تربت امام حسین رضی اللہ عنہ کا معجزہ

قیصرانی

لائبریرین
قیصرانی بھائی جان، آپ شاید بھول رہے ہیں کہ میں ایک بے دین مسلمان ہوں۔ میرے لیے تمام مذاہب، اور تمام فرق بالآخر انسانی ذہن کی تخلیق ہیں۔ اس لیے میں مذہب پر بات کرتے وقت اُس کے دنیاوی اور ثقافتی اظہار کو ہی مدِ نظر رکھتا ہوں۔ :) اور ان اظہارات کا اہم محرک یہی صدیوں کی جمع شدہ روایات ہے جن سے اس وقت دنیا کے کروڑوں لوگوں کی جذباتی وابستگی ہے۔
آپ نے ایک بات کی کہ یہ دین کی روایت ہے۔ میں نے بتایا کہ دین میں روایات نہیں ہوتیں۔ دین میں حلال اور حرام ہوتا ہے۔ روایات بعد کا اضافہ ہوتی ہیں۔ تاہم ان روایات کو عین دین قرار دے دینا اچھی بات نہیں :)
 

قیصرانی

لائبریرین
آپ نے ہمارے فرقے کے ایک اہم عبادت کو عہدِ جاہلیت سے ملا کر ہمارے جذبات کو بہت ٹھیس پنہچائی ہے
آپ اس اہم عبادت کو قرآن کی رو سے ثابت کر دیجئے۔ بات یہیں ختم ہو جائے گی۔ میں آپ سے دست بستہ معافی مانگ لوں گا
 

حسان خان

لائبریرین
آپ نے ایک بات کی کہ یہ دین کی روایت ہے۔

چلیں بذاتِ خود دین کی روایت نہیں، لیکن دین سے منسلک لوگوں کی روایات تو کہا جا سکتا ہے نا؟ مثلا ہو سکتا ہے مولود شریف بذاتِ خود دین کا حصہ نہ ہو، لیکن صدیوں سے مسلم دنیا مولودِ رسول مناتی آ رہی ہے۔ مساجد سجائی جاتی ہیں، بہترین نعتیہ کلام لکھا جاتا ہے، لوگ حضرت محمد (ص) سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، اور بیشتر لوگوں کی زندگی میں تو یہ دن بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اب اس طرح کی بے ضرر روایات کو دین سے ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
 

قیصرانی

لائبریرین
چلیں بذاتِ خود دین کی روایت نہیں، لیکن دین سے منسلک لوگوں کی روایات تو کہا جا سکتا ہے نا؟ مثلا ہو سکتا ہے مولود شریف بذاتِ خود دین کا حصہ نہ ہو، لیکن صدیوں سے مسلم دنیا مولودِ رسول مناتی آ رہی ہے۔ مساجد سجائی جاتی ہیں، بہترین نعتیہ کلام لکھا جاتا ہے، لوگ حضرت محمد (ص) سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، اور بیشتر لوگوں کی زندگی میں تو یہ دن بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اب اس طرح کی بے ضرر روایات کو دین سے ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
محترم میں نے اپنا نقطہ نظر بتایا ہے کہ ایک کام بہتر طریقے سے ہو سکتا ہے کیا اسے کم بہتر طریقے سے کرنا چاہیے؟ مثال دیتا ہوں

ایک طرف نبی پاک ص کے لئے نعت لکھی جاتی ہے، مولود پڑھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ
دوسری طرف گلی میں شیشے کا ایک بڑا سا شوکیس رکھا ہے جس میں حقہ، ایک گڑیا نما بچہ اور ایک اونٹ کا ماڈل بنا ہوا ہے

دونوں اسی ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ہوتے ہیں۔ کون سے طریقے کو پسند کریں گے؟
 

قیصرانی

لائبریرین
محترم میں نے اپنا نقطہ نظر بتایا ہے کہ ایک کام بہتر طریقے سے ہو سکتا ہے کیا اسے کم بہتر طریقے سے کرنا چاہیے؟ مثال دیتا ہوں

