کہانیوں، کرداروں اور مصنفین پہ بات چیت

جاسمن

لائبریرین
دیوتا میں نے بہت پڑھی لیکن ایک وقت آیا کہ چھوڑ دی۔ میری دلچسپی بھی نہ رہی۔ محی الدین نواب کا وہ انداز جو کبھی اچھا لگتا تھا، برا لگنے لگا۔
پھر پورا ڈائجسٹ پڑھ لیتی تھی، دیوتا چھوڑ دیتی تھی۔
محی الدین نواب نے دیوتا لکھی ۔۔۔ کہا کرتے تھے کوئی 100 صفحے پڑھ لے تو اسے چھوڑ نہیں پائے گا۔ میں نے سیکڑوں صفحات پڑھ ڈالے، لیکن چھوڑنی پڑی۔ لیکن اس میں لکھنے والے کا قصور نہیں تھا۔ آج بھی جہاں سے وہ کہانی پڑھو، آپ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ دیوتا ہی کیا، محی الدین نواب کی تمام ہی کہانیاں دلچسپ رہیں۔ بہت سے لوگوں کو ان سے فحش نگاری کا شکوہ بھی رہا، لیکن ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ وہ ناقدین کے کہنے پر اس سے ہٹنا گوارا نہیں کرتے تھے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
دیوتا میں نے بہت پڑھی لیکن ایک وقت آیا کہ چھوڑ دی۔ میری دلچسپی بھی نہ رہی۔ محی الدین نواب کا وہ انداز جو کبھی اچھا لگتا تھا، برا لگنے لگا۔
پھر پورا ڈائجسٹ پڑھ لیتی تھی، دیوتا چھوڑ دیتی تھی۔
دنیا کی طویل ترین کہانی، دیوتا کی آخری قسط بھی میں نے پڑھ ڈالی۔ یہ الگ بات کہ 70ء کی دہائی میں شروع ہونے والی یہ کہانی جب ہم نے پڑھنا شروع کی تو یہ 75 فیصد سے زائد لکھی جاچکی ہوگی۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
پھر کچھ یوں ہوا کہ یو ٹیوب پر ایک پلے لسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو دیوتا کی پہلی قسط سے شروع ہوتی ہے اور اب تک اس کی 500 سے اقساط آڈیو میں ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔ شروع شروع میں کچھ اقساط ہم نے سن لیں اور ایک ربط و تسلسل بننا شروع ہوا۔ پھر کچھ مصروفیات آئیں اور پھر جب کہانی سنی تو الگ لگی۔ پھر کچھ قسطیں چھوڑ چھوڑ کر سنی، لیکن دل نہیں لگا، تو چھوڑ دی۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
ایک صاحب نے عمران سیریز کے ابنِ صفی کے ناول بھی یوٹیوب پر آڈیو کی صورت میں اپ لوڈ کررکھے تھے۔ ہم نے بڑی دلجمعی سے جمع کیے اور جب سننا شروع کیا تو سنانے والے کا انداز پسند نہیں آیا۔ پھر بھی ایک کہانی سن کر چھوڑی ۔۔۔ لیکن پھر کچھ نہیں سنا۔
 

جاسمن

لائبریرین
دنیا کی طویل ترین کہانی، دیوتا کی آخری قسط بھی میں نے پڑھ ڈالی۔ یہ الگ بات کہ 70ء کی دہائی میں شروع ہونے والی یہ کہانی جب ہم نے پڑھنا شروع کی تو یہ 75 فیصد سے زائد لکھی جاچکی ہوگی۔
مجھے یہ تو نہیں یاد کہ کب پڑھنی شروع کی لیکن کہیں بیچ سے ہی شروع کی تھی۔ البتہ کتابی صورت میں آئی تو شروع کی اقساط بھی پڑھیں۔
 

ارشد رشید

محفلین
لیکن سب رنگ کی شکیل عادل زادہ کی بازیگر ڈائجسٹوں کی دنیا کا ایک شاہکار تھی - اتنی خوبصورت زبان اور اتنی مسحور کن داستان میں نے زندگی میں کبھی نہیں پڑھی -
اگر وہ ڈائجسٹ میں نہ چَھپا کرتی تو میں سمجھتا ہوں اردو افسانوی ادب میں اس سے بہتر کام کوئ اور شایدہوتا ہی نہیں -
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
سب رنگ کی کیا ہی بات تھی!
بھائی اعلان کرتا۔
۔۔۔! سب رنگ آ گیا ہے۔
تب سال کے سال یا کئی سال بعد آنے لگا تھا۔ میرے بھائی کو بھی بے حد پسند تھا۔ اور شکیل عادل زادہ کا انداز۔۔۔ سبحان اللہ!
 
