پریم چند کفن

انتہا

محفلین
کفن
پریم چند


جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی، اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے، جاڑوں کی رات تھی فضا سناٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہوگیا تھا۔
گھیسو نے کہا ''معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں، سارا دن تڑپتے ہوگیا، جا دیکھ تو آ۔''
مادھو درد ناک لہجے میں بولا'' مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کر کیا آؤں؟''
'' تو بڑا بے درد ہے، سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا اس کے ساتھ اتنی بے وپھائی۔''
'' تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھ جاتا۔''
چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام، گھسیو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام کرتا، مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا، اس لئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہیں تھا، گھر میں مٹھی بھر اناج ہو تو ان کیلئے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک وقت کے فاقے ہوجاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں اس کو بیچ آتا اور جب تک وہ پیسے رہتے دنوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے، جب فاقے کی نوبت آجاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی اور مزدوری تلاش کرتے، گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی، کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کیلئے پچاس کام تھے، مگر ان دنوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب آدمیوں سے ایک کا کام پاکر بھی قناعت کرلینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا، کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکل کیلئے ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی، یہ ان کی خلقی صفت تھی، عجیب زندگی تھی ان لوگوں کے گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں، پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی ڈھانکے ہوئے دنیا کے مکروں سے آزاد قرض سے لدے ہوئے، گالیاں بھی کھاتے تھے مگر کوئی غم نہیں۔
مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر بھی لوگ کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے، مٹریا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مڑ یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے یا دس پانچ دس اونکھ توڑ لاتے اور راتوں کو چوستے۔ گھسیو نے اسی زاہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ لی اور مادھو بھی سعادت مند بیٹے کی طرح اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا، بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا، اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے تھے، جو کسی کے کھیت سے کھود کر لائے تھے۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدت ہوئے انتقال ہوگیا تھا، مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی، جب سے عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی، پسائی کرکے، گھاس چھیل کر دو سیر بھر آٹے کا بھی انتظام کر لیتی اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی تھی۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور السی ہوگئے تھے، بلکہ اکڑنے بھی لگے تھے، کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی سے دو گنی مزدوری مانگتے، وہی عورت آج صبح سے دردِ زہ سے مررہی تھی، اور یہ دونوں انتظار کررہے تھے کہ مرجائے تو آرام سے سوجائیں۔
گھیسو نے آلو نکلا کر چھیلتے ہوئے کہا ''جاکر دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی۔ چپڑیل کا پھنساؤ ہوگا اور کیا۔ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔ کس کے گھر سے آئے؟''
مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کردے گا، بولا ''مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔''
''ڈر کس بات کا ہے میں تو یہاں ہوں۔''
'' تو تم ہی جا کر دیکھ لو۔''
'' میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں۔ کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا آج اس کا اگھر ہوا بدن دیکھوں۔ اسے تن کی سدھ تونہ ہوگی، مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکے گی۔''
''میں سوچتا ہوں کہ کوئی بال بچہ ہوگیا ہوتا تو کیا ہوگا۔ سونٹھ، گڑ، تیل کچھ تو نہیں ہے گھر میں۔''
سب کچھ آئے گا بھگوان بچہ دیں تو جو لوگ ابھی پیسہ نہیں دے رہے ہیں، وہی تب بلا کر دیں گے۔ میرے نو لڑکے ہوئے، گھر میں کبھی کچھ نہ تھا، مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔''
جس سماج میں رات دن کام کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے، کہیں زیادہ فارغ البال تھے، وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ ہم تو کہیں گے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا، اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہوگیا تھا۔ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و ادب کی پابندی بھی کرتا، اس لئے جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے، اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کرتا تھا، پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے، تو کم از کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اٹھاتے۔
دونوں آلو نکال کر جلدی جلدی کھانے لگے۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا، اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں کچھ ٹھنڈا ہوجانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں، چھیل جانے پر آلو کا بیرونی حصہ تو زیادہ گرم معلوم نہ ہوتا تھا، لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصہ زبان اور تالو اور حلق کو جلا دیتا تھا، اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اس میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے، وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے کافی سامان تھا، اس لئے دنوں جلدی جلدی نگل جاتے، حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل جاتے۔
