گوشوارہ

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
آپ کی نظم ایک اضطراب سا دیتی ہے۔یا شاید میں ہی حساس ہوں!
بہرحال اپنے معانی میں مجھے کبھی ساحر کی یاد دلاتی ہے اور اپنے انداز سے ابنِ انشاء کی۔
بہت خوبصورت۔خوبصورت ترین۔
شاید دونوں ہی باتیں ہیں ۔ کلام کا اثر ہونے کے لیے دل کا گداز ہونا بھی ضروری ہے ۔ تبھی پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹتا ہے۔
پذیرائی کے لیے بہت شکریہ! بہت ممنون ہوں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کچھ دن پہلے انسٹاگرام پہ ظہیر احمد ظہیر بھائی کا ہی ایک شعر جون ایلیا سے منسوب دیکھا تھا۔
20190510-200846.jpg
فہد اشرف ، اس کے علاوہ بھی میرے کئی اشعار جون ایلیا نے کہے ہیں ۔ میری ایک دو غزلیں فراز نے بھی کہی ہیں ۔ بس اب دو چار اشعار علامہ اقبال بھی کہہ دیں تو مجھے اطمینان ہوجائے گا کہ عمر بھر کی کمائی ر ائیگاں نہیں گئی۔لوگوں کے کام آگئی ۔ :censored:
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت اعلیٰ ۔۔۔ نہایت خوبصورت تخلیق ۔۔۔ کمال !
آج کسی نے ویڈیو کی شکل میں شیئر کیا تو تلاش یہاں تک لے آئی ۔۔۔
بہت شکریہ ، نوازش! داد و تحسین کے لیے بہت ممنون ہوں ۔
اس پرانے دھاگے کو سرِ فہرست لانے کے لیے آپ کا الگ سے شکریہ! اس بہانے مجھے کئی احباب کا شکریہ ادا کرنے کا موقع ملا ۔
 

زیک

مسافر
ارادہ یہ تھا کہ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں لکھا گیا تمام کلام جلد از جلد پوسٹ کرکے فارغ ہوجاؤں اور اس کام سے جان چھڑاؤں ۔ چنانچہ ہر روز آٹھ دس غزلیں وغیرہ پوسٹ کیا کرتا تھا
یعنی آپ کا طریقہ واردات بھی اصلاح سخن والوں کا سا تھا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اتنی روانی گویا ساتھ ساتھ بہتے چلے جائیں اور کہیں دور پہنچ جائیں۔۔
لاجواب نظم ہے ظہیر بھیا۔۔
بہت شکریہ، بہت نوازش، خواہرم !
ممنون کرم ہوں ، قرة العین صاحبہ! اللہ کریم آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔ شاد و آباد رہیں ۔
 

علی وقار

محفلین
گوشوارہ

کیا حال سنائیں دنیا کا ، کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں ، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں ، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ، اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں ، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں ، کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ ، کچھ ریت گھروندا چھوٹا سا
کچھ لوگ مثالِ ابر ِرواں ، کچھ اونچے درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک چہروں پہ اُچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں ، دوگام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ، کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے ۔ ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں ، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی ، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر ، جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں ، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے


ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۳
کس قدر گہرا مشاہدہ ہے، ما شاء اللہ۔ :) ابن انشاء کے نام سے کیوں کر نہ چلے گی کہ اس نظم میں کہیں نہ کہیں اُن کا رنگ موجود ہے۔ معلوم نہیں، یہ آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے یا ابن انشاء کے لیے! :)
 

کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ، کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے ۔ ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں ، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی ، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر ، جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں ، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے

سر سبحان اللہ! کیا روانی ہے ۔اسے کہتے ہیں استادوں کی لکھی ہوئی نظم۔
اور یہ آخری موڑ تو بہت پسند آیا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت سی داد کے لیے آپ کا بہت سا شکریہ! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے۔
آمین، جزاک اللہ و ایاکَ
ویسے اس نظم کے ساتھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہر قسم کا سلوک روا رکھا ہے ۔ کئی دوستوں کے توجہ دلانے پر اس نظم کا پہلا مصرع یوٹیوب پر تلاش کیاتھا تو بہت ساری وڈیوز سامنے چلی آئیں ۔ اکثر لوگوں نے تو میرا نام تک نہیں لکھا ۔ ایک کرم فرما نے اسے ابنِ انشا کا کلام کہہ کر وڈیو بنادی ہے۔ ایک دو خواتین نے اسے اسلامی شاعری کہہ کر بھی پڑھا ہے ۔
اچھی شاعری دراصل عوام کی ملکیت بن جاتی ہے۔ اب وہ جو چاہیں اُس کے ساتھ سلوک کریں۔ اگر اچھے شاعر کو معقول تعداد میں با ذوق مداح مل جائیں تو یہی اُس کے لئے بڑی بات ہے۔