اور سب رنگ ڈائجسٹ ہی میں جمیل احمد خان کی کہانی ۔۔اِنکا۔۔بھی خوب تھی اور خوب چلی ۔۔۔۔وہ کیا ہستیاں ہوں گی جو سب رنگ کے لیے کہانیوں کا انتخاب کرتی تھیں اور وہ کیا لوگ تھے جنکی طبعزاد کہانیاں اِس میں چھپتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بی بی سی لندن کا پروگرام ۔۔۔وے دن وے لوگ ۔۔۔یاد آگیا۔۔
 

ارشد رشید

محفلین
سب رنگ کے دنوں کی بہت سی باتیں شکیل عادل زادہ صاحب نے اپنے اکثر انٹرویوز میں کی ہیں جو یو ٹیوب پر بھی ہیں -
سنتے جائیے اور سر دھنتے جائیے
شکیل عادل زادہ ادب کی ایک بہت بڑی شخصیت ہیں مگر انہیں کبھی انکا صحیح مقام نہیں مل سکا
 

ارشد رشید

محفلین
ڈائجسٹوں کی دنیا سے ادب کے لوگوں نے سوتیلوں والا سلوک کیا ہمیشہ۔
صھیح یا غلط مگر ہماری ادبی تاریخ میں ڈائجسٹ کے ادیب اور فلمی شاعر ہمیشہ ایک درجہ کم تر ہی سمجھے جاتے رہے ہیں - یہ شائد ہمارے کلچر کا حصہ ہے
ادب کے ساتھ کسی بھی کاروباری سرگرمی (شو بز ) کو ہم ادب سے بے ادبی سمجھتے ہیں-
 

ارشد رشید

محفلین
جاسمن صاحبہ آپ کے نام کے آگے لائبریرن لکھا ہے اس لیئے آپ سے ہی پوچھ لیتا ہوں کہ مجھے ایک میسج اس سائٹ نے دیا کہ آپ کو ایک ٹرافی ملی ہے
جسکا نام ہے : نہ رکنے والا : سمجھ نہیں آیا کہ یہ میرا مذاق اڑا یا جارہا ہے یا تعریف کی جا رہی ہے -
کیا میں سائٹ پہ اِدھر اُدھر کچھ لکھنے سے باز آجاؤں؟
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
جاسمن صاحبہ آپ کے نام کے آگے لائبریرن لکھا ہے اس لیئے آپ سے ہی پوچھ لیتا ہوں کہ مجھے ایک میسج اس سائٹ نے دیا کہ آپ کو ایک ٹرافی ملی ہے
جسکا نام ہے : نہ رکنے والا : سمجھ نہیں آیا کہ یہ میرا مذاق اڑا یا جارہا ہے یا تعریف کی جا رہی ہے -
کیا میں سائٹ پہ اِدھر اُدھر کچھ لکھنے سے بعض آجاؤں؟
آپ کی تعریف کی جا رہی ہے۔۔۔ آپ نے شاید سو پچاس پیغامات ارسال کر لیے ہوں گے۔ آپ اپنے لکھنے کے عمل کو جاری رکھیے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
دیوتا میں نے بہت پڑھی لیکن ایک وقت آیا کہ چھوڑ دی۔ میری دلچسپی بھی نہ رہی۔ محی الدین نواب کا وہ انداز جو کبھی اچھا لگتا تھا، برا لگنے لگا۔
پھر پورا ڈائجسٹ پڑھ لیتی تھی، دیوتا چھوڑ دیتی تھی۔
میں نے دیوتا نہیں پڑھی۔ چھوٹے ہوتے جب جاسوسی اور سسپنس آتے تھے تو اماں کی طرف سے ہمیں اجازت نہ تھی پڑھنے کی۔ جب اجازت ملی تو پھر اور بہت کچھ تھا پڑھنے کو۔ اماں دیوتا کی ساری عمر قاری رہی ہیں۔ پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اماں نے اسے قسط وار ہی پڑھا ہے۔آج کل میری بڑی بہن ہما ڈائجسٹ کے بہت گن گاتی ہے۔ ریختہ پر پڑھ رہی ہے۔ کہتی ہے اسے پڑھو۔۔۔ سوچتا ہوں وقت نکال کر پڑھ ہی لوں ایک دو شمارے۔
 

علی وقار

محفلین
جاسمن صاحبہ آپ کے نام کے آگے لائبریرن لکھا ہے اس لیئے آپ سے ہی پوچھ لیتا ہوں کہ مجھے ایک میسج اس سائٹ نے دیا کہ آپ کو ایک ٹرافی ملی ہے
جسکا نام ہے : نہ رکنے والا : سمجھ نہیں آیا کہ یہ میرا مذاق اڑا یا جارہا ہے یا تعریف کی جا رہی ہے -
کیا میں سائٹ پہ اِدھر اُدھر کچھ لکھنے سے بعض آجاؤں؟
سر یہ تو کچھ نہیں، ذرا پانچ سو یا ہزار مراسلات ہو لینے دیں، اصل سرپرائز تو آپ کو تب ملے گا۔
 