ایک طرف نبی پاک ص کے لئے نعت لکھی جاتی ہے، مولود پڑھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ
دوسری طرف گلی میں شیشے کا ایک بڑا سا شوکیس رکھا ہے جس میں حقہ، ایک گڑیا نما بچہ اور ایک اونٹ کا ماڈل بنا ہوا ہے

دونوں اسی ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ہوتے ہیں۔ کون سے طریقے کو پسند کریں گے؟
دوسری طرف کی مثال یہ ہے

5-2.jpg

1-6.jpg

3-5.jpg

4-2.jpg
 

میر انیس

لائبریرین
محترم میں نے صرف اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ آپ کو اگر لگتا ہے کہ میں بحث کسی اور طرف لے جا رہا ہوں تو آپ جواب نہ دیں یا میری پوسٹ کو رپورٹ کر دیں؟ زبردستی تو آپ مجھ سے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ اور جہاں تک میرے فرقے کی بات ہے تو محترم میں فرقے بازی کو ہی نہیں مانتا۔ آپ اویس قرنی کے بارے کوئی مستند روایت لے کر آئیں۔ اس بارے بھی کافی گڑبڑ ہے کہ ایسا کوئی کردار موجود تھا کہ نہیں۔ جس چیز کو عین اسلامی قرار دے رہے ہیں کیا وہ سنت سے واضح ہے؟ کوئی حدیث لائیں جس میں لکھا ہو کہ سینہ اپنا پیٹا جائے اور تکلیف دشمن کو ہو؟ البتہ بحث برائے بحث کرنی ہے تو بسم اللہ۔ میں ویسے ویک اینڈ کی وجہ سے فری ہوں۔ جم کر بحث ہو جائے گی
زبردستی اگر اپنی بات منوائی جاسکتی تو جو فرقہ اکثریت میں ہوتا وہ دوسروں کو زبردستی اپنے فرقے میں لے آتا ۔یہاں تو اتنا خون بہا کر بھی لوگوں کو حق سے نہیں پھرایا جاسکا ۔ دوسرے میں آپ سے کہ رہا تھا کہ میں نے تو دلائل دئے کہ اصل معجزہ کیا ہوتا ہے اور دلیل کے طور پر واقعات آج کل کے حوالوں سے دئے ہیں جو چیک کئے جاسکتے ہیں تو آپ بجائے ان سب باتوں پر دلائل دینے کے ماتم پر آگئے اگر میں بھی ایک ایسی بحث چھیڑ دوں جواب میں تو ظاہرہے آپ کے ہم مسلک کے محفلین کی دل شکنی ہوگی میں تو صرف اس بات کا خیال رکھ رہا تھا ۔ میں نے یہ کب کہا کہ یہ حدیث ہے کہ سینا اپنا پیٹا جائے اور تکلیف دوسرے کو ہو پہلے اچھی طرح پڑھ لیا کریں میرے بھائی ۔ بلکہ میں درخواست کروں گا کہ ایک بار اور پڑھ لیں یہ تو آیت اللہ خمینی کا ایک قول میں نے نقل کیا تھا جس میں آپ نے فرمایا تھا۔
میں چوم لوں ان آنکھوں کو جو غمِ حسین میں آنسو بہاتی ہیں اور میں چوم لوں ان ہاتھوں کو جو غمَ حسین میں سینوں پر پڑتے ہیں یہ ہاتھ در اصل سینوں پر نہیں بلکہ ظالم کے منہ پر طمانچہ کی صورت میں پڑتے ہیں ۔ اور یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ ماتم ہم کرتے ہیں اس سے تکلیف دوسروں کو ہی ہوتی ہے ورنہ اتنا شور نہیں کرتے۔
یہ بھی آپ لوگ خوب کہ دیتے ہیں کہ میں کسی فرقے کو نہیں مانتا ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ احادیث کی کتابوں میں بھی یہی سوچ غالب رکھیں ۔ احادیث کی کتابیں صرف چھ ہی نہیں ہیں بھائی ۔ بلکہ اہلِ تشیع کی چار مستند کتابیں اصول اربع ہیں اب اگر آپ اپنے قول میں سچے ہیں تو میں اصول اربع سے ماتم کو سنت ہونا ثابت کروں گا اور آپ کو فرقہ سے بالا تر ہوکر اسکو ماننا ہوگا۔ پر اس دھاگے میں نہیں کیوں کہ میں کبھی کسی بھی دھاگے کے اصل موضوع سے ہٹ کر دوسرے موضوع پر بات کرنے کی حمایت نہیں کرتا اور بھی نہیں ابھی میں سونے جارہا ہوں۔ انشاللہ کل
 

