آتش بھاگو نہ مجھ کو دیکھ کے بے اختیار دُور (غلام حیدرعلی آتش )

طارق شاہ

محفلین
غزل
غلام حیدرعلی آتش
بھاگو نہ مجھ کو دیکھ کے بے اختیار دُور
اے کودکاں ! ابھی تو ہے فصلِ بہار دُور
مانندِ مرغِ قبلہ نُما پیشِ چشم ہے
وہ کعبۂ مُراد ہو ہم سے ہزار دُور
عیسیٰ نے نسخے میں تِرے بیمار کے لکھا
دردِ فراق کو، کرے پروردگار دُور
اے خضرِ راہِ منزلِ مقصود، الغیاث
چُھوٹا ہے مجھ غریب کا، مجھ سے دیار دُور
گردن نہ خم ہو شمع صفت، گو جہانیاں
تن پرسے میرے سرکو کریں لاکھ بار دُور
مضمون باندھ لاتی ہے فکر اپنی، عرش سے
ڈُھونڈھا ہے جب، تو ہم کو مِلا ہے شِکار دُور
رُوپوش ہے جو ناز سے اُس کا گلہ نہیں
نزدیک دل سے ہے، رہے آنکھوں سے یار دُور
کیفِ شراب میں ہے مزا فکرِ شعر کا
رکھتا پیادے سے ہے ارادہ سوار دُور
بنتی ہے جان پر جوحرارت سے عشق کی
کرتا ہوں آہ کھینچ کے دل کا بُخار دُور
تسکین کے لئے گئے منزل میں گور کی
پہنچے تڑپ تڑپ کے تِرے بے قرار دُور
وصلِ حبیب حاصلِ عمرِ عزیز ہے
وہ گلُ مِلے تو ہجر کا ہو خار خار دُور
فُرقت میں یار کے یہ سُخن تکیہ ہے مِرا
مخدُوم سے نہ اپنے ہو خدمات گزار دُور
پِیری میں ترکِ مے کا ارادہ نہ کیجیو
آتش صبوحی کرتی ہے شب کا خُمار دُور
غلام حیدرعلی آتش
 
Top