سنجیدہ نظم کی یہ درگت دیکھ کر بہت مزا آیا ۔
اگر آپ بے مزہ بھی ہوتے، تب بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔ :) :) :)
 
گوشوارہ

کیا حال سنائیں دنیا کا ، کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں ، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں ، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ، اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں ، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں ، کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ ، کچھ ریت گھروندا چھوٹا سا
کچھ لوگ مثالِ ابر ِرواں ، کچھ اونچے درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک چہروں پہ اُچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں ، دوگام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ، کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے ۔ ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں ، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی ، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر ، جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں ، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے


ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۳
ظہیر بھائی ، بہت اچھی نظم ہے . کیا کہنے !
 

جاسمن

لائبریرین
کس قدر گہرا مشاہدہ ہے، ما شاء اللہ۔ :) ابن انشاء کے نام سے کیوں کر نہ چلے گی کہ اس نظم میں کہیں نہ کہیں اُن کا رنگ موجود ہے۔ معلوم نہیں، یہ آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے یا ابن انشاء کے لیے! :)
مجھے بہت اچھا لگا یہ پڑھ کے کہ کسی اور کو بھی ابنِ انشاء کے رنگ نظر آئے ۔:):):)
 

صابرہ امین

لائبریرین
اچھی شاعری دراصل عوام کی ملکیت بن جاتی ہے۔ اب وہ جو چاہیں اُس کے ساتھ سلوک کریں۔ اگر اچھے شاعر کو معقول تعداد میں با ذوق مداح مل جائیں تو یہی اُس کے لئے بڑی بات ہے۔
دل کی بات کہہ ڈالی آپ نے۔۔واقعی یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ باذوق لوگ سراہیں اور شاعری عوام میں مقبولیت کی سند حاصل کر جائے۔۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
ببہت خوبصورت نظم۔۔ آدمی نامہ کے بعد انسانوں کے حوالے سے اتنی شاندار شاعری پڑھی ہے۔ اللہ آپ کے قلم کو مزید قوت عطا فرمائے۔۔۔
یقین مانیے کہ اتنی متاثر کن لگی کہ اس نظم کو پڑھتے کئی اشعار تو ہم نے بھی کہہ ڈالے۔
ڈھیروں داد۔۔!!
 

صابرہ امین

لائبریرین
محترم استاذی ظہیراحمدظہیر ،
آپ کی نظم نے ذہن میں سوچوں کے کئی در وا کر دیئے۔
ملاحظہ کیجیے۔

اپنے جیون کا قصہ ہے
جس میں لوگوں کا حصہ ہے

اب تم کو سنائیں دل کی کہی
ایسی ہے کہانی لوگوں کی

کچھ لوگ بہت ہی اچھے تھے
کچھ لوگ بہت ہی سچے تھے

کچھ ساتھ چلے کچھ دور ہی تک
کچھ ہوں گے دل میں گور تلک

کچھ خوشیوں کا عنوان بنے
کچھ درد کا اک سامان بنے

کچھ جیت گئے ہم کو ہم سے
کچھ لوگوں سے ہم ہار چلے

کچھ بھولی بسری یاد کہیں
کچھ اب بھی دل سے گئے نہیں

کچھ لوگ ستاروں کی مانند
کچھ لوگ فلک کا چاند لگے

کچھ نے دل پر اک دستک دی
پھر دل میں آ کر بیٹھ گئے

وہ رشتے، ناطے، پیارے سب
اس وقت کی دھول میں گم ہیں اب

وہ جان سے پیارے لوگ سبھی
روتے ہیں جنہیں ہم برسوں سے

دل ڈھونڈتا رہتا ہے انکو
جو دیس پرائے جا پہنچے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کس قدر گہرا مشاہدہ ہے، ما شاء اللہ۔ :) ابن انشاء کے نام سے کیوں کر نہ چلے گی کہ اس نظم میں کہیں نہ کہیں اُن کا رنگ موجود ہے۔ معلوم نہیں، یہ آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے یا ابن انشاء کے لیے! :)
بہت شکریہ ، نوازش! بہت ممنون ہوں ۔
علی بھائی ، اعزاز کی بات یقیناً میرے ہی لیے ہے۔ ابنِ انشا کو اوائلِ عمر میں بہت پڑھا تھا سو کسی نظم میں ان کا رنگ جھلک جانا کچھ عجب نہیں ۔
 
Top