عدیل منا

محفلین
چونکہ یہ دھاگہ عدیل منّا نے شروع کیا ہے لہٰذا میں انہی سے مخاطب ہوکر یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے یہ سوال واقعی علم حاصل کرنے کیلئے کیا ہے یا محض شوشہ چھوڑ کر اور جھیل کی پرسکون سطح پر کنکر پھینک کر لہروں اور دائروں کا تماشا دیکھنے والی نفسیات کارفرما ہے؟
اگر مقصد دھماچوکڑی مچانا ہے تو معذرت کیونکہ بات کرنا محض وقت کا ضیاع ہوگا۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس قسم کے سوالات پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو چند باتوں کا طے کرنا ضروری ہے:
آپ کے نزدیک کسی بات کو جاننے یعنی اسکے متعلق تسلی بخش علم حاصل کرنے کی کیا کیا صورتیں ہوسکتی ہیں؟ یہ سوال اسلئیے پوچھا ہے تاکہ آپ سے اسی حوالے سے گفتگو کی جاسکے جسکو آپ تسلیم کرتے ہوں :)
محترم محمود احمد غزنوی صاحب! انسان جتنا بھی چاہے علم حاصل کرلے، کہیں نہ کہیں کوئی ایسی بات سامنے آجاتی ہے جس سے وہ لاعلم ہوتا ہے۔ سوال کرکے آپ احباب کو زحمت دینے کا مقصد واقعی اس کی حقیقت جاننا تھا، کسی بھی دھاگے پر گفتگو طے شدہ موضو ع پر کبھی نہیں رہی اور یہاں پر اب تک جس نوعیت کی بھی گفتگو ہوئی ہے اس سے آپ کے علم میں بھی کوئی نئی بات ضرور آئی ہوگی۔
 

میر انیس

لائبریرین
دروغ برگردنِ راوی، کچھ اس طرح کی سٹوری تھی کہ

بارہ ربیع الاول کو جو شخصیت پیدا ہوئی، اس کا ماڈل بنانے کی کوشش کی گئی تھی
نہیں ایسی بات ہر گز نہیں لگتی اگر ادھر گڑیا رکھنے کا مقصد یہی ہوتا تو پھر ایک کار اور ٹیڈی بئیر سے کیا مراد لی جاسکتی ہے ۔ یہ تو مجھ کو لگ رہا ہے کہ کسی نے اپنے انداز سے خوبصورتی پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو چیز اس وقت میسر ہوئی وہ رکھ دی اور اس کا تعلق کس سے ہے یہ نہیں سوچا گیا اب یہ الگ بات کہ جہالت کا رنگ نمایا ہوگیا
 

