چالاک خرگوش کے کارنامے

ملائکہ

محفلین
واقعی اتنی کہانیاں ٹائپ کرنا ہمت کی بات ہے۔۔۔ آج کل کسی کے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہوتا لیکن آپ یہ کام کررہے ہیں۔۔۔۔۔
 
خرگوش نے جھُولا جھُولا
خرگوش اپنے وعدے کا پکّا تھا۔ اس نے گلشن بیگم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے پھُکنی اور چمٹا لا کر دے گا۔ یہ چیزیں میاں آدم جی کے ہاں مل سکتی تھیں۔ ایک دن وہ آدم جی کے گھر بھی پہنچ گیا۔
وہ باغیچے میں بیٹھا مکان کے اندر جانے کا متعلق سوچ رہا تھا کہ کسی نے اسے کانوں سے پکڑ کر اٹھا لیا۔ خرگوش نے سر گھُما کر دیکھا۔ یہ میاں آدم جی تھے۔ آدم جی نے کہا، "آخر پکڑ ہی لیا تمہیں۔ میں حیران تھا کہ میری گاجریں کون کھا رہا ہے؟"
بےچارا خرگوش منمنا کر رہ گیا۔ آدم جی نے اسے پنجرے میں بند کر دیا اور اپنی لڑکی سے کہا، "دیکھو! میں ذرا باہر جا رہا ہوں۔ تم اسے پنجرے سے ہرگز مت نکالنا۔"
آدم جی چلے گئے۔ خرگوش نے کہا، "تمہارا جھُولا کتنا اچھا ہے؟"
لڑکی بولی، "ہاں۔ یہ ابّا جی نے میرے لیے بنایا ہے۔"
خرگوش بولا، "سنا ہے جھُولا جھُولتے ہوئے بڑا مزہ آتا ہے۔ ذرا دیر کے لیے مجھے جھُلاؤ گی؟"
لڑکی بولی، "میں تمہیں باہر نہیں نکال سکتی۔"
خرگوش بولا، "میں بھاگوں گا نہیں۔ بس ذرا جھُولا جھُول کر واپس آ جاؤں گا۔"
لڑکی نے کہا، "ہرگز نہیں۔ میرا ابّا جان سے وعدہ ہے۔ میں تمہیں باہر نہیں نکل سکتی۔"
خرگوش غصّے سے دانت پیس کر بولا، "آدم کی اولاد خود غرض ہوتی ہے۔ تم بھلا کیوں مجھے جھُولا جھُولنے دو گی؟"
اتنے میں آدم جی بھی واپس آ گئے۔ انہیں خرگوش کو پنجرے میں دیکھ کر بڑی خوشی محسوس ہوئی۔ لڑکی نے ضد کرنی شروع کی۔ "ابّا جان! آپ خرگوش کو جھُولا جھُولنے دیجیے نا۔ یہ کہتا ہے کہ میں نے کبھی جھُولا نہیں جھُولا ہے۔"
خرگوش نے منّت کرتے ہوئے کہا، "اچھے آدم جی! میری خواہش ضرور پوری کر دیجیے۔ میں بالکل نہیں بھاگوں گا۔"
آدم جی سوچ میں پڑ گئے۔
خرگوش نے پھر کہا، "آپ میری ٹانگوں سے چمٹا اور ہاتھوں سے پھُکنی باندھ دیجیے۔ اس طرح میں بالکل نہ بھاگ سکوں گا۔"
میاں آدم جی خوش ہو کر بولے، "ہاں ہاں۔۔۔۔۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔"
انہوں نے خرگوش کے ہاتھوں سے پھُکنی اور ٹانگوں سے چمٹا باندھ دیا اور اسے جھُولے پر بٹھا دیا۔
لڑکی جھُولا جھُلانے لگی۔ جھُولا آہستہ آہستہ اونچا ہوتا گیا۔ خرگوش ہر بار کہتا، "اور اونچا جھونٹا دیجیے۔ اور اونچا۔"
