گل نے کِھل کے بکھر ہی جانا ہے- اختر ضیائی

عمران خان

محفلین
گل نے کِھل کے بکھر ہی جانا ہے
کشتِ جاں سے گزر ہی جانا ہے

جب بھی اس دشت شام غربت سے
جان چھوٹے گی ، گھر ہی جانا ہے

وقت ناسازگار ہے، پھر بھی
کچھ نہ کچھ کام کر ہی جانا ہے

رفتہ رفتہ یہ ساغرِ ہستی
تلخ صہبا سے بھر ہی جانا ہے

ہر گھڑی زندگی کا ماتم کیوں؟
آخر اک روز مر ہی جانا ہے

ہم نے مقصودِ بندگی زاہد!
احترامِ بشر ہی جانا ہے

بخت کی دھوپ چھاؤں کو ہم نے
اک فریبِ نظر ہی جانا ہے

روشنی کا سفیر ہے اختر
اس کو وقتِ سحر ہی جانا ہے

اختر ضیائی
 
Top