قیصرانی

لائبریرین
زبردستی اگر اپنی بات منوائی جاسکتی تو جو فرقہ اکثریت میں ہوتا وہ دوسروں کو زبردستی اپنے فرقے میں لے آتا ۔یہاں تو اتنا خون بہا کر بھی لوگوں کو حق سے نہیں پھرایا جاسکا ۔ دوسرے میں آپ سے کہ رہا تھا کہ میں نے تو دلائل دئے کہ اصل معجزہ کیا ہوتا ہے اور دلیل کے طور پر واقعات آج کل کے حوالوں سے دئے ہیں جو چیک کئے جاسکتے ہیں تو آپ بجائے ان سب باتوں پر دلائل دینے کے ماتم پر آگئے اگر میں بھی ایک ایسی بحث چھیڑ دوں جواب میں تو ظاہرہے آپ کے ہم مسلک کے محفلین کی دل شکنی ہوگی میں تو صرف اس بات کا خیال رکھ رہا تھا ۔ میں نے یہ کب کہا کہ یہ حدیث ہے کہ سینا اپنا پیٹا جائے اور تکلیف دوسرے کو ہو پہلے اچھی طرح پڑھ لیا کریں میرے بھائی ۔ بلکہ میں درخواست کروں گا کہ ایک بار اور پڑھ لیں یہ تو آیت اللہ خمینی کا ایک قول میں نے نقل کیا تھا جس میں آپ نے فرمایا تھا۔
میں چوم لوں ان آنکھوں کو جو غمِ حسین میں آنسو بہاتی ہیں اور میں چوم لوں ان ہاتھوں کو جو غمَ حسین میں سینوں پر پڑتے ہیں یہ ہاتھ در اصل سینوں پر نہیں بلکہ ظالم کے منہ پر طمانچہ کی صورت میں پڑتے ہیں ۔ اور یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ ماتم ہم کرتے ہیں اس سے تکلیف دوسروں کو ہی ہوتی ہے ورنہ اتنا شور نہیں کرتے۔
یہ بھی آپ لوگ خوب کہ دیتے ہیں کہ میں کسی فرقے کو نہیں مانتا ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ احادیث کی کتابوں میں بھی یہی سوچ غالب رکھیں ۔ احادیث کی کتابیں صرف چھ ہی نہیں ہیں بھائی ۔ بلکہ اہلِ تشیع کی چار مستند کتابیں اصول اربع ہیں اب اگر آپ اپنے قول میں سچے ہیں تو میں اصول اربع سے ماتم کو سنت ہونا ثابت کروں گا اور آپ کو فرقہ سے بالا تر ہوکر اسکو ماننا ہوگا۔ پر اس دھاگے میں نہیں کیوں کہ میں کبھی کسی بھی دھاگے کے اصل موضوع سے ہٹ کر دوسرے موضوع پر بات کرنے کی حمایت نہیں کرتا اور بھی نہیں ابھی میں سونے جارہا ہوں۔ انشاللہ کل
محترم جو احادیث قرآن سے متصادم نہیں، میں انہیں مانتا ہوں، چاہے وہ جس کتاب میں بھی ہوں۔ اگر ایک امام نے بہت ساری مبینہ احادیث کو بعد از تحقیق اس قابل نہیں مانا کہ وہ ان کی کتاب میں جگہ پا سکیں تو میرا نہیں خیال کہ کسی حدیث کے بارے تحقیق کرنے سے میرے ایمان پر فرق پڑے گا۔ تحقیق کے ضمن میں سب سے اہم ذریعہ قرآن پاک ہے

تاہم یہ بات واضح رہے کہ جو حدیث ہے وہ حدیث ہی ہے۔ جو حدیث نہیں وہ حدیث نہیں :) بشکریہ دوست بھائی

اہل تشیع کی کتب کو ماننے یا نہ ماننے کے سلسلے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ مجھے بھی حسان خان بھائی کی طرح کچھ عرصے تک اہل تشیع سے بہت لگاؤ رہا تھا اور ایک وقت آیا تھا کہ میں نے اہل تشیع ہونے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔۔۔ مجھے بھی یہ سوال تنگ کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت کے بعد بہت سارے جید صحابہ جیسا کہ حضرت بلال حبشی رض وغیرہ کا تذکرہ ایک دم سے اہل سنت کی کتب سے تقریباً غائب ہو جاتا ہے؟ تاہم جب کسی ایسے اہم معاملے پر آپ نے تحقیق کرنی ہو تو اس کے لئے جذبات اور عقائد کو ایک طرف رکھ کر کھلے دل اور کھلے دماغ کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے

چونکہ اب دھاگہ ایسی سمت جا رہا ہے جو شاید صاحبِ دھاگہ کو منظور نہ ہو یا شاید انہیں منظور ہو، اس لئے میں اپنی بات یہیں ختم کرتا ہوں۔ میر انیس اور حسان خان میری بات کا جواب دے سکتے ہیں۔ لیکن بہتر ہے کہ ان کے جوابات کے بعد یہ سلسلہ یہیں روک دیا جائے
 