کہانیاں سناتی ہے ، پَون آتی جاتی
ایک تھا دیا ایک باتی۔۔۔۔۔۔۔
آنجہانی آنندبخشی بھی کیا شاعر تھے ۔۔۔۔۔اُن کے لکھے فلمی گیت اُردُو/ہندی شاعری کا مان ہیں۔۔۔۔۔آل انڈیاریڈیو کی اُردُو سروس کے ایس ایم شفیق،اے جبار ،شکیل انجم
وغیرہم خالص اُردُو اور ادبی لب ولہجے میں جب یہ کہتے تھے:گیت کے بول لکھے ہیں آنند بخشی نے اور موسیقی سے سجایا ہے لکشمی کانت پیارے لال ۔۔۔۔۔۔۔نے تو اِن حضرات کے لب ہاے شیریں سے ادا ہونے والا یہ جملہ گیت سے پہلے بجائے خود ایک دلکش گیت کا درجہ اختیار کرجاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے وے دن ،وے لوگ!
 

جاسمن

لائبریرین
کہانیاں سناتی ہے ، پَون آتی جاتی
ایک تھا دیا ایک باتی۔۔۔۔۔۔۔
آنجہانی آنندبخشی بھی کیا شاعر تھے ۔۔۔۔۔اُن کے لکھے فلمی گیت اُردُو/ہندی شاعری کا مان ہیں۔۔۔۔۔آل انڈیاریڈیو کی اُردُو سروس کے ایس ایم شفیق،اے جبار ،شکیل انجم
وغیرہم خالص اُردُو اور ادبی لب ولہجے میں جب یہ کہتے تھے:گیت کے بول لکھے ہیں آنند بخشی نے اور موسیقی سے سجایا ہے لکشمی کانت پیارے لال ۔۔۔۔۔۔۔نے تو اِن حضرات کے لب ہاے شیریں سے ادا ہونے والا یہ جملہ گیت سے پہلے بجائے خود ایک دلکش گیت کا درجہ اختیار کرجاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے وے دن ،وے لوگ!
ایس ایم سلیم جب کہتے۔۔۔ میڈیم ویو 1341 کلوہرٹز پہ ریڈیو پاکستان بہاول پور آپ سے مخاطب ہے۔
اور ہم اس آواز ، لب و لہجے میں کھو جاتے۔ ہم نے اکثر اپنا تلفظ ریڈیو سے درست کیا۔ شازی حشمت، اجمل ملک، نوشابہ مہ وش، شہود رضوی، شعیب ۔۔۔ ایک سے بڑھ کے ایک۔
کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ریڈیو پہ کوئی غلط بھی بول سکتا ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
طلبہ کو تقریر کی تیاری ہم دو ساتھی مل کے کرا رہی تھیں۔ انھوں نے جدوجہد کا تلفظ غلط بتایا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ اردو تلفظ پہ ان کی گرفت خاصی ہے۔ میں نے درست تلفظ بتیس تو انھوں نے اپنی خود اعتمادی میں میرے بتائے تلفظ کو غلط قرار دیا۔ لیکن میرے کہنے پہ لغت دیکھی تو معلوم ہوا۔
میں نے بتایا کہ یہ ریڈیو کا اعجاز ہے۔:)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
طلبہ کو تقریر کی تیاری ہم دو ساتھی مل کے کرا رہی تھیں۔ انھوں نے جدوجہد کا تلفظ غلط بتایا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ اردو تلفظ پہ ان کی گرفت خاصی ہے۔ میں نے درست تلفظ بتیس تو انھوں نے اپنی خود اعتمادی میں میرے بتائے تلفظ کو غلط قرار دیا۔ لیکن میرے کہنے پہ لغت دیکھی تو معلوم ہوا۔
میں نے بتایا کہ یہ ریڈیو کا اعجاز ہے۔:)
آپ ریڈیو والوں کا تلفظ اب دیکھیے۔۔۔ جن لوگوں کا آج اردو کا تلفظ غلط ہے۔ وہ بھی اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ریڈیو کا اعجاز ہے۔
 
آپ ریڈیو والوں کا تلفظ اب دیکھیے۔۔۔ جن لوگوں کا آج اردو کا تلفظ غلط ہے۔ وہ بھی اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ریڈیو کا اعجاز ہے۔
شمیم اعجاز تھیں، انوربہزاد تھے ، شکیل احمد تھے ۔۔۔۔۔۔یہ ریڈیوپر خبریں سناتے تھے ۔۔۔۔۔۔سب کا ایک ہی انداز تھا ۔۔۔۔بالکل سپاٹ اور بے لاگ۔۔۔۔۔۔۔پھر سلطان غازی تھے ، مہ پارہ صفدر تھیں،حفیظ انجم اور اظہر لودھی تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حضرات ٹی وی کے نیوز ریڈر تھے ۔۔۔۔۔۔مجال ہے جو کسی نے خبر سناتے ہوئے اپنے جذبات اور احساسات بیان کیے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہ وہ دن اور واہ وہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top