پاکستان میں زلزلے: سب سے تباہ کن زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو آیا

116480-Earthquakefile-1366173194-610-640x480.jpg

آزادکشمیر، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد جاں بحق، لاکھوں بے گھر ہوئے

کراچی: دنیا میں قدرتی آفات کا سلسلہ جاری ہے، برفانی و سمندری طوفان، موسلادھار بارشیں، قیامت خیز زلزلے وقفوں وقفوں سے زمین پر قدرت کی مکمل بالادستی کا ثبوت دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی منگل کی دوپہر آنے والا زلزلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو قیام پاکستان سے قبل بھی اس خطے نے کافی زیادہ شدت والے زلزلوں کا سامنا کیا ہے جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور املاک و فصلوںکو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو آیا جب آزاد کشمیر، اسلام آباد، ایبٹ آباد، خیبرپختونخوا اور ملک کے بالائی علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت7.6 اور 7.8کے درمیان تھی۔
زلزلے سے ہونے والی تباہی کی شدت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے باسی ابھی تک اپنے گھروں میں صحیح طریقے سے رہنے کے قابل نہیں ہوئے۔2005 کے زلزلے میں تقریباًایک لاکھ افراد جاں بحق ہوئے، ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں افراد کو بے گھری کا عذاب بھی سہنا پڑا۔ اعدادوشمار کے مطابق اس سے قبل 21 اکتوبر 1909 کو بلوچستان کے علاقے سبی میں زلزلے سے کم از کم100 افراد جان سے گئے، زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر7 ریکارڈ کی گئی۔ یکم فروری1929 اور 24 اگست 1931 کو بھی بلوچستان کے ہی علاقوں سبی اور وادی شرگ میں زلزلہ آیا، اس کی شدت بھی 7تھی تاہم ان زلزلوں سے زیادہ جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
31 مئی 1935کو بلوچستان کے علاقے عالی جان3بج کر2 منٹ پر7.7 شدت کے زلزلے نے سیکڑوں گھر اجاڑدیے، اس بار مرنے والوں کی تعداد30ہزار سے60 ہزار کے درمیان تھی، اس کے علاوہ املاک اور انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان ہوا۔28 نومبر 1945 کو 7.8کی شدت کے زلزلے نے ایک بار پھر بلوچستان کو جھنجوڑدیا، اس سے4 ہزار افراد لقمہ اجل بنے ۔ قیام پاکستان کے بعد پہلا بڑا زلزلہ 28 دسمبر1974 کو آیا، اس سے وادی ہنزہ، سوات اور خیبرپختونخوا کے متعد علاقے شدید متاثر ہوئے۔
ریکٹر اسکیل پر6.2 شدت کے اس زلزلے نے ریکارڈکے مطابق 5300 افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا جبکہ17 ہزار افراد زخمی ہوئے۔29 اکتوبر 2008 کوبلوچستان کی وادی زیارت نے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے، اس زلزلے نے جس کی شدت6.2 تھی، کم ازکم 215افراد کی جان لی جبکہ تباہی کے نتیجے میں ایک لاکھ 20ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔
 

ام اریبہ

محفلین
8 اکتوبر 2005 والا زلزلہ تو قیامت تھا ۔۔۔اًس وقت میں اسلام آباد میں فلیٹ کی چوتھی منزل پہ تھی ۔۔یوں لگا کہ زندگی آج ختم ہے۔۔بچیاں سکول میں تھیں۔ہمارا ایک کزن محکمہ موسمیات میں جاب کرتا ہے ۔رات کو کیونکہ باہر سکول کے گراونڈ میں تھے اس لیے اس سے پوچھا کہ آج موسم کیسا ہے تو اس نے بتایا کہ بلکل صاف ہے کوئی مسلہ نہیں۔مگر تھوڑی دیر کے بعد کسی نے بتایا کہ ٹی وی پہ بتا رہے ہیں کہ بہت سخت طوفان آنے والا ہے ۔سب لوگ جلد جلد اندر سکول کے برآمدے میں چلے گئے۔۔اس کے بعد جو طوفان آیا نا قابل بیان ہے۔صرف ژالہ باری۔۔
 