فاتح

لائبریرین
میری پوسٹ سے غیر متفق کا بٹن دبا کر "تازہ خون" کے الفاظ کو اقتباس میں لے کر اسکا مذاق اڑایا گیا۔ حالانکہ یہ میں نے جہاں سے نقل کیے تھے اس کتاب کا مکمل حوالہ اور تمام باتوں کے کتب قدیمہ سے حوالے دیے۔ مجھ سے زیادہ با حوالہ بات تو اس پورے دھاگے میں کسی نے نہیں کی
میں آپ سے غیر متفق نہیں ہوا تھا بلکہ انھی حوالوں سے غیر متفق ہوا تھا کہ مجھے وہ سب جھوٹے واقعات لگے۔
اب فاتح صاحب نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے
وہ ایک بے دین آدمی ہیں ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں
شکریہ فاتح ۔۔۔ ۔ آپ نے جرات مندی سے خدا اور مذہب کا انکار کیا۔۔۔ مجھے اب کوئی پریشانی نہیں
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ میرے بلکہ دنیا میں کسی بھی شخص کے دیندار یا بے دین ہونے کا آپ سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ ویسے بھی "دین" کے معانی میں "عقائد و نظریات" بھی شامل ہوتے ہیں اور میرا عقیدہ بہرحال موجود ہے۔۔۔ میرے عقیدے کے مطابق خدا اور مذہب کا ڈھونگ "پاور گیم" ہے۔
مجھ میں اور مذہبی لوگوں میں یہی فرق ہے کہ میں جب بات کرتا ہوں تو ٹوپی ڈراموں کی بجائے حقائق اور ثبوت کی بات کرتا ہوں جب کہ مذہبی لوگ "ہمارے باپ دادا نے یہ کہا تھا، وہ لکھا تھا" کی رٹ لگائے ہوتے ہیں۔ میں صرف یہاں ہی کیا ہر جگہ یہی عرض کرتا ہوں کہ میری آنکھوں پر مذہب یا عقیدے کی پٹی باندھ کر عقلی دلائل، حقائق اور ثبوتوں کو چھپانے کی کوشش مت کرو۔ ایسے عجیب و غریب واقعات پیش کرتے ہو تو ان کا ثبوت دو اور سائنس کے ساتھ ثابت کر دو۔
میں صرف مذہب ہی نہیں بلکہ دیگر نام نہاد سائنسی و غیر سائنسی علوم کو بھی نہیں مانتا جن میں میٹا فزکس اور اسٹرولوجی جیسی بکواس شامل ہے جسے سائنسی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس دور کا جدید ترین مذہب "سائکالوجی" کو سمجھتا ہوں جو بعینہ مذہبی اعتقادات کی طرح انسان کے دماغ پر impose کی جاتی ہے اور جو شخص سائکالوجی کی ڈرا کی ہوئی لائنوں سے باہر ہو اسے ابنارمل قرار دے دیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے مذہب اپنی لائنوں سے باہر شخص کو کافر قرار دیتا ہے۔ سائکالوجی میں بھی انسانی دماغ میں chemical imbalance جیسی بے سر و پا اور من گھڑت بکواس شامل ہے۔ اگر انسانی رویے واقعی دماغ میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے باعث ہی بدلتے ہیں تو آج کے سائنسی ترقی کے دور میں تو کسی بھی کیمیکل امبیلنس کا انالیسس کرنا بآسانی ممکن ہے۔۔۔ مگر سائکالوجی میں انسانی دماغ کا کوئی پیتھالوجیکل ٹیسٹ، کیمیکل انالیسیس یا بایوپسی نہیں کروائی جاتی بلکہ مذہبی پیشواؤں کی طرح ایک شخص جسے سائکالوجسٹ کہا جاتا ہے، وہ اپنے نظریات کی بوچھاڑ کر کے لوگوں کو پاگل قرار دے رہا ہوتا ہے اور کیمیکل امبیلنسز کو وجہ بیان کر رہا ہوتا ہے لیکن جونہی بات عقل یا ثبوت کی کرو تو وہ گدھا دولتیاں جھاڑنے لگتا ہے۔
شاکر صاحب، آپ اپنی زندگی جییں اپنے عقائد کے ساتھ اور دوسروں کو ان کی زندگیاں جینے دیں۔
میں کون ہوں؟ تم کیا ہو؟ بتا کیوں نہیں دیتے​
یہ بارِ گراں سر سے ہٹا کیوں نہیں دیتے​
(خاکسار)​
کسی نے ویسے ہی میرے کان میں کہہ دیا تھا کہ آپ قادیان کے مدعی نبوت کو ماننے والے ہیں
اور آپ کے نام کی ترتیب و تدوین سے سرگوشی کرنے والے کی کسی حد تک تائید بھی ہو رہی تھی۔
آپ جیسے لوگوں کا مسئلہ ہی ہے کہ کانوں میں کی گئی سرگوشیوں کو اپنے ایمان اور عقائد کی بنیاد بنا لیتے ہیں۔
اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو باقی مذہبی پیشواؤں، رہنماؤں یا انبیا سے بہتر مانتا ہوتا تو مجھے ببانگ دہل یہ کہنے سے آپ سمیت کوئی نہ روک پاتا کیونکہ مجھ سے دیرینہ تعلق کی بنا پر یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ڈرتا میں کسی کے باپ سے بھی نہیں۔ :)
آپ نے تو محض سرگوشی ہی سن کر اسے ایمان کا جزو بنا لیا تھا مگر ہم تو "عین الیقین" کے درجے پر فائز ہیں کہ جب آپ ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے تھے تب آپ نے اپنی ایک ویڈیو ہماری ہارڈ ڈسک پر کاپی کی تھی جس میں درخت کی شاخوں کے سائے سے بننے والی اتفاقیہ بے سر و پا شکلوں کو آپ سمیت آپ کے گاؤں کے کافی لوگ اسم "اللہ" سمجھ کر چوما چاٹی اور پوجا کر رہے تھے۔ تب ہم ایمان لے آئے تھے آپ کی ضعیف الاعتقادی پر۔ اس ویڈیو کے لیے ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ ہم نے دو مختلف کانفرنسز میں اپنی پریزنٹیشن میں وہ ویڈیو شامل کی تھی اس ٹیگ کے ساتھ کہ we see what we want to see (ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں)۔ :)
 

