کینوس جا بجا پھٹا ہوا تھا - ایک نئی کاوش

وقت کی دھول میں اٹا ہوا تھا
کینوس جا بجا پھٹا ہوا تھا
گھر کے اندر نگاہ جاتی تھی
پردہ دروازے سے ہٹا ہوا تھا
وہ بھی یکسو نہ تھا محبت میں
دھیان میرا بھی کچھ بٹا ہوا تھا
دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
ظلمتِ شہر بڑھتی جاتی تھی
اور مرا حوصلہ گھٹا ہوا تھا
تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
ہاتھ بھی گام سے ہٹا ہوا تھا
زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا​

محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی توجہ کا طالب​
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
بہت خوب غزل ہے شکیل بھائی!

بہت سی داد قبول فرمائیے۔

وہ بھی یکسو نہ تھا محبت میں
دھیان میرا بھی کچھ بٹا ہوا تھا

دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا

تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
ہاتھ بھی گام سے ہٹا ہوا تھا

زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا

ان اشعار پر خصوصی داد قبول فرمائیے۔
 

سیما علی

لائبریرین
زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا
بہت اعلیٰ !!!
شکیل بھائی ! انتہائی صداقت سے بھرپور شعر !
سلامت رہیے ۔شاد و آباد رہیے۔
وہ بھی یکسو نہ تھا محبت میں
دھیان میرا بھی کچھ بٹا ہوا تھا
واہ جناب واہ !!
بہت پیاری بات کی ہے ۔بھرپور اظہار کیسے کیا اپنے دھیان
بٹننے کا۔۔
 
خوب غزل ،داد قبول فرمائیے
حوصلہ افزائی کا شکریہ سر
بہت اعلیٰ !!!
شکیل بھائی ! انتہائی صداقت سے بھرپور شعر !
سلامت رہیے ۔شاد و آباد رہیے۔

واہ جناب واہ !!
بہت پیاری بات کی ہے ۔بھرپور اظہار کیسے کیا اپنے دھیان
بٹننے کا۔۔
پذیرائی کا شکریہ بہن
 

عظیم

محفلین
اچھی غزل ہے بھائی محمد شکیل خورشید

دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
//یہاں میرا خیال ہے کہ پہلے مصرع کے 'میں' کو ہٹا کر 'کہ' لے آئیں، کچھ واضح بھی ہو جائے گا اور 'میں' کے دوہرائے جانے سے بھی بچا جا سکے گا

ظلمتِ شہر بڑھتی جاتی تھی
اور مرا حوصلہ گھٹا ہوا تھا
//یہ البتہ مجھ پر واضح نہیں ہوا اور 'اور مرا' میں اور کا 'ار' اور 'میرا' کی جگہ 'مرا' کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا۔
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے اگر مفہوم وہی رہے جو آپ کہنا چاہتے ہیں
//میرا بھی حوصلہ ..

کیا "گام" لگام کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے؟ میں تو گام کا مطلب رستہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس طرح گام سے ہاتھ کا ہٹنا کچھ غریب لگتا ہے

مقطع بطور خاص پسند آیا
 
آخری تدوین:
اچھی غزل ہے بھائی محمد شکیل خورشید

دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
//یہاں میرا خیال ہے کہ پہلے مصرع کے 'میں' کو ہٹا کر 'کہ' لے آئیں، کچھ واضح بھی ہو جائے گا اور 'میں' کے دوہرائے جانے سے بھی بچا جا سکے گا

ظلمتِ شہر بڑھتی جاتی تھی
اور مرا حوصلہ گھٹا ہوا تھا
//یہ البتہ مجھ پر واضح نہیں ہوا اور 'اور مرا' میں اور کا 'ار' اور 'میرا' کی جگہ 'مرا' کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا۔
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے اگر مفہوم وہی رہے جو آپ کہنا چاہتے ہیں
//میرا بھی حوصلہ ..