ہوتے ہوتے جھُولا فصیل تک پہنچ گیا۔ خرگوش نے کہا، "ذرا اور اونچا۔"
آدم جی نے ایک لمبا جھونٹا دیا۔ جھُولا فصیل سے بہت اونچا ہو گیا۔ خرگوش کے سامنے دور تک پھیلا ہوا میدان تھا۔ اس نے کوشش کر کے چھلانگ لگا دی۔ وہ جھاڑیوں میں گرا، جہاں اسے نے پھُرتی سے چمٹا اور پھُکنی اپنی ٹانگوں اور بازوؤں سے علیحدہ کیے اور دونوں چیزوں کو اٹھا کر بھاگا۔
 
جادو کا چمٹا اور پھُکنی
خرگوش بہت خوش تھا۔ آج اس نے آدم جی کو ہرا دیا تھا۔ وہ اچھلتا کودتا جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک جھاڑی کے پیچھے سے لومڑ نے جھپٹ کر اسے پکڑ لیا۔ خرگوش سہم کر بولا، "مجھے جانے دو، چھوڑ دو مجھے۔"
لیکن لومڑ نے اسے اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا اور اسے دو تین زور کے جھٹکے دیے۔ چمٹا اور پھُکنی آپس میں ٹکرائے اور ایک زوردار جھنجھناتی ہوئی آواز پیدا ہوئی۔
چھن۔ چھنانن۔۔ نن نن نن۔۔۔۔۔
لومڑ نے چمٹے اور پھُکنی کو کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ حیرانی سے بولا، "تم یہ کیا چیزیں لیے پھرتے ہو؟"
خرگوش نے کہا، "یہ جادو کی چیزیں ہیں۔ سمجھے؟"
لومڑ حیرانی سے بولا، "کس کام آتی ہیں یہ؟"
خرگوش نے دو تین دفعہ چمٹا بجایا اور بولا، "جو تم مانگو گے، وہ اس کے دونوں سِروں میں آ پھنسے گا۔"
لومڑ نے پوچھا، "اور یہ دوسری چیز کس کام آتی ہے؟"
"وہ بھی بتاؤں گا۔ پہلے تم اس کا کمال دیکھ لیتے۔"
خرگوش چمٹا بجانے لگا۔ چھنا نن نن۔۔ نن نن۔۔۔۔۔
لومڑ بےصبری سے بولا، "اچھا اس کا کمال دکھاؤ تو سہی۔"
خرگوش نے چمٹے کے دونوں سِرے لومڑ کی ناک کی طرف کیے اور بولا، "آنکھیں بند کر لو۔ تم جو کچھ مانگو گے وہ اس میں آ پھنسے گا۔"
لومڑ نے خرگوش کو پکڑے رکھا اور پھر آنکھیں بند کر کے زور سے بولا، "بھُنی ہوئی مُرغی مل جائے تو مزہ آ جائے۔"
اور اسے سچ مچ مزہ آ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کی ناک زور سے مروڑ رہا ہے۔
لومڑ کی آنکھیں کھُل گئیں اور ہاتھ سے خرگوش بھی چھُوٹ گیا۔ اس نے دیکھا کہ خرگوش پوری قوّت سے چمٹے کے ساتھ اس کی ناک مروڑ رہا ہے۔ لومڑ نے اپنی ناک چھڑانے کی کوشش کی۔ وہ اچھلا کودا، لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔
خرگوش ہنس کر بولا، "چمٹے کا کمال تو تم دیکھ چکے ہو۔ اب یہ بھی دیکھو کہ پھُکنی کس کام آتی ہے۔"
یہ کہتے کہتے اس نے ٹھکا ٹھک دو تین دفعہ لومڑ کے اس زور سے پھُکنی ماری کہ وہ چیخنے لگا، "او ہو ہو! ہائے ہائے! مر گیا!"