ام اریبہ

محفلین
اس کے 4۔۔5۔۔۔دن کے بعد ہم اپنے اپنے گھر نہیں گئے۔پہلے ہم لوگ بھائی (ماہی کے تایا) کے گھر رہے پھر وہ لوگ ہمارے گھر رہے۔۔کچھ خوف دور ہوا تو اپنے اپنے گھر گئے۔۔پھر بھی سارا دن یوں گزرتا تھا کہ نہ جانے کس وقت کیا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

باسل احمد

محفلین
8 اکتوبر 2005ء کومیرا ایک امتحان تھا جس کے لیے میں بالکل بھی تیار نہ تھا۔ادھر سوالیہ پرچے تقسیم ہوئے اُدھر زمین نے اپنے تیور دکھانے شروع کر دئیے۔۔۔ہم سب طلبہ کلاس سے نکل کر وسیع میدان میں آگئے اور ہمارے کالج کی خوبصورت عمارت ایسے جھوم رہی تھی جیسے نشہ میں ہو اور ہماری زبانیں استغفراللہ کا مسلسل ورد کیے جارہی تھیں۔خیر قصہ مختصر ہمارا امتحان ملتوی ہو گیا۔:angel:
 

ام اریبہ

محفلین
8 اکتوبر 2005ء کومیرا ایک امتحان تھا جس کے لیے میں بالکل بھی تیار نہ تھا۔ادھر سوالیہ پرچے تقسیم ہوئے اُدھر زمین نے اپنے تیور دکھانے شروع کر دئیے۔۔۔ ہم سب طلبہ کلاس سے نکل کر وسیع میدان میں آگئے اور ہمارے کالج کی خوبصورت عمارت ایسے جھوم رہی تھی جیسے نشہ میں ہو اور ہماری زبانیں استغفراللہ کا مسلسل ورد کیے جارہی تھیں۔خیر قصہ مختصر ہمارا امتحان ملتوی ہو گیا۔:angel:
آپ کو تو خوف سے زیادہ خوشی ہوگی کہ امتحان ملتوی ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔:shock:
 
کوئی تو بات ہے!
8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے حوالے سے ایک نظم