کیا "گام" لگام کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے؟ میں تو گام کا مطلب رستہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس طرح گام سے ہاتھ کا ہٹنا کچھ غریب لگتا ہے

مقطع بطور خاص پسند آیا
رہنمائی کا شکریہ عظیم بھائی!!
اس ناچیز کی مودبانہ وضاحت پیش ہے
گام کا ایک معنیٰ لگام بھی ہے، مجھے بھی کچھ شک ہوا آپ کے اعتراض کے بعد تو لغت دیکھ کر کنفرم کیا۔
ظلمت شب کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ گھٹ رہا ہے یہاں، باقی گستاخی معاف لیکن میرا بھی حوصلہ ۔۔۔۔ تو روانی مزید متاثر کر رہا ہے میری ناقص سمجھ کے مطابق
میں کی تکرار پر اعتراض درست لیکن اگر پہلے مصرعے میں میں کی جگہ کہ کر دیا جائے تو ابہام ہوجاتا ہے کہ کون دیکھتا تھا؟؟
 

الف عین

لائبریرین
گام کے معروف معنی تو قدم کے ہی ہیں، شاذ معنوں میں استعمال کرنا درست ہونے پر بھی میں پسند نہیں کرتا کہ کہاں ہر ایک کو حوالہ دیتے رہیں اپنے کو درست ثابت کرنے کے لئے! اس کی جگہ باگ لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
میں کی تکرار پر میرے خیال میں پہلا مصرعہ مکمل بدل دیا جائے، جیسے نظر آتا تھا...
اور پہلی بات یہ کہ مجھے اس قسم کی ردیفیں بھی پسند نہیں آتیں جن میں حروف علت کا زیادہ اسقاط ہو، خاص کر "ہوا" کو ہُوَ بنا دینا
پردہ دروازے سے ہٹا ہوا تھا
یہ بھی پرد، درواز کے اسقاط اور تنافر کی کیفیت کی وجہ سے دوبارہ فکر کرو
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
وقت کی دھول میں اٹا ہوا تھا
کینوس جا بجا پھٹا ہوا تھا
گھر کے اندر نگاہ جاتی تھی
پردہ دروازے سے ہٹا ہوا تھا
وہ بھی یکسو نہ تھا محبت میں
دھیان میرا بھی کچھ بٹا ہوا تھا
دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
ظلمتِ شہر بڑھتی جاتی تھی
اور مرا حوصلہ گھٹا ہوا تھا
تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
ہاتھ بھی گام سے ہٹا ہوا تھا
زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا​

محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی توجہ کا طالب​
واہ واہ واہ۔ بہت خوب
زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا
 
گام کے معروف معنی تو قدم کے ہی ہیں، شاذ معنوں میں استعمال کرنا درست ہونے پر بھی میں پسند نہیں کرتا کہ کہاں ہر ایک کو حوالہ دیتے رہیں اپنے کو درست ثابت کرنے کے لئے! اس کی جگہ باگ لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
میں کی تکرار پر میرے خیال میں پہلا مصرعہ مکمل بدل دیا جائے، جیسے نظر آتا تھا...
اور پہلی بات یہ کہ مجھے اس قسم کی ردیفیں بھی پسند نہیں آتیں جن میں حروف علت کا زیادہ اسقاط ہو، خاص کر "ہوا" کو ہُوَ بنا دینا

یہ بھی پرد، درواز کے اسقاط اور تنافر کی کیفیت کی وجہ سے دوبارہ فکر کرو
رہنمائی کا شکریہ استادِ محترم!!

آپ کی ہدایات کی روشنی میں یوں تبدیلیاں کی ہیں

گھر کے اندر نگاہ جاتی تھی
در سے پردہ ذرا ہٹا ہوا تھا

مجھ کو لگتا تھا راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
(اس شعر کی معنویت برقرار رکھنے کے لئے پہلے مصرعے میں واحد متکلم کا صیغہ آنا ضروری ہے میری ناقص سمجھ میں )

تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
باگ سے ہاتھ بھی ہٹا ہوا تھا

