کس کس سے دل لگاؤں کہاں تک وفا کروں - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
کس کس سے دل لگاؤں کہاں تک وفا کروں
سب ہی مریضِ عشق ہیں کتنی دوا کروں
آسودۂ وصال ہوں یہ جانتے ہیں سب
پہلو سے کوئی پھر بھی نہ جائے تو کیا کروں
ہے میری خوش مزاجی بھی میرے لیے عذاب
محبوب بن کے کیسے ہر اک سے ملا کروں
میرا بھی میرے گھر میں کسی کو ہے انتظار
تا دیر کیسے ساتھ کسی کے رہا کروں
ہر شام کھینچتی ہے در و بام کی طرف
آوارگئ فکر نہ چاہے تو کیا کروں
بے ظرف بے ضمیر زمانے کے سامنے
ممکن نہیں کہ پیش کوئی مدّعا کروں
ریحان لب کشائی کی طاقت نہیں رہی
لیکن جو بات کہہ نہیں سکتا لکھا کروں
(ریحان اعظمی)
 
Top