سنہری اصول

bilal260

محفلین
میں خوش ہوں آپ بھی خوش رہے میری طرح۔
پریشان صرف آخرت کے لئے ہوا کریں اگر بندہ مر بھی جائے تو بیویاں دوسری شادی کر لیتی ہے کسی پر اعتبار نہیں سوائے اللہ عزوجل کے سب کچھ فانی ہے۔
سو پریشان نہ ہو chill karo yaar.
مرنے کے بعد صرف اور صرف نیک کام ساتھ دے گے اگر چہ وہ نیکی بیوی کے ساتھ ہی کی ہو اور میرا یہ گناہ بہت ہی بڑی نیکی ہے شاید آپ نے جانتے ہوں مزید پرائیوٹ چیٹ میں بات کی جاسکتی ہے۔مگر بہتر یہی ہے کہ مرے ہوئے مردے نہ کھودے جائے اور انجوائے کیا جائے۔
آپ کو یہ بتانا مقصود تھا یہ سچ ہے۔
 

bilal260

محفلین
میں ورکشاپ میں کام نہیں کرتا شو روم میں کام کرتا ہوں میں ایک راٹ آئرن سے بنانے والی انٹیرئیر کمپنی میں ،انٹیئریئر ڈیزائنر ہوں۔
آٹو کیڈ میں کام کرتا ہوں۔اپنا بتائیں آپ کون سی مزدوری کرتے ہیں۔
 

bilal260

محفلین
باتوں ہی باتوں میں کہیں ریٹنگ رہ گئی ہو تو پیشگی معزرت ہے۔کیونکہ یہ تھریڈ لمبا ہوتا جا رہا ہے۔
 

گل زیب انجم

محفلین
سنہرے اقوال---

ایک مرتبہ کسی نے شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ “بچوں کی تربیت کیسے کریں؟” انہوں نے فرمایا: جب بچے کی عمر 10 سال ہو جائے تو اسے اجنبی لوگوں میں مت بیٹھنے دیں۔ اسے اچھے اخلاق کی تعلیم دیں۔ غیر ضروری پیار اور شفقت نہ دیں، بڑوں اور اساتذہ کا ادب سکھائیں۔ اسے ہر حال میں استاد کی سخت بات سہنے کی نصیحت کریں۔ بچے کی تمام ضروریات پوری کریں۔ کچھ ایسا کریں کہ وہ اپنی کسی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف نہ دیکھے۔ پڑھائی کے شروع کے دنوں میں اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ تعریف کریں اور شاباش دیں، سختی کم سے کم کریں۔ بچے کو کوئی ہنر لازمی سکھانا چاہیے، اگر اس کے پاس ہنر ہو گا تو برے دنوں میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا”
 

گل زیب انجم

محفلین
میں ورکشاپ میں کام نہیں کرتا شو روم میں کام کرتا ہوں میں ایک راٹ آئرن سے بنانے والی انٹیرئیر کمپنی میں ،انٹیئریئر ڈیزائنر ہوں۔
آٹو کیڈ میں کام کرتا ہوں۔اپنا بتائیں آپ کون سی مزدوری کرتے ہیں۔
ماشاء اللہ جی اچھی فلیڈ ہے آپ کی
میں بس مزدوری ہی کرتا ہوں
 

گل زیب انجم

محفلین
شیخ سعدی نے ایک دفعہ
فرمایا کہ:
میرے 'اچھے وقت' نے 'دنیا' کو بتایا کہ
'میں' کیسا ھوں
اور
میرے 'بُرے وقت' نے مجھے بتایا
کہ
'دنیا'کیسی ھے
 