اب رہنمائی فرمائیں

جزاک اللہ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
وقت کی دھول میں اٹا ہوا تھا
کینوس جا بجا پھٹا ہوا تھا
گھر کے اندر نگاہ جاتی تھی
پردہ دروازے سے ہٹا ہوا تھا
وہ بھی یکسو نہ تھا محبت میں
دھیان میرا بھی کچھ بٹا ہوا تھا
دیکھتا تھا میں راستے گم ہیں
لوگ کہتے ہیں میں ڈٹا ہوا تھا
ظلمتِ شہر بڑھتی جاتی تھی
اور مرا حوصلہ گھٹا ہوا تھا
تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
ہاتھ بھی گام سے ہٹا ہوا تھا
زندگی اس سے مختلف تھی شکیل
ہم نے مکتب میں جو رٹا ہوا تھا​

محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی توجہ کا طالب​
بہت خوب! ا کئی چھے اشعار ہیں ، شکیل بھائی!
گام کا لفظ آپ نے البتہ ٹھیک استعمال نہیں کیا ۔اعجاز بھائی اس بارے میں لکھ چکے ۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے میرا یہ مراسلہ دیکھ لیجیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر وہ حرفِ علت جو گرایا جاسکے ضروری نہیں ہے کہ اس کا اسقاط ہر مقام پر درست ہوگا۔ آپ کی اس زمین میں قافیے کی وجہ سے "ہوا" کا الف بہت بری طرح گر رہا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ جب تک رٹا ہوا ، کٹا ہوا ، پھٹا ہوا ، بٹا ہوا وغیرہ کی بندشوں کو الف کی پوری ادائیگی کے ساتھ نہ بولا جائے تب تک شعر کی قرات ٹھیک نہیں ہوگی۔ردیف کے اس سقم کی وجہ سے آپ کی اس غزل کے سب اشعار داغدار ہو رہے ہیں ۔ اس سخن گستری کے لیے معذرت !
 
بہت خوب! ا کئی چھے اشعار ہیں ، شکیل بھائی!
گام کا لفظ آپ نے البتہ ٹھیک استعمال نہیں کیا ۔اعجاز بھائی اس بارے میں لکھ چکے ۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے میرا یہ مراسلہ دیکھ لیجیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر وہ حرفِ علت جو گرایا جاسکے ضروری نہیں ہے کہ اس کا اسقاط ہر مقام پر درست ہوگا۔ آپ کی اس زمین میں قافیے کی وجہ سے "ہوا" کا الف بہت بری طرح گر رہا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ جب تک رٹا ہوا ، کٹا ہوا ، پھٹا ہوا ، بٹا ہوا وغیرہ کی بندشوں کو الف کی پوری ادائیگی کے ساتھ نہ بولا جائے تب تک شعر کی قرات ٹھیک نہیں ہوگی۔ردیف کے اس سقم کی وجہ سے آپ کی اس غزل کے سب اشعار داغدار ہو رہے ہیں ۔ اس سخن گستری کے لیے معذرت !
رہنمائی کا شکریہ ظہیر بھائی
گام کے لفظ سے تو تصحیح میں رجوع کرلیا۔ آپ اوپر ملاحظہ فرمالیں۔
باقی ردیف میں الف کے اسقاط کے داغ کو میری زبان دانی کی کم فہمی سمجھ کر معذرت قبول فرمالیجیئے۔ اردو زبان اور شعر گوئی کے حوالے سے اپنی بنیادی تعلیمی خامیوں سے پوری طرح سے آگاہ ہوں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
رہنمائی کا شکریہ ظہیر بھائی
گام کے لفظ سے تو تصحیح میں رجوع کرلیا۔ آپ اوپر ملاحظہ فرمالیں۔
باقی ردیف میں الف کے اسقاط کے داغ کو میری زبان دانی کی کم فہمی سمجھ کر معذرت قبول فرمالیجیئے۔ اردو زبان اور شعر گوئی کے حوالے سے اپنی بنیادی تعلیمی خامیوں سے پوری طرح سے آگاہ ہوں
تیز تھی رخشِ عمر کی رفتار
باگ سے ہاتھ بھی ہٹا ہوا تھا

خوب ہے، شکیل بھائی! ویسے یہی مضمون غالب انہی الفاظ کے ساتھ پہلے کہہ گئے ہیں ۔
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
 
Top