کیوں روٹھ گئے ہو یہ بتا کیوں نہیں دیتے؟ - شفیق خلش

کاشفی

محفلین
غزل
( شفیق خلش)

کیوں روٹھ گئے ہو یہ بتا کیوں نہیں دیتے؟
اب مجھ کو محبت کی سزا کیوں نہیں دیتے؟

جس پھول سے گل رنگ ہوئی جاتی ہیں راہیں
وہ پھول مرے دل میں‌کھلا کیوں نہیں دیتے؟

اقرار محبت ہے اگر جرم تو جاناں
مجرم ہوں، محبت کی سزا کیوں نہیں‌دیتے؟

جس باغ میں‌پھولوں کا تصور بھی نہیں‌ہے
اُس باغ کو تم آگ لگا کیوں نہیں دیتے؟

جس دل میں محبت کا کوئی پھول نہیں ہے
اُس دل میں کوئی پھول کھلا کیوں نہیں دیتے؟

وہ لفظِ محبت جو لکھا تھا مرے دل پر
وہ صفحہء ہستی سے مٹا کیوں‌نہیں دیتے؟

اب دل کو یقیں ہے نہ تصور ہے تمہارا
کس جگہ چھپے ہو یہ بتا کیوں‌ نہیں دیتے؟

زندہ ہوں کہ آؤ‌ گے مرے پاس کبھی تم
مر جاؤں محبت میں‌بتا کیوں نہیں دیتے؟
 

طارق شاہ

محفلین
غزل​
شفیق خلش​
عذابِ زیست کی سامانیاں نہیں جاتیں​
مری نظر سے وہ رعنائیاں نہیں جاتیں​
بچھڑ کے تجھ سے بھی پرچھائیاں نہیں جاتیں​
جو تیرے دم سے تھیں شنوائیاں، نہیں جاتیں​
گو ایک عمر جُدائی میں ہو گئی ہے بسر​
خیال وخواب سے انگڑائیاں نہیں جاتیں​
مُراد دل کی بھی کوئی، کہاں سے بھرآئے​
جب اِس حیات سے ناکامیاں نہیں جاتیں​
اک آرزو تھی جو حسرت میں ڈھل چکی کب کی​
مگرخیال سے شہنائیاں نہیں جاتیں​
ہزارمحفلِ خُوباں میں جا کے دیکھ لیا​
مِلی جو تُجھ سے ہیں تنہائیاں نہیں جاتیں​
زمانے بھر کی دُکھوں کا ہُوا ہے دل مَسْکن​
غموں کی مجھ پہ یہ آسانیاں نہیں جاتیں​
حُصول یارکے زُمْرے میں کچھ نُمایاں سے​
عمل نہ تھے، کی پشیمانیاں نہیں جاتیں​
دیےجو چارہ گروں نے، ہم آزما بھی چکے​
کسی بھی نسخے سے بیتابیاں نہیں جاتیں​
خلش، جو ہوتے مقدّر کا تم سکندر تو​
تمہاری زیست سے رعنائیاں نہیں جاتیں​
شفیق خلش​
 

طارق شاہ

محفلین
وارث صاحب اظہار پسندیدگی کے لئے ممنون ہوں
مطلع کے مصرع ثانی "میری نظر سے وہ رعنائیاں نہیں جاتیں"
میں "میری" ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے ہے، یہ
مری نظر سے وہ رعنائیاں نہیں جاتیں
ہے در اصل، ایڈیٹنگ مجھے نہیں نظر آیا کہ کس طرح کروں، اگر آپ درست کردیں تو مہربانی ہوگی

امیدورمحبت صاحبہ
خوشی ہوئی کہ غزل آپ کو پسند آئی ، اظہار خیال کے لئے تشکّر
 

طارق شاہ

محفلین
غزل
شفیق خلش
دوڑے آتے تھے مرے پاس صدا سے پہلے
اب وہ شاید ہی، کبھی آئیں قضا سے پہلے
عادتیں ساری عنایت کی بدل دیں اُس نے
اب تسلّی نہیں دیتے وہ سزا سے پہلے
روزوشب وہ بھی اذیت میں ہوئے ہیں شامل
یادِ جاناں میں جو رہتے تھے جُدا سے پہلے
خواہشیں ساری جو پنہاں ہیں مرے سینے میں
پوری ہونے کی نہیں تیری وفا سے پہلے
نازوانداز ہے کیا، حُسْن کے نخْرے کیا ہیں
کچھ بھی معلوم نہ تھا، اُن کی ادا سے پہلے
کھُل گئی وصْل کی شب اُن کی حقیقت ہم پر
کتنے معصوم سے لگتے تھے حیا سے پہلے
چا ہے جانے پہ ہی وہ ہوگئے بدنام خلش
کیا سزا پائی ہے نسبت کی خطا سے پہلے
شفیق خلش
 
Top