یوسف-2

محفلین
مٹی کا کیمیائی تجزیہ کرا لیں۔
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا:)

ہمارے شہر کراچی میں جب ہمارے پیر صاحب بنفس نفیس موجود تھے تو ان کے ”دو معجزے“ بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اور اخبارات میں بھی ان کا چرچہ ہوا تھا
  1. کئی مساجد کے فرش پر لگی ٹائیلوں میں پیر صاحب کے چہرے کا عکس ابھر آیا تھا
  2. ایک گھر کے گملہ میں ایک ڈیکوریشن پودے کے پتے پر پیر صاحب کے چہرے کا عکس نمودار ہوا تھا، جس پر جامعہ کراچی کے شعبہ نباتیات کے اساتذہ نے ”تحقیق“ بھی کی تھی
اس قسم کے ”معجزے“ تاریخ کے ہر دور میں کہیں نہ کہیں ”وقوع پزیر“ ہوتے ہی رہتے ہیں۔:)
 

عسکری

معطل
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا:)

ہمارے شہر کراچی میں جب ہمارے پیر صاحب بنفس نفیس موجود تھے تو ان کے ”دو معجزے“ بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اور اخبارات میں بھی ان کا چرچہ ہوا تھا
  1. کئی مساجد کے فرش پر لگی ٹائیلوں میں پیر صاحب کے چہرے کا عکس ابھر آیا تھا
  2. ایک گھر کے گملہ میں ایک ڈیکوریشن پودے کے پتے پر پیر صاحب کے چہرے کا عکس نمودار ہوا تھا، جس پر جامعہ کراچی کے شعبہ نباتیات کے اساتذہ نے ”تحقیق“ بھی کی تھی
اس قسم کے ”معجزے“ تاریخ کے ہر دور میں کہیں نہ کہیں ”وقوع پزیر“ ہوتے ہی رہتے ہیں۔:)
کسی ایسی جگہ ابھرواتے جہاں ضرورت ہوتی جیسے کسی کا فرش خراب ہوتا ہا کسی کا کچا ہوتا تو ان عکسوں والے ڈیزائین کا بن جاتا ۔کسی کا بھلا ہو جاتا :rollingonthefloor:
 
Top