خرگوش ہنس کر بولا، "نہیں ابھی نہیں مرے۔ تم خاموشی سے آگے آگے چلو، ورنہ سچ مچ تمہارا خاتمہ ہو جائے گا۔"
یہ کہہ کر اس نے لومڑ کے منہ پر ایک اور پھُکنی جما دی۔ اب لومڑ چیختا چلّاتا آگے آگے اور خرگوش اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔
ایک جگہ لومڑ زور سے اچھلا۔ اس کی ناک چمٹے کی گرفت سے آزاد ہو گئی۔ وہ تیزی سے خرگوش کو پکڑنے کے لیے لپکا۔ اس نے خرگوش کو پکڑ ہی لیا ہوتا اگر وہ لپک کر ایک درخت پر نہ چڑھ جاتا۔
"آجاؤ، اب نیچے آ جاؤ، تمہارا کھیل ختم ہو چکا ہے۔" لومڑ نے کہا۔
خرگوش بولا، "میں نیچے نہیں آ سکتا۔ تم ہی اوپر آ جاؤ نا!"
اب لومڑ درخت پر تو چڑھ نہیں سکتا تھا۔ بس وہ نیچے بیٹھا دانت پیستا رہا۔ وہ بولا، "میں ابھی جا کر کلہاڑی لاتا ہوں۔ درخت کاٹ کر گرا دوں گا، ساتھ ہی تم بھی نیچے آ گرو گے۔"
لومڑ یہ کہہ کر چل دیا۔ خرگوش درخت پر چڑھ تو گیا تھا، لیکن نیچے اترنا اس کے لیے مشکل تھا۔ اچانک اسے ایک موٹی بھدّی آواز سنائی دی:
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟​
آخر اس درد کی دو ا کیا ہے؟​
وہ سمجھ گیا کہ ریچھ بھیّا ہیں۔ ذرا اچھے موڈ میں ٹہلتے ہوئے آ رہے ہیں۔ خرگوش کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ بے فکروں کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ وہ اتنی زور سے ہنسا کہ درخت پر بیٹھے ہوئے پرندے ڈر گئے۔ ریچھ بھی ڈر کے مارے دُبک گیا، لیکن جب اس نے خرگوش کو دیکھا تو بگڑ کر بولا، "یہ کیا بدتمیزی ہے جی؟ کیوں ہنستے ہو دیوانوں کی طرح سے؟"
خرگوش نے ایک اور قہقہہ مارا، "ہا ہا۔ ہو ہو ہی خی۔ بھئی واہ کیا خوب تماشا ہے!!"
اس نے نیچے کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ بس سامنے غور سے دیکھتا رہا اور ہنستا رہا۔ ریچھ بھی حیران ہوا، "ارے! کیا دیکھتے ہو؟ کیا کوئی تماشا ہو رہا ہے؟"
خرگوش نے پھر کوئی توجّہ نہ دی۔ بس غور سے سامنے دیکھتا رہا اور ہنستا رہا۔ اب بھیّا ریچھ نے بےصبری سے چلّا کر کہا، "کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ اس طرح کیوں ہنس رہے ہو؟"
خرگوش نے پہلی دفعہ ریچھ کو جھُک کر دیکھا۔ سلام کیا اور بولا، "بھیّا ریچھ بس پوچھو نہیں کتنا مزیدار تماشا ہو ر ہا ہے۔ یہاں سے مجھے گلشن منزل صاف نظر آ رہی ہے۔ گلشن بیگم اپنی لڑکیوں کو ناچنا سکھا رہی ہے۔ دیکھنا ہے تو اوپر آ جاؤ۔"
"لیکن کیسے آؤں؟" ریچھ نے پوچھا۔
"ارے بھیّا رہے نہ گاؤدی آخر۔ جلدی سے جا کر سیڑھی لے آؤ۔"