گھیسو کو اس وقت ٹھا کر کی بارات یاد آئی۔ جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا، اس دعوت میں اس اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھا، اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔ بولا: ''وہ بھوج نہیں بھولتا تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں۔ چھوٹے بڑے سب نے پوڑیا کھائیں، اور اصلی گھی کی چٹنی، رائتہ، تین طرح کے سوکھے ساگ، ایک رسے دار ترکاری، دہی، چٹنی، مٹھائی ، اب کیا بتاؤں اس کے بھوج میں کتنا سواد ملا تھا۔ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، جو چیز چاہو مانگو اور جتنا چاہو کھاؤ۔ لوگوں نے تو ایسا کھایا ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا۔ مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گرم گول گول مہکتی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں۔ منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہیے۔ پتل کو ہاتھ سے روکے ہوئے تھے، مگر وہ ہیں کہ دیے جاتے ہیں، اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بیڑا پان بھی ملا، مگر مجھے لینے کی کہا سدھ تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا چٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھا کر۔
مادھو نے ان تکلفات کا مزہ لیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا۔
''اب کوئی ایسا بھوج کیا کھلائے گا۔ وہ جمانہ دوسرا تھا ۔ اب تو سب کو کھپایت سوجھتی ہے۔ شادی بیاہ میں مت کھرچ کرو، کریا کرم میں مت کھرچ کرو، پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھو گے، مگر بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے۔ہاں کھرچ میں کھپایت سوجھتی ہے۔''
''تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہوں گی۔''
''بیس سے جیادہ کھائی تھیں۔''
''میں پچاس کھا جاتا۔''
''پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہوں گی۔اچھا پٹھا تھا تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے۔''
آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے دھوتیاں اوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے تھے۔ جیسے دو بڑے اژدر کنڈلیاں مارے پڑے ہوں اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی۔
صبح کو مادھو نے کوٹھری میں دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہوگئی تھی، اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں، پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں، سارا جسم خاک میں لت پت ہورہا تھا، اس کے پیٹ میں بچہ مرگیا تھا۔
مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس گیا۔ پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے، پڑوس والوں نے یہ آواز سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسم قدیم کے مطابق غم زدوں کی تشفی کرنے لگے۔
مگر زیادہ رونے دھونے کا موقع نہ تھا۔ کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی۔ گھر میں تو پیسہ اس طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں مانس۔
باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمینداروں کے پاس گئے۔ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں سے پیٹ چکے تھے .... چوری کی علت میں، وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علت میں۔ پوچھا: ''کیا ہے، بے گھیسوا، روتا کیوں ہے؟ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی ہے، اب معلوم ہوتا ہے کہ تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے۔''
گھیسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا: '' سرکار بڑی بپت میں ہوں۔ مادھو کی گھر والی رات گجر گئی۔ دن بھر تڑپتی رہی۔آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ہے۔ دوا دارو جو کچھ ہوسکا کیا مگر وہ ہمیں دگا دے گئی۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا۔ مالک تباہ ہو گئے،گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں، آپ کے سوا اس کی مٹی کون پار لگائے۔ ہمارے ہاتھوں میں تو جو کچھ تھا، وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا۔ سرکار ہی کی دیا ہوگی تو اس کی مٹی اٹھے گی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پرجاؤں؟''
زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے، مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں '' چل دور ہو یہاں سے، لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا، آج جب ضرورت پڑی ہے تو خود چل کر آیا ہے، خوشامد کرنے۔ حرام خور کہیں کا، بدمعاش۔ مگر یہ غصہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا۔ طوعاً کرہاًدور دینے نکال کرپھینک دئیے، مگر تشفی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا۔ اس کی طرف تاکاتک نہیں، گویا سرکا بوجھ اتارا ہو۔
جب زمیندار صاحب نے دو روپے دئیے تو گاؤں کے بنیئے مہاجنوں کو انکار کی جرأت کیوں کرہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام سے ڈھنڈورا پیٹتا جاتا تھا۔ کسی نے دو آنے دئیے کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھیسو کے پاس پانچ روپے کی معقول رقم جمع ہوگئی۔ کسی نے غلہ دیا، کسی نے لکڑی اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے گئے۔ ادھر لوگ بانس دانس کاٹنے لگے۔
گاؤں کی رقیق القلاب عورتیں لاش آآ کر دیکھتی تھیں، اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گر اکر چلی جاتی تھیں۔
بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا'' لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے کیوں، مادھو؟''
مادھو بولا ''ہاں' لکڑی تو بہت ہے اب کپھن چاہیے۔''
''تو کوئی ہلکا سا کپھن لے لیں۔''
ہاں، اور کیا لاش اٹھتے اٹھتے رات ہوجائے گی۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے۔''
'' کیسا برارواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے، اسے مرنے پر نیا کپھن چاہیے۔''
''کپھن لاس کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔''
اور کیا رکھا ہے، یہی پانچ روپے ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔''
دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے، بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے ،یہاں تک کہ شام ہوگئی، دونوں اتفاق سے یاعمداً ایک شراب خانے کے سامنے آپہنچے اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے اور ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے۔پھر گھیسو نے ایک بوتل شراب کی لی، کچھ گزک اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر پینے لگے۔
کچھ کجیاں پینے کے بعد دونوں سرور میں آگئے۔
گھیسو بولا ''کپھن لگانے سے کیا ملتا، جل ہی تو جاتا کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔''
مادھو آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔ گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلارہا ہو۔
''دنیا کا دستور ہے۔ یہی لوگ بامنوں کو ہجاروں کیوں دے دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے، پر لوک میں ملتا ہے کہ نہیں۔''
بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے، پھونکیں، ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے؟''
''لیکن لوگوں کو جواب کیا دو گے۔ لوگ پوچھیں گے نہیں کپھن کہاں ہے؟''
گھیسو ہنسا۔ '' کہہ دیں گے کہ روپے کمر سے گھسک گئے، بہت ڈھونڈا، ملے نہیں۔''
مادھو بھی ہنسا۔ اس غیر متوقع خوشی نصیبی پر قدرت کو اس طرح شکست دینے پر بولا۔
'' بڑی اچھی تھی بچاری۔ مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔''
آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہوگئی تھی۔ گھیسو نے دوسیر پوڑیاں منگوائیں، گوشت اور سالن، چٹ پٹ کلچیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں۔ شراب خانے کے سامنے ہی دکان تھی۔ مادھو لپک کر دو پتلوں میں ساری چیزیں لے آیا۔ پورے ڈیرھ روپے خرچ ہوگئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے تھے۔
دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے پوڑیاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا تھا۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا، نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انھوں نے بہت پہلے طے کر لیا تھا۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا: ''ہماری آتما پرسن ہورہی ہے، تو کیا اسے پُن نہ ہو گا۔''
مادھو نے فرط عقیدت سے جھکا کر تصدیق کی ''جرور سے جرور ہوگا، بھگوان تم انتر جامی (علیم)ہو۔ اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہِر دے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج جو بھوجن ملا ،وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔''
ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی۔
'' کیوں دادا ہم لوگ بھی تو ایک نہ ایک دن وہاں جائیں گے ہی۔''
گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا جواب نہ دیا۔ مادھو کی طرف پرملامت انداز سے دیکھا۔
'' جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچھے گی کہ تم نے ہمیں کپھن کوں نہیں دیا تو کیا کہا کہو گے؟''
''کہیں گے تمہارا سر۔''
''پوچھے گی تو جرور۔''
''تو کیسے جانتا ہے کہ اسے کپھن نہیں ملے گا، تو مجھے ایسا گدھا سمجھتا ہے۔ میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں۔ اس کو کپھن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا۔''
مادھو کو یقین نہ آیا۔ ''کون دے گا؟ روپے تو تم چٹ کر دیے۔''
گھیسو تیز ہوگیا، ''میں کہتا ہوں اسے کپھن ملے گا، تو مانتا کیوں نہیں۔''
''کون دے گا، بتاتے کیوں نہیں۔''
وہی لوگ دیں گے جنھوں نے اب کی دیا ہے، ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے، اور اگر کسی طرح آجائیں تو پھر ہم اسی طرح یہاں بیٹھے پئیں گے، اور کپھن تیسری بار ملے گا۔''
جوں جوں اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی، مے خانے کی رونق بڑھتی جارہی تھی۔ کوئی گاتا تھا، کوئی لہکتا تھا، کوئی اپنے رفیق کے گلے میں لپٹا جاتا تھا۔ کوئی اپنے دوست کے منہ سے ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ، کتنے تو چلو میں الّو ہو جاتے ہیں۔ یہاں آئے تھے صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لیے شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کے لیے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں زندہ درگور۔
اور یہ دونوں باپ بیٹے بھی مزہ لے کر چسکیاں لے رہے تھے۔ سب کی نگاہیں ان طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں، پوری بوتل بیچ میں ہے۔
کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا پتل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا، جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اور ''پینے'' کے غرور، ولولہ اور مسرت کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔
گھیسو نے کہا: ''لے جا کھوب کھا اور اسیر باد دے۔ جس کی کمائی تھی، وہ تو مر گئی مگر تیرا اسیر باد اسے جرور پہنچ جائے گا۔ روئیں روئیں سے اسیر باد دے۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔''
مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: '' بیکنٹھ میں جائے گی دادا۔ بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔''
گھیسو کھڑا ہوگیا، اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا ''ہاں بیٹا، بیکنٹھ میں جائے گی۔ کسی کو ستایا نہیں، کسی کو دبایا نہیں۔ مرتے وقت ہماری جندگی کی سب سے بڑی لاساپوری کرگئی۔ وہ نہ بینکٹھ میں جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کو دھونے کے لیے گنگا میں جاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔''
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بدلا۔ تلوّن نشے کی خاصیت ہے۔ یاس اور غم کا دورہ ہوا۔
مادھو بولا: ''مگر دادا بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی تو کتنا دکھ جھیل کر۔'' وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔
گھیسو نے سمجھایا: ''کیوں روتا ہے بیٹا، کھُس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلدی مایا موہ کے بندھن توڑ دئیے۔''
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگے:
ٹھگنی کیوں نیناں جھمکاوے ٹھگنی
سارا مے خانہ محو ِتماشا تھا اور یہ دونوں مے کش محویت کے عالم میں گائے جارہے تھے اور آخر نشہ سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے۔
 

انتہا

محفلین
Top