ساغر صدیقی چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے - ساغر صدیقی

کاشفی

محفلین
پابندیاں لگانے والوں کے نام معذرت کے ساتھ - :)

غزل
(ساغر صدیقی)

چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے
ان دنوں وقت پہ، حالات پہ پابندی ہے

بکھری بکھری ہوئی زلفوں کے فسانے چھیڑو
مے کشو! عہد خرابات پہ پابندی ہے

دل شکن ہو کے چلے آئے تری محفل سے
تیری محفل میں تو ہر بات پہ پابندی ہے

درد اُٹھا ہے لہو بن کے اچھلنے کے لیے
آج تک کہتے ہیں جذبات پہ پابندی ہے

ہر تمنا ہے کوئی ڈوبتا لمحہ ہے
ساز مغموم ہیں نغمات پہ پابندی ہے

کہکشاں بام ثریا کے تلے سوئی ہے
چاند بے رنگ سا ہے رات پہ پابندی ہے

آگ سینوں میں لگی ہے، ساغر و مینا چھلکے
کوئی کہتا تھا کہ برسات پہ پابندی ہے
 

فرخ منظور

لائبریرین
خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ کاشفی صاحب۔ ایک شعر دیکھیے گا اس میں ترے کی بجائے تری ہونا چاہیے۔
دل شکن ہو کے چلے آئے ترے محفل سے
تیری محفل میں تو ہر بات پہ پابندی ہے
 

saqib ali saaqi

محفلین
Bahut umdaa ghazal k. Intkhaab farmaayaa hai aap ne ......,,,,,,
Maqtey k misraa e oolaa men lafz....hai...izaafi hone k baais mis raa khaarij az behr ho geyaa ha. darusti farmaa lijiye ga .....


Aag seenoo men lagi saaghar o meena chhalkey ......
 
Top