ریچھ بھاگا ہوا اپنے گھر گیا۔ وہاں سے سیڑھی لے کر آیا۔
"مجھے تو یہاں سے کچھ نظر نہیں آتا۔" ریچھ سیڑھی پر چڑھ کر بولا۔
خرگوش نے دور سے آتے ہوئے لومڑ کو دیکھا اور بولا، "تم جلدی سے میری جگہ آ جاؤ میں ذرا سیڑھی پر کھسک جاتا ہوں۔"
ریچھ خرگوش کی جگہ جا بیٹھا اور خرگوش تیزی کے ساتھ نیچے اترا۔ اس نے پھُکنی اور چمٹا اٹھایا۔ سیڑھی کندھے پر رکھی اور تیزی سے بھاگا۔
ادھر لومڑ نے آتے ہی درخت کو کاٹنا شروع کر دیا۔ ریچھ نے گھبرا کر نیچے دیکھا اور چلّا کر کہا، "اے لومڑ بھیّا! یہ کیا کرتے ہو تم؟"
لومڑ نے جب ریچھ کی آواز سنی تو بڑا سٹپٹایا۔ جب اس نے خرگوش کی جگہ ریچھ کو بیٹھے دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔ لومڑ حیرانی سے چلّایا، "یہ کیا ماجرا ہے؟ یہاں تو خرگوش بیٹھا ہوا تھا۔ تم کہاں سے آ مرے؟"
ریچھ بولا، "میں یہاں گلشن بیگم کی لڑکیوں کا ناچ دیکھنے اوپر چڑھا تھا، لیکن مجھے تو یہاں سے کچھ نظر نہیں آیا۔"
لومڑ اور حیرانی سے بولا، "لیکن تم اوپر چڑھے کیسے؟"
"سیڑھی سے چڑھا اور کیسے چڑھا؟"
ریچھ لومڑ کو پاگل سمجھنے لگا، لیکن اس کو پتا نہیں تھا کہ خرگوش سیڑھی بھی لے گیا ہے۔
"یہاں کوئی سیڑھی نہیں ہے۔" لومڑ بولا۔
ریچھ نے بھی نیچے نظر دوڑائی۔ سیڑھی سچ مچ غائب تھی۔ وہ حیرانی سے چلّایا، "ارے! ابھی تو یہاں تھی۔ یہ سب خرگوش کی شرارت ہے۔ وہ جاتا ہوا سیڑھی بھی لے گیا ہے۔"
لومڑ کے ذہن میں پوری بات آ گئی۔ وہ غصّے سے چیخ کر بولا، "آج میں نے خرگوش پکڑ لیا تھا، لیکن تم نے اسے اپنی بےوقوفی سے بھاگنے کا موقع دے دیا۔"
ریچھ حیرانی سے بولا، "وہ یہاں بیٹھا گلشن بیگم کی لڑکیوں کا ناچ دیکھ رہا تھا، لیکن مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا۔"
لومڑ اور زور سے چلّایا، "اور نہ تمہیں نظر آئے گا۔ خیر، تم دیکھتے رہو دن بھر۔ میں تو جا رہا ہوں۔"
لومڑ بڑبڑاتا ہوا چل دیا۔ ریچھ تمام دن دھوپ میں تپتا رہا۔ شام کو اس کی بیگم نے اسے اتارا۔
 
لومڑ اپنے ہی گودام میں بند ہو گیا
لومڑ کے کھیت میں گاجر کی فصل بہت عمدہ ہوئی تھی۔ خرگوش یہ امید لگائے بیٹھا رہا کہ لومڑ کچھ حصّہ اسے بھی دے گا، لیکن لومڑ نے اسے پوچھا بھی نہیں!
ایک روز جب لومڑ گاجریں نکل رہا تھا، خرگوش اس کے کھیت میں پہنچا اور اس نے شکایت کے لہجے میں کہا، "تمہیں اپنے ہمسایوں کا تو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ اتنی بہت سی گاجریں ہیں اور تم نے بھولے سے پوچھا تک نہیں!"
