دو دفعہ گاؤں کے حد میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3 اموات اور 10 سے زائد بندے زخمی ہوئے۔
ان دنوں گاؤں کی حالت عجیب ہوتی تھی والدہ شام ہوتے ہی بستروں میں چھپا دیتیں تھیں۔ گاؤں میں کوئی چھابڑی والا تک نہیں آتا تھا کجا کوئی دوسری اکنامک ایکٹویٹی ہوتی۔ وغیرہ وغیرہ

اسی سے یاد آیا اسکو میں افسانے کی شکل بھی دے سکتا ہوں ;)
 

فرقان احمد

محفلین
جنگ وجدل سے تو ہمیشہ ہی پناہ مانگی جانی چاہیے۔ اس کی خواہش رکھنا یا حسرت کرنا بھی مناسب نہیں الا یہ کہ دشمن کی جانب سے جنگ مسلط کر دی جائے۔ ایسی صورت میں شجاعت کا مظاہرہ کرنا ہی زیبا ہے۔ تاہم، جنگ و جدل سے قبل حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔
 
شدید بچپن کے بات ہے کہ گاؤں میں دو فریقین ہمہ وقت حالتِ جنگ میں ہوتے تھے۔ اکثر گاؤں سے باہر زمین پر ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ ہوتی رہتی تھی کہ جس رات گولیوں کی آواز نہیں آتی صبح لوگ پوچھتے تھے سب ٹھیک تو ہے ناں۔ دو دفعہ گاؤں کے حد میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3 اموات اور 10 سے زائد بندے زخمی ہوئے۔
ان دنوں گاؤں کی حالت عجیب ہوتی تھی والدہ شام ہوتے ہی بستروں میں چھپا دیتیں تھیں۔ گاؤں میں کوئی چھابڑی والا تک نہیں آتا تھا کجا کوئی دوسری اکنامک ایکٹویٹی ہوتی۔ وغیرہ وغیرہ

اسی سے یاد آیا اسکو میں افسانے کی شکل بھی دے سکتا ہوں ;)
جنگوں میں ان گنت اموات ہوتی ہیں، لاکھوں مستقل معذور ہوجاتے ہیں، بیواؤں اور یتیم بچوں کی گنتی مشکل پڑ جاتی ہے، رہائش اور کھانے پینے کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ کھنڈر بنی عمارات اور جلی ہوئی گاڑیوں کا ایک انبار لگ جاتا ہے۔ ہر جنگ زدہ علاقے میں جنگ کے ختم ہو جانے کے بعد بھی ہزاروں ٹن ایمونیشن، گولہ بارود اور مائینز وغیرہ موجود رہتی ہیں جو وقتاً فوقتاً تباہ ہو کر مزید بربادی کرتی رہتی ہیں۔

جنگ نہایت بری چیز ہے، اس سے بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے۔
 
Top