ٹائپنگ مکمل کربلا : صفحہ 30

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
KarBala%20-%2000032.gif
 

شاہ حسین

محفلین
۶۲


قاصد خط اس خوف سے نہیں لایا کہ کہیں راستہ میں باغیوں کے ہاتھ گرفتار نہ ہو جاؤں ۔
یزید :۔ کیا پیغام لایا ہے ۔
قاصد :۔ ابن زیاد نے گزارش کی ہے کہ یہاں کے لوگ حضور کی بیعت قبول نہیں کرتے اور بغاوت پر آمادہ ہیں ۔ حسین ابن علی کو اپنی بیعت لینے کو بلارہے ہیں ۔ تین قاصد جا چکے ہیں ۔ مگر ابھی تک حسین آنے پر رضامند نہیں ہوئے اب شہر کے کئی رئیس خود جا رہے ہیں
یزید :۔ ابن زیاد سے کہو جو آدمی میری بیعت نہ منظور کرے ۔ اُسے قتل کردے مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔
رومی :۔ دشمن کے ساتھ مطلق رعایت کی ضرورت نہیں ۔ ابن زیاد کو چاہئیے کہ تلوار استعمال کرنے میں دریغ نہ کرے ۔
حُر :۔ مجھے خوف ہے بغاوت ہو جائے گی ۔
رومی :۔ سزا اور سختی یہی حکومت کے دو گُر ہیں ۔ میری عمر ملک داری میں ہی گزری ہے ۔ اس سے بہتر اور کارگر کوئی تدبیر نظر نہ آئی ۔ خدا کو بھی اپنا نظام قائم رکھنے کے لئے دوزخ کی ضرورت پڑی ۔ دوزخ کا خوف ہی دنیا کو آباد رکھے ہوئے ہے ۔ اس کا رحم اور انصاف فقیروں اور بیکسوں کی تسکین کے لئے ہے ۔ خوف ہی سلطنت کی بنیاد ہے ۔ نرمی سے سلطنت کا وقار مٹ جاتا ہے ۔ لوگ سرکش ہو جاتے ہیں ۔ فساد کا بازار گرم ہو جاتا ہے ۔ ابن زیاد سے کہنا قتل کرو ۔ اور اس طرح قتل کرو کہ دیکھنے والوں کے


۶۳


دل تھرا جائیں ۔ تیروں سے چھیداؤ ۔ کتّوں سے نوچواؤ ۔ زندہ کھال کھچواؤ لوہے سے داغ دو ۔ جو حسین کا نام لے ۔ اس کی زبان تالو سے کھیچ لو ۔ وہ سزا سزا نہیں جو سخت نہ ہو ۔
یزید :۔ میں اس حکم کی تائید کرتا ہوں ۔ جا اور پھر ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے میرے آرام میں مخل نہ ہونا ۔
(قاصد کی روانگی )
حسین کا کوفہ آنا میرے لئے موت کے آنے سے کم نہیں ۔ قسم ہے آنکھوں کی وہ کوفہ نہ آنے پائیں گے ۔ اگر میرا اختیار ہے ۔
شمس :۔ تعجب یہ ہی ہے کہ کوفہ والوں نے تین قاصد بھیجے اور حسین جانے پر راضی نہیں ہوئے ۔
یزید :۔ تیاریاں کررہے ہوں گے ۔ ولید اگر میرے چچا کا بیٹا نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھوں سے اُس کی آنکھیں نکال لیتا ۔ اُس نے دیدہ دانستہ حسین کو مکّہ جانے دیا ۔ مدینہ میں ہی قتل کردیتا تو مجھے آج اتنی پریشانی کیوں ہوتی ۔ تم میں سے کون جاکر انہیں گرفتار کرسکتا ہے ۔
حُر :۔ اس خدمت کے لئے حاضر ہوں ۔
یزید :۔ اگر تم نے یہ کام پورا کر دکھاؤ ۔ تو اس کے صلہ میں تمہیں وہ صوبہ دوں گا جس پر جنت بھی فدا ہو ۔ میری فوج سے ایک ہزار چیدہ سپاہی لے لو ۔ اور جب آفتاب نکلے تو تمہیں یہاں سے بیس فرسخ پر دیکھے ۔
حُر :۔ انشاءاللہ ۔
 
Top