لومڑ غرّا کر بولا، "کان کھول کر سن لو کہ اس میں سے تمہیں ایک ٹکڑا تک نہیں ملے گا۔ میں آج ہی اِنہیں گودام میں بند کر کے تالا لگا رہا ہوں۔ ہاں اگر تم وہاں سے نکال لو تو میں تمہیں بالکل کچھ نہ کہوں گا۔"
خرگوش مُسکرا کر بولا، "سو بار شکریہ تمہارا۔ تالا کھولنا تو میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ آج شام کو میرا فن دیکھ لینا۔"
لومڑ حقارت سے بولا، "میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ ہا ہا۔ دیکھوں گا کیسے تالا کھول سکتا ہے؟"
خرگوش بھاگا ہوا اپنے گھر گیا۔ وہاں سے اپنے بیوی بچوں کو لے کر لومڑ کے مکان کے پاس پہنچا اور ایک بڑا سا سوراخ بنانے میں لگ گیا۔ سوراخ سیدھا گودام میں نکلتا تھا۔
اس دوران میں لومڑ گاڑی بھر بھر کر گاجریں لاتا اور گودام میں رکھتا رہا، یہاں تک کہ گودام بھر گیا۔ پھر لومڑ نے باہر کا تالا لگایا۔ چابی اپنی اندر کی جیب میں حفاظت سے رکھی اور اوپر کُرتی پہن کر بٹن لگا لیے۔ وہ بہت تھک گیا تھا اس لیے جوتے اتار کر پلنگ پر لیٹ گیا اور جلد ہی سو گیا۔
خرگوش کو سوراخ بناتے ہوئے زیادہ دیر نہیں لگی۔ جلد ہی وہ گودام میں پہنچ گیا، جو اوپر تک نرم اور خوش ذائقہ گاجروں سے بھرا پڑا تھا۔ اس نے دو تین گاجریں کھائیں جو اسے بہت مزیدار معلوم دیں۔ وہ ٹوکری بھر کر گاجریں اپنے گھر لے گیا۔ اس کے ساتھ اس کے بچے بھی ٹوکری بھر بھر کر گاجریں لے جاتے رہے، یہاں تک کہ تہہ خانہ خالی ہو گیا۔ جب خرگوش آخری ٹوکری بھر رہا تھا، بچوں میں سے کوئی ہنس دیا، جس سے لومڑ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے تہہ خانے میں کچھ شور سنا، پھر جلدی سے اپنی جیب کو ٹٹولا۔ چابی کو پا کر اطمینان ہوا۔ وہ حیرانی سے سوچنے لگا، "پھر یہ شور کیسا ہے؟"
اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ جب وہ گاجریں گودام میں بھر رہا تھا تب شاید خرگوش چُپکے سے وہاں گھُس گیا ہو۔ لومڑ دروازے تک آیا اور چلّا کر بولا، "بھیّا خرگوش! مجھے معلوم ہے کہ تم اندر ہو۔ کل صبح تک جی بھر کے گاجریں کھالو۔ پھر تمہاری خیر نہیں!"
خرگوش نے اپنے بچوں کو جانے کا اشارہ کیا اور گڑگڑا کر بولا، "رحم کرو بھیّا لومڑ! مجھ پر رحم کرو اور میری جان بخشی کر دو۔"
لومڑ مسّرت سے چیخ کر بولا، "ہا ہا ہا! رات بھر اپنے گناہوں پر آنسو بہا لو بھیّا جی، کل تمھاری زندگی کا آخری دن ہے۔"
لومڑ دوبارہ اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا۔ خرگوش نے گودام اچھی طرح صاف کیا اور سوراخ کو بند کر دیا۔
اگلی صبح لومڑ گودام کا دروازہ کھول کر اندر گیا اور جلدی سے اندر سے دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا۔ تہہ خانہ خالی پڑا تھا۔ بالکل خالی!