گل زیب انجم

محفلین
۱) جب انسان اپنی زندگی سے اکتا جاتا ہے تو وہ بلا خوف و خطر ہر بات کہہ دیتا ہے۔
(۲) تم زندگی کو غنیمت سمجھو! اور اس سے پہلے کہ تم اوپر بلائے جاؤ نیکی کی طرف رجوع ہوجاؤ۔
(۳) فتنہ انگیز سچائی سے ایسا جھوٹ بہتر ہے جس میں کسی کی بھلائی شامل ہو۔
(۴) انسان کی گفتار سے پہلے اس کے اوصاف اور عیوب چھپے رہتے ہیں۔
(۵) بُرا آدمی نیکیوں پر آمادہ ہو ہی نہیں سکتا۔
(۶) نا اہل کو تربیت دینا ایسا ہی ہے کہ جس طرح کسی گنبپر اخروٹ رکھنا۔
(۷) سانپ کو مارنا اور اس کے بچے کو بچانا دانائی نہیں ہے۔
(۸) بھیڑئیے کا بچہ بھی تو بھیڑیا ہی بنتا ہے، اگرچہ اس کی پرورش انسان ہی کرے۔
(۹) بد انسان کے ساتھ نیکی ایسے ہی ہے کہ جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کرنا۔
(۱۰) میری تمام زندگی نادانیوں میں گذری ہی، مگر تم بُرے کاموں سے پرہیز کرو۔
(۱۱) سب انسان ایک دوسرے اعضاء کے مانند ہیں، کیونکہ پیدائش میں ان کا جوہر ایک ہی ہے۔
(۱۲) جسے کسی دوسرے کا غم نہیں ہو انسانیت سے خارج ہے۔
(۱۳) وہ بیوقوف جو روزِ روشن میں کافوری شمع جلاتا ہے تو عنقریب دیکھے گا کہ ایک رات کو اس کی شمع میں تیل تک بھی نہ رہے گا۔
(۱۴) دوستی یہ ہے کہ برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئے۔
(۱۵) اگر برتر و اعلیٰ بننا چاہتے ہو تو فراغ دل بن جاؤ، کیونکہ جب تک تم دانہ نہ بوؤگے پھل حاصل نہیں کرسکتے۔
(۱۶) وزن اٹھانے والے گدھے اور بیل انسان بیزار آدمیوں سے بہتر ہیں۔
(۱۷) تم اگر اللہ سے بخشش کی امید رکھتے ہو تو تمہیں چاہئے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(۱۸) اگر میرے بغیر کسی کا کوئی کام ہوتا ہو تو مجھے اس میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہئے، مگر اس وقت بھی چپ رہوں جب کوئی اندھا یا محتاج ہو تو پھر گناہ کے ارتکاب کا خطرہ ہے۔
(۱۹) اگر روزی کا انحصار عقلمندی پر ہوتا تو بے وقوفوں سے بڑھ کر کوئی مفلوک الحال نہ ہوتا۔
(۲۰) جب کسی قوم میں سے ایک بیوقوفی کرتا ہے تو نہ چھوٹے کی عزت رہتی ہے اور نہ بڑے کی۔
(۲۱) سیاہ دل کو ہدایت کا وعظ کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ پتھر میں لوہے کی سلاخ نہیں دھنس سکتی۔
(۲۲) اپنے پیٹ کو کھانوں سے خالی رکھو، تاکہ اس میں اللہ کا نور دیکھ سکو، تو عقل سے اس لئے خالی ہے کہ کھانے سے تو ناک تک بھرا بیٹھا ہے۔
(۲۳) اگر تم نیک ہو اور لوگ تمہیں بُرا کہیں، یہ اس سے بہت اچھا ہے کہ تم بُرے ہو اور لوگ تمہیں اچھی کہیں۔
(۲۴) وہ عالم جو مطلب پرست ہو اور پیٹ بھرنے کے لئے کام کرے وہ خود رہبری کا محتاج ہے، کسی کی کیا رہنمائی کرے گا۔
(۲۵) اے بھائی! چونکہ انجام کار خاک ہونا ہے، اس لئے تم مٹی ہونے سے پہلے مٹی ہوجاؤ۔
(۲۶) جو شخص بیہودہ تکبر کرتا ہے وہی گردن کے بل گرتا ہے۔
(۲۷) جو شخص مطلبی اور خود غرض ہے وہ نہ تو کسی کا بھائی ہے اور نہ ہمدرد۔
(۲۸) جو تم سے وابستہ نہیں تمہیں اس سے وابستہ نہیں ہونا چاہئے۔
(۲۹) لوگوں کے احسان کے بوجھ سے اپنی محنت کی تکلیف بہتر ہے۔
(۳۰) کسی سے مدد مانگنے سے غربت و افلاس میں مرنا بہتر ہے۔
(۳۱) اگر تم کم خوراک پر گذارا کرنے والے ہو تو سختی کے دن آسانی سے گذار سکتے ہو۔