بات کچھ اور ہے!
واقعہ یوں نہیں !
یوں نہیں ہے کہ ...
اک دم زمیں تھرتھرانے لگی
اور کہسار کی چوٹیاں ڈھے گئیں
اور اُن پر بسی بستیاں
دیکھتے دیکھتے
پتھروں کے سمندر میں یوں بہہ گئیں
جیسے خاشاک ہو!
یوں نہیں!!!
اہلِ ادراک!ایسانہیں!
بات کچھ اور ہے!
ہاں! ستم تھا رواکوئی ایسا کہ جو
میرے شایاں نہ تھا،تیرے شایاں نہ تھا!
ظلم ایسا کوئی ہو رہا تھا کہ جو
کوہساروں پہ بھاری پڑا!!!
کون جانے!
کسی بے نواکی فغاں ابن قاسم تلک
جب نہ پہنچی تو سوئے فلک چل پڑی!
یا ...
کہیں کوئی قارون اپنے خزانوں
کی بھاری کلیدوں تلے دب گیا!
یا ...
کوئی تاجرِ بے وطن
اہلِ ایکہ کی مکاریوں کا نشانہ بنا!
یا ...
سدومی کوئی، ایک سفاک بوڑھے کی
بھوکی ہوس کی غلاظت میں لتھڑا ہوا
اپنا چہرہ زمیں میں چھپانے کو بے چین ہو!
یا ...
کہیں ...
ان پہاڑوں کے دامن میں بہتی ہوئی اک ندی
کچی کلیوں کو موسم سے پہلے چٹکتے ہوئے دیکھ کر
دم بخود رہ گئی!
مرغ و ماہی کی آنکھیں بھی شیشہ ہوئیں
پتھروں کے کلیجے چٹخنے لگے
اور وہ اپنی جا سے کھسکنے لگے
کانچ کی کتنی گُڑیاں کسی بھاری پتھر سے کُچلی گئیں!
یا ...
کسی اژدہے کی سَمِیں پھونک
ارضی بہشتوں کی ساری فضا میں کوئی زہر سا بھر گئی
اور انسان رشتوں کی پہچان سے ناشناسا ہوا
ایک حیوان اور اِک ہوس رہ گئی!
دونوں مل کر ضمیرِ شرافت کے لاشے پہ ناچا کئے!
یا ...
کسی مصر کا حکمراں
اپنے قد، اپنی اوقات سے
ایسا نکلا کہ آدم کی اولاد
اُس کی نظر میں
پرِکاہ سے یا پرِ مُور سے بھی دَنی رہ گئی!
یا ...
مکیں اپنے سنگیں مکانوں، فصیلوں کو
فطرت کے قانون سے ماورا جان کر
بجلیوں، بادلوں، زلزلوں کا تمسخر اُڑانے لگے!
یا ...
قوانینِ فطرت سے بڑھ کر
کسی حاکمِ بابل و نینوا کے بنائے ہوئے
ضابطے محترم ہو گئے
اور انسان طبقوں میں بٹنے لگا!
یا ...
کتابِ ہدایت کتابِ حکایت بنا دی گئی
کاہنوں، جوگیوں،
سادھوؤں کا کہا محترم ہو گیا
اور حرفِ ہدایت کو ذہنوں سے
اس طرح کھرچا گیا
سوچ اِس طور بدلی
کہ ہر کعبۂ جاں کا سنگِ سیہ خود خدا ہو گیا
اور خدا آدمی سے جداہو گیا!
یا ...
پیامِ ہدیٰ کے فقط لفظ باقی بچے
اور روحِ ہدیٰ کھو گئی
قلبِ محراب میں اک ادا کار
اپنی اُپَج کے مطابق معانی کی بازیگری کر گیا
یا ...
کہیں اِک اَرِینا سجا!
اک طلائی قفس میں مقید
حسیں واہمے کے لئے
لوگ اپنی انا قتل کرنے لگے
جب انا مر گئی تو سوائے تعفن کے واں کچھ نہ تھا
صاحبو!
آخرش، یہ تو ہونا ہی تھا!
یہ جہاں بھی جہاں ہے مکافات کا!
ورنہ وہ
جس کی رحمت کسی حد میں آتی نہیں
وہ حوادث کو یوں راہ دیتا کبھی؟!
بات کچھ اور ہے!
جس پہ اتنی وعیدیں اتاری گئیں
کاش ہم جان لیں!
بات کوئی تو ہے!
کارواں اک پڑاؤ پہ آکر رکا تھا ذرا دیر کو
فکرِکم کوش نے راستہ کھو دیا
منزلِ عشق دل نے فراموش کی
ذوقِ عرفاں پہ حاوی شکم ہو گیا
گرگ و سگ آدمی سے ہویدا ہوئے
کرگسِ طمع کے تیز پنجے ہوئے
اور کنجشک پر خوف طاری ہوا
برگ و بر شاخساروں پہ لرزاں ہوئے
زندگی ڈر گئی!
تن کے زنداں میں جو روح تھی، مرگئی
شدتِ غم سے پتھر لرزنے لگے
ارضِ جاں پر بپا ہو گیا زلزلہ، کچھ نہ باقی بچا!
آنسوؤں کے خدا!
قلبِ انساں میں بھی ہو بپازلزلہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی
۴؍ نومبر ۲۰۰۵ء ... عیدلفطر ۱۴۲۶ھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

x boy

محفلین
کوئی تو بات ہے!
8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے حوالے سے ایک نظم