لومڑ نے کئی بار اپنی آنکھیں مل کر دیکھا، لیکن اسے وہاں نہ خرگوش نظر آیا نہ گاجریں۔ وہ بہت مایوسی کے ساتھ واپس مڑا، لیکن اس عرصے میں خرگوش باہر کی کنڈی لگا چکا تھا اور اب بھیّا لومڑ قیدی بن گیا تھا۔
باہر سے خرگوش نے چیخ کر کہا، "بھیّا لومڑ! مجھے پتہ ہے کہ تم اندر ہو۔ کل صبح تک خیر منا لو اور جی بھر کے گاجریں کھا لو۔"
لومڑ نے کہا، "لیکن گاجریں یہاں کہاں رکھی ہیں؟ کوئی انہیں چُرا کر لے گیا ہے۔"
خرگوش نے کہا، "ہاں، میں لے گیا ہوں۔ تم ہی نے تو کہا تھا کہ اگر میں یہاں سے گاجریں نکال کر لے جاؤں تو وہ میری ہو جائیں گی۔"
لومڑ غصّے سے پاگل ہو گیا اور دروازے پر گھونسوں کی بارش کرتے ہوئے بولا، "کھولو۔ دروازہ کھولو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں فاقے کرتے کرتے مر جاؤں؟"
خرگوش نے کہا، "اب پھر اپنے گناہوں پہ آنسو بہاتے رہو۔ میں چلتا ہوں۔ خدا حافظ!"
لومڑ بےچارا اگلے روز تک تہہ خانے میں بند رہا۔ ریچھ اس کی مزاج پُرسی کو آ رہا تھا۔ اس نے لومڑ کے چیخنے کی آواز سنی۔ اس نے گودام کا دروازہ کھولا۔ لومڑ بھوکا پیاسا لڑکھڑاتا ہوا نکلا اور سیدھا خرگوش کے مکان کی طرف لپکا۔
 
بھیڑیے اور لومڑ نے چائے پی
خرگوش اپنے باغ کا دروازہ ٹھیک کرنے میں لگا ہوا تھا۔ وہ ٹوٹے ہوئے حصّوں کو گرما گرم سریش لگا کر چُپکا رہا تھا کہ پیچھے سے لومڑ نے آ دبوچا۔
"ہا ہا ہا! پکڑ ہی لیا تمہیں!" لومڑ خوشی سے چلّایا۔
"بھیّا لومڑ! مجھے چھوڑ دو۔ دیکھتے نہیں میں کتنا مصروف ہوں؟"
"کچھ دیر بعد میں بھی تمہیں پکانے میں مصروف ہو جاؤں گا۔ سمجھے؟"
خرگوش نے بےچارگی سے کہا، "بھیّا لومڑ! اتنے کم ظرف نہ بنو۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ آج اس کام کو کر کے چھوڑوں گا۔ تم جانتے ہو میں اپنے وعدے کا کتنا پکّا ہوں۔"
لومڑ نے سریش کے برتن اور لکڑی کو دیکھ کر کہا، "یہ تم کیا کر رہے ہو؟"
خرگوش نے فوراً کہا، "بھیّا ذرا دروازہ جوڑ رہا ہوں۔ کام مشکل ہے اور تم تو اسے کر ہی نہیں سکتے۔"
"کیا کہا؟ میں نہیں کر سکتا؟" لومڑ نے پوچھا۔
خرگوش نے برش برتن میں ڈبو کر کہا، "بالکل نہیں بھیّا، اس کام کو کرنے کے لیے مہارت چاہیے۔ تم تو بالکل اناڑی ہو۔"
لومڑ جوش میں آ گیا۔ وہ سب باتیں بھُول بھال کر فوراً کام کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ "میں تمہیں دکھاؤں گا کہ میں تم سے بہتر کام کر سکتا ہوں۔"
خرگوش نے کہا، "جانے دو بھیّا، کام مشکل ہے۔ ذرا تم نے گڑبڑ کی اور سارا کام چوپٹ ہوا۔ اس لیے مہربانی رکھو۔"
لومڑ نے جوش کے ساتھ برش برتن میں ڈبو دیا اور لکڑی پر سریش لگانے لگا۔ جب لومڑ برش لگا رہا تھا تو اس کی دُم دیوار سے رگڑ کھا رہی تھی۔ وہ بھی ایک برش کی طرح ہی تو تھی۔ خرگوش نے لومڑ کی دُم کو سریش میں ڈبو دیا۔
لومڑ چیخ کر بولا، "بدمعاش اندھا، دیکھتا نہیں کہ یہ میری دُم ہے!"
