“ وفا “

عبدالجبار

محفلین
وفا ، اخلاص ، قربانی ، محبت
اب اِن لفظوں کا پیچھا کیوں‌کریں ہم
یہی کافی ہے ہم دُشمن نہیں‌ ہیں
وفاداری کا دعوٰی کیوں کریں ہم​
 

عمر سیف

محفلین
اِک شہرِ وفا کے بند دریچے آنکھیں میچے سوچتے ہیں
کب قافلہ ہائے خندہءِ گل کو ان راہوں سے گزرنا ہے
 

عمر سیف

محفلین
بے وفا با وفا نہیں ہوتا
ختم یہ فاصلہ نہیں ہوتا
کچھ تو مجبوریاں رہی ہونگی
یوں کوئی بےوفا نہیں ہوتا
 

شمشاد

لائبریرین
آرزو ہے وفا کرئے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرئے کوئی

گر مرض ہو دوا کرئے کوئی
مرنے والے کا کیا کرئے کوئی
(داغ دہلوی)
 

عمر سیف

محفلین
صدمے جھیلوں، جان پہ کھیلوں، اس سے مجھے انکار نہیں
لیکن میرے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں
 
Top