(۳۲) اُدھار گوشت کھاکر قصابوں سے ذلیل ہونے سے گوشت کی آرزو میں مرنا بہتر ہے۔
(۳۳) کمینوں کا احسان لے کر تم نے جو کچھ حاصل کیا اس کو پیٹ کا ایندھن بناکر اپنی جان عذاب میں ڈال لی۔
(۳۴) بھوک اور تنگی میں گذر اوقات کرنا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تو کسی کمینہ خصلت کے آگے دست سوال بڑھائے۔
(۳۵) جو کوئی خود کماتا ہے اس کو حاتم طائی کے احسان کی حاجت نہیں ہوتی۔
(۳۶) جب کوئی اپنے مقام سے گرجاتا ہے اس کو پھر کس بات کا غم تمام دنیا اس کی جگہ ہے۔
(۳۷) حرص اور لالچ کو چھوڑو اور شاہانہ دن گذارو، کیونکہ بے طمع انسان ہمیشہ سربلند رہتا ہے۔
(۳۸) اپنے تفکرات کا ذکر اپنے دشمن سے نہ کرو کیونکہ وہ دل میں خوشی محسوس کرتے ہوئے اظہار افسوس کرے گا۔
(۳۹) عقلمند آپس میں نہیں لڑتے اور نہ عقلمند آدمی کسی بے وقوف کے ساتھ۔
(۴۰) جب تک تمہاری حالت ہم جیسی نہ ہوجائے ہماری حالت تمہارے لئے سوائے کہانی کے اور کچھ نہیں۔
(۴۱) بات بے بات بحث اچھی عادت نہیں ہے۔
(۴۲) بزرگوں کو غلطی کا ذمہ دار ٹہرانا بھی غلطی ہی ہے۔
(۴۳) نادان کو نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی حبشی کو دھوکر سفید کرنے کی کوشش۔
(۴۴) ہر شخص غلطیوں کا پتلا ہے، دوسروں کو غلطیوں کا طعنہ دینا اچھا طریقہ نہیں ہے۔
(۴۵) اپنے سے بہتر انسان کی تلاش کرو اور اُسے غنیمت سمجھو، کیونکہ تم اپنے جیسے کے ساتھ زندگی ضائع ہی کرو گے۔
(۴۶) آہستہ روی سے منزل حاصل کرنا دوڑنے اور تھک جانے کی وہ سے راستے میں رہ جانے سے بہتر ہے۔
(۴۷) تم اگر کتّے کو سات بار بھی دریا میں دھوئے تو وہ اور زیادہ ناپاک ہوگا۔
(۴۸) بوڑھا ہوجانے پر بچپنے سے پرہیز کرو، ہنسی مذاق کو جوانوں کے لئے چھوڑدو۔
(۴۹) با ہنر آدمی جس جگہ جائے گا اس کی قدر ہوگی اور بے ہنر تنگ دست رہتا ہے۔
(۵۰) کسانوں کے عقل مند لڑکے اکثر بادشاہوں کے وزیر بن جاتے ہیں، مگر وزیروں کے کاہل اور بے عقل لڑکے کسانوں کے ہاں بھیک مانگتے دیکھے گئے ہیں۔
(۵۱) جو شخص بچپن میں تمیز نہیں سیکھتا بڑی عمر میں بھی اس کو تمیز نہیں آتی۔
(۵۲) جو شخص استاذ کی سختی نہ جھیل سکے اس کو زمانہ کی سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔
(۵۳) کم آمدنی میں خرچ بھی دھیان سے کرو، کیونکہ بے وقعت ہوجاؤ گے۔
(۵۴) جو اپنوں پر احسان کا رویہ نہیں رکھتا عقل مند اس سے دور ہی رہتے ہیں۔
(۵۵) دنیا کی دولت حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ کسی کا دل اپنے قابو میں کرلو۔
(۵۶) جو شخص کسی نا تجربہ کار کو بڑا ہم کام سونپ دے، عقلمندوں کے نزدیک مستحق ندامت ہے۔
(۵۷) علم حاصل کرنا اور عمل نہ کرنا تمہیں نادان بنائے گا۔
(۵۸) جاہلوں کی یہ نشانی ہے کہ جب ان کی دلیل نہ مائی جائے تو لڑنے مرنے پر اُتر آتے ہیں۔
(۵۹) مال و دولت زندگی کی آسائش کے لئے ہے، مگر زندگی اس لئے نہیں کہ انسان اپنی زندگی صرف مال و دولت اکٹھی کرنے میں گذار دے۔
(۶۰) اس سے خاموشی بہتر ہے کہ کسی کو ہمراز بناکر اس کو کہا جائے کہ کسی سے نہ کہنا۔
(۶۱) کمزور دشمن تمہارا دوست نہیں بن سکتا بلکہ وہ دوستی کی آڑ میں تمہارا بڑا دشمن بننا چاہتا ہے۔
(۶۲) دوستوں کو آپس کی اہم گفتگو میں احتیاط برتنا چاہئے، مبادا کوئی دشمن ہی سنتا ہو۔
(۶۳) جو شخص دشمنوں پر احسان کرتا ہے وہ گویا دوستوں کی دل آزاری کرتا ہے۔
(۶۴) اے عقلمند! ایسے دوست سے بچ جو تیرے مخالفین کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔
(۶۵) نہ تم اس قدر سختی کرو کہ لوگ تم سے تنگ آجائیں اور نہ اس قدر نرمی کہ تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھاکر تمہیں نقصان پہنچانے کی سوچنے لگیں۔
(۶۶) سختی اور نرمی برابر ہونا چاہئے، جس طرح جراح کہ چیرتا بھی ہے اور مرہم بھی لگاتا ہے۔
(۶۷) خبردار کسی خوشامدی سے تعریف کے متمنی نہ رہو، کیونکہ وہ تم سے نفع کا امیدوار ہے۔
(۶۸) ہر شخص کو اپنی عقل سب سے اعلیٰ اور اپنا بیٹا سب سے پیارا نظر آتا ہے۔
(۶۹) جو شخص طاقت کے دنوں میں کسی سے نیکی نہیں کرتا، ناتوانی کے دنوں میں سختی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
(۷۰) زندہ کو مارنا آسان ہے مگر مردہ کو زندہ کرنا ناممکن ہے۔
(۷۱) یا تو انسانوں کی اچھی باتیں کرو یا پھر جانوروں کی طرح خاموش رہو۔
(۷۲) ضروری نہیں کہ خوبصورت خوب سیرت بھی ہو۔
(۷۳) جب تم اپنے سے طاقتور سے زور آزمائی کروگے تو یہ تمہارے دشمن کے لئے امداد ہوگی۔
(۷۴) جو شخص عورتوں کے مشوروں پر عمل کرتا ہے وہ اپنی تباہی کا راستہ خود کھولتا ہے۔
(۷۵) فتنہ پردازوں پر سخاوت ظلم کے مترادف ہے۔
(۷۶) خونخوار شیر پر رحم کھانا بکریوں پر ظلم کے مترادف ہے۔
(۷۷) دانا عطار کی شیشی کی طرح خاموش، مگر صاحبِ ہنر ہوتا ہے۔
(۷۸) بے وقوف ڈھول کی مانند بلند آواز مگر اندر سے خالی ہوتا ہے۔
(۷۹) بے مروت مرد عورت کی مانند ہے اور لالچی عبادت گذار ڈاکوؤں کی مانند ہے۔
(۸۰) علم حاصل کرنے کے لئے خود کو گرانے سے عزت افزائی حاصل ہوتی ہے۔
(۸۱) جو شخص تم پر احسان کرے تم اس کی خاکِ پا بن جاؤ۔
(۸۲) جو شخص تمہارے ساتھ دشمنی کا سلوک کرے تم اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔
(۸۳) داناؤں کا قول ہے کہ حق شناس کتّا ناشکر گذار انسان سے بہت بہتر ہوتا ہے۔
(۸۴) اللہ کے دوستوں کی اندھیری رات بھی چمکتی ہے۔
(۸۵) بوڑھی بدکار عورت اور معزول عہدیدار گناہوں سے مردم آزاری سے توبہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟!
(۸۶) جو کمزروں پر رحم نہیں کرتا، طاقتوروں کے ظلم کا ضرور شکار ہوتا ہے۔
(۸۷) پھولوں کے گلدستہ سے میرے ’’گلستان‘‘ کا ایک ورق بہتر ہے، پھول تو جلد ہی مرجھا جائے گا مگر یہ گلستان تو ہمیشہ ترو تازہ رہے گا۔
(اقوال کا خزانہ)
(۱)سرداری تو فرمان کے قبول کرنے میں ہے رہی نافرمانی تو یہ محرومی کی علامت ہے ۔
(۲)جو شخص سچوں کی پیشانی رکھتا ہے تو وہ خدمت گزاری کے لئے سر کو جھکادیتا ہے ۔
(۳)اگر مخلوق کی جانب سے کوئی تکلیف کی بات تم تک پہونچے تو رنجیدہ نہ ہو بلکہ یقین کرلو کہ راحت و رنج در حقیقت مخلوق کی طرف سے نہیں پہونچتا ۔
(۴)دوست و دشمن کی مخالفت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھو کیونکہ دونوں کے دل اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔
(۵)جس خبر کے متعلق تم کو معلوم ہے کہ وہ دل آزار ثابت ہوگی تو خاموش ہی رہو تاکہ کوئی دوسرا اس کو پہونچائے ۔
 

bilal260

محفلین
11665534_463784797135126_1320449163329175730_n.jpg

میرے ساتھ یہ معاملہ ہواتھا۔یہ فیس بک سے لنک لیا ہے شاید چند دن بعد لنک چینج ہو جائے۔
 
سنہرے اقوال---

ایک مرتبہ کسی نے شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ “بچوں کی تربیت کیسے کریں؟” انہوں نے فرمایا: جب بچے کی عمر 10 سال ہو جائے تو اسے اجنبی لوگوں میں مت بیٹھنے دیں۔ اسے اچھے اخلاق کی تعلیم دیں۔ غیر ضروری پیار اور شفقت نہ دیں، بڑوں اور اساتذہ کا ادب سکھائیں۔ اسے ہر حال میں استاد کی سخت بات سہنے کی نصیحت کریں۔ بچے کی تمام ضروریات پوری کریں۔ کچھ ایسا کریں کہ وہ اپنی کسی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف نہ دیکھے۔ پڑھائی کے شروع کے دنوں میں اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ تعریف کریں اور شاباش دیں، سختی کم سے کم کریں۔ بچے کو کوئی ہنر لازمی سکھانا چاہیے، اگر اس کے پاس ہنر ہو گا تو برے دنوں میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا”
بہت خوب
 

گل زیب انجم

محفلین
اپنوں کے زخم:-
ایک دن سونے نے لوہے سے کہا
مار تو ایک ہی ہتهوڑی سے ہم دونوں کو پڑتی ہے
لیکن تم شور
بہت کرتے ہو
لوہے نے سونے کی بات
سن کر کہا
بات یہ ہے
جب
اپنے مارتے ہیں نا
تو
بڑی تکلیف
ہوتی ہے
 

گل زیب انجم

محفلین
اگر کچھ سیکهنا چاہو تو:-
• بلندی اور عظمت کا درس لینا چاہتے ہو تو پہاڑوں کی بلند وبالا چوٹیوں سے لو۔
• اتحاد کا درس لینا چاہتے ہو تو بارش کے قطروں سے لو۔
• سرسبز درختوں سے سیکھو کہ کس طرح دھوپ میں جل کر دوسروں کو سایہ دیا جاتا ہے۔
 
Top