لومڑ نے اپنی دُم نکالی اور اسے دھوپ میں سوکھنے کے لیے پھیلا دیا۔ خرگوش نے آہستہ سے دُم اٹھا کر دروازے کے ساتھ لگا دی، جہاں وہ کچھ دیر بعد خشک ہو گئی۔
خرگوش یہ سب کنکھیوں سے دیکھتا رہا اور چُپکے چُپکے ہنستا رہا۔
وہ اٹھتے ہوئے بولا، "میں ذرا اور سریش لاتا ہوں۔"
خرگوش کے ساتھ لومڑ بھی اٹھا، کیوں کہ وہ اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینے چاہتا تھا، لیکن اس کی دُم دروازے سے چپک گئی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اپنی دُم چھڑانے لگا۔ خرگوش کھڑا ہنستا رہا۔
لومڑ نے غصّے سے کہا، "کیوں ہنس رہے ہو بےوقوفوں کی طرح۔ اسے فوراً چھڑاؤ ورنہ۔"
خرگوش ہنس کر بولا، "ورنہ تم مجھ پر جھپٹ پڑو گے۔ میں اتنے بےوقوف نہیں بھیّا جی کہ تمہارا لقمہ بن جاؤں۔"
لومڑ پھر اپنی دُم چھُڑانے کی کوشش کرنے لگا، لیکن وہ تو بری طرح چپکی ہوئی تھی کہ کوشش کے باوجود نہ چھُٹ سکی۔
خرگوش پھر ہنسا، "ہاں ایک ترکیب ہو سکتی ہے کہ تم اپنی دُم کاٹ دو۔ چاقو لاؤں بھیّا جی؟"
"بےوقوف نہ بنو۔" لومڑ بڑبڑایا۔
خرگوش پھر بولا، "دوسری ترکیب یہ ہے کہ تم اپنی دُم کے بال کاٹ ڈالو، قینچی دوں بھیّا جی؟"
لومڑ چیخ کر بولا، "بند کرو اپنی بکواس۔ تم چاہتے ہو کہ میں اپنی پیاری دُم تراش دوں؟ ہونہہ۔"
"اچھی بات ہے خدا حافظ!" خرگوش اپنے مکان میں چلا گیا اور وہاں چائے کے لیے پانی گرم کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد بھیڑیا وہاں آیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور وہ لومڑ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔ اس نے حیرانی سے پوچھا، "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"
لومڑ نے کہا، "میں چُپک گیا ہوں۔"
بھیڑیے نے اور زیادہ حیران ہو کر پوچھا، "چُپک گئے؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟"
لومڑ روہانسا ہو کر بولا، "کیا تم چُپکنے کا مطلب نہیں سمجھتے؟ بھیّا جی! میری دُم دروازے سے چُپک گئی ہے۔ یہ سب اسی بدمعاش خرگوش کی کارستانی ہے اور اب وہ مجھے دُم تراشنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ہونہہ۔"
"یہ تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا، ورنہ تم یونہی چُپکے رہو گے۔"
لومڑ نے غصّے سے کہا، "تو کیا میں اپنی پیاری دُم تراش دوں؟ تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو کیا؟"
بھیڑیا بولا، "اور اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ ہاں ٹھہرو، میں تمہیں یہ دروازہ اتار دیتا ہوں۔ تم اسے اٹھائے ہوئے اپنے گھر لے جاؤ۔ وہاں اپنی دُم کو گرم پانی میں ڈبوئے رکھو۔ سریش پگھل جائے گا اور تمھاری دُم چھُوٹ جائے گی۔"