بات کچھ اور ہے!
واقعہ یوں نہیں !
یوں نہیں ہے کہ ...
اک دم زمیں تھرتھرانے لگی
اور کہسار کی چوٹیاں ڈھے گئیں
اور اُن پر بسی بستیاں
دیکھتے دیکھتے
پتھروں کے سمندر میں یوں بہہ گئیں
جیسے خاشاک ہو!
یوں نہیں!!!
اہلِ ادراک!ایسانہیں!
بات کچھ اور ہے!
ہاں! ستم تھا رواکوئی ایسا کہ جو
میرے شایاں نہ تھا،تیرے شایاں نہ تھا!
ظلم ایسا کوئی ہو رہا تھا کہ جو
کوہساروں پہ بھاری پڑا!!!
کون جانے!
کسی بے نواکی فغاں ابن قاسم تلک
جب نہ پہنچی تو سوئے فلک چل پڑی!
یا ...
کہیں کوئی قارون اپنے خزانوں
کی بھاری کلیدوں تلے دب گیا!
یا ...
کوئی تاجرِ بے وطن
اہلِ ایکہ کی مکاریوں کا نشانہ بنا!
یا ...
سدومی کوئی، ایک سفاک بوڑھے کی
بھوکی ہوس کی غلاظت میں لتھڑا ہوا
اپنا چہرہ زمیں میں چھپانے کو بے چین ہو!
یا ...
کہیں ...
ان پہاڑوں کے دامن میں بہتی ہوئی اک ندی
کچی کلیوں کو موسم سے پہلے چٹکتے ہوئے دیکھ کر
دم بخود رہ گئی!
مرغ و ماہی کی آنکھیں بھی شیشہ ہوئیں
پتھروں کے کلیجے چٹخنے لگے
اور وہ اپنی جا سے کھسکنے لگے
کانچ کی کتنی گُڑیاں کسی بھاری پتھر سے کُچلی گئیں!
یا ...
کسی اژدہے کی سَمِیں پھونک
ارضی بہشتوں کی ساری فضا میں کوئی زہر سا بھر گئی
اور انسان رشتوں کی پہچان سے ناشناسا ہوا
ایک حیوان اور اِک ہوس رہ گئی!
دونوں مل کر ضمیرِ شرافت کے لاشے پہ ناچا کئے!
یا ...
کسی مصر کا حکمراں
اپنے قد، اپنی اوقات سے
ایسا نکلا کہ آدم کی اولاد
اُس کی نظر میں
پرِکاہ سے یا پرِ مُور سے بھی دَنی رہ گئی!
یا ...
مکیں اپنے سنگیں مکانوں، فصیلوں کو
فطرت کے قانون سے ماورا جان کر
بجلیوں، بادلوں، زلزلوں کا تمسخر اُڑانے لگے!
یا ...
قوانینِ فطرت سے بڑھ کر
کسی حاکمِ بابل و نینوا کے بنائے ہوئے
ضابطے محترم ہو گئے
اور انسان طبقوں میں بٹنے لگا!
یا ...
کتابِ ہدایت کتابِ حکایت بنا دی گئی
کاہنوں، جوگیوں،
سادھوؤں کا کہا محترم ہو گیا
اور حرفِ ہدایت کو ذہنوں سے
اس طرح کھرچا گیا
سوچ اِس طور بدلی
کہ ہر کعبۂ جاں کا سنگِ سیہ خود خدا ہو گیا
اور خدا آدمی سے جداہو گیا!
یا ...
پیامِ ہدیٰ کے فقط لفظ باقی بچے
اور روحِ ہدیٰ کھو گئی
قلبِ محراب میں اک ادا کار
اپنی اُپَج کے مطابق معانی کی بازیگری کر گیا
یا ...
کہیں اِک اَرِینا سجا!
اک طلائی قفس میں مقید
حسیں واہمے کے لئے
لوگ اپنی انا قتل کرنے لگے
جب انا مر گئی تو سوائے تعفن کے واں کچھ نہ تھا
صاحبو!
آخرش، یہ تو ہونا ہی تھا!
یہ جہاں بھی جہاں ہے مکافات کا!
ورنہ وہ
جس کی رحمت کسی حد میں آتی نہیں
وہ حوادث کو یوں راہ دیتا کبھی؟!
بات کچھ اور ہے!
جس پہ اتنی وعیدیں اتاری گئیں
کاش ہم جان لیں!
بات کوئی تو ہے!
کارواں اک پڑاؤ پہ آکر رکا تھا ذرا دیر کو
فکرِکم کوش نے راستہ کھو دیا
منزلِ عشق دل نے فراموش کی
ذوقِ عرفاں پہ حاوی شکم ہو گیا
گرگ و سگ آدمی سے ہویدا ہوئے
کرگسِ طمع کے تیز پنجے ہوئے
اور کنجشک پر خوف طاری ہوا
برگ و بر شاخساروں پہ لرزاں ہوئے
زندگی ڈر گئی!
تن کے زنداں میں جو روح تھی، مرگئی
شدتِ غم سے پتھر لرزنے لگے
ارضِ جاں پر بپا ہو گیا زلزلہ، کچھ نہ باقی بچا!
آنسوؤں کے خدا!
قلبِ انساں میں بھی ہو بپازلزلہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی
۴؍ نومبر ۲۰۰۵ء ... عیدلفطر ۱۴۲۶ھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اعلی جناب
 
آخری تدوین:
Top