بھیڑیے نے دروازے کو خوب زور زور سے جھٹکے دیے۔ ہر جھٹکے کے ساتھ لومڑ کی چیخ نکل جاتی۔ بالآخر دروازہ نکل گیا۔
اسی وقت خرگوش نے کھڑکی سے جھانکا، "ارے بھیّا لومڑ۔ اے بھیّا بھیڑیے۔"
دونوں نے اپنی تھوتھنیاں اوپر اٹھائیں۔
خرگوش گرم پانی کا برتن الٹتے ہوئے بولا، "لو چائے پیتے جاؤ۔ یارو تمھاری اور کیا خدمت کروں۔"
دونوں اپنا منہ پیٹتے ہوئے بھاگے۔ ان کے ناک منہ پر جگہ جگہ آبلے پڑ گئے تھے۔ ہاں جب لومڑ دروازہ اٹھائے ہوئے بازار سے گزرا تو سب بچے بوڑھے تالیاں بجاتے اس کے پیچھے ہو لیے اور اسے اس کے گھر تک چھوڑ کر آئے۔ وہاں لومڑ نے اپنی دُم بارہ گھنٹے گرم پانی میں ڈبوئے رکھی اور لومڑ صاحب کو اتنی ٹھنڈ محسوس ہوئی کہ اسے دُم کو ٹھنڈ لگ جانے کا خطرہ ہو گیا۔ اس نے دُم پر گرم کپڑا لپیٹ دیا۔ غصّے میں دروازے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور جلا دیا۔
لیکن اگلی صبح اس نے دیکھا کہ اس کے باغ کا دروازہ غائب ہے۔ دروازہ خرگوش کے باغ میں دیکھ کر وہ بہت چیخا۔
 
لپٹی کلپٹی ٹمبکٹو!
اتفاق سے خرگوش بازار سے مچھلی کے کباب، گاجر کا حلوہ اور شربتِ اننّاس خرید کر گھر واپس آ رہا تھا کہ جھاڑی کے پیچھے سے لومڑ نے جھپٹ کر اسے پکڑ لیا۔
"چلو اب میرے ساتھ۔ تمھارے دن پورے ہو چکے ہیں۔" لومڑ اسے کھینچتے ہوئے بولا۔
خرگوش نے کہا، "ارے نہیں یار! کیوں مذاق کرتے ہو مجھ سے۔ ابھی ابھی تو ایک نجومی نے بتایا ہے کہ میری عمر بہت دراز ہوگی۔"
لومڑ اسے کھینچتے ہوئے بولا، "دیکھ لیتے ہیں ابھی!"
پھر اس نے تھیلے کی طرف دیکھ کر کہا، "اس میں کیا ہے؟"
خرگوش نے مسکینی سے کہا، "بینگن کا بھرتا، مسور کی دال اور کونین مکسچر۔"
لومڑ نفرت سے بولا، "بالکل بےکار چیزیں ہیں۔ خیر، تم ہاتھ آ گئے یہ بھی غنیمت ہے۔"
لومڑ اسے کھینچتا ہوا بھیڑیے کے گھر لے گیا۔ دروازہ اندر سے بند کیا اور بھیڑیے کو آواز دی۔
بھیڑیا بھی خرگوش کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور بولا، "ہاتھ آ گیا بچُو! خیر اب اس کے کباب بنائیں گے۔ بھیّا لومڑ! تم ابھی اسے الماری میں بند کر دو اور باہر سے تالا لگا دو، میں ابھی گھی گرم کرتا ہوں۔"
لومڑ نے خرگوش کو دھکّا دے کر الماری میں گرا دیا اور پھر زور سے دروازہ بند کیا اور تالا لگا دیا۔ ادھر خرگوش الماری میں بیٹھا کانپنے لگا۔ وہ دل میں سوچتا رہا کہ لومڑ کے آنے سے پہلے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ برتنوں میں چھُپنے کی جگہ نہ تھی۔ آخر ایک خیال اس کے ذہن میں آیا۔ اس نے تھیلے کی سب چیزیں باہر نکال لیں اور برتنوں میں مچھلی کے کباب، حلوہ اور شربت ڈال کر اوپر کے تختے پر رکھ دیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے خوب برتن کھنکھنائے۔ لومڑ بولا، "اس کا کوئی فائدہ نہیں خرگوش بھیّا۔ بہت دن مزے کر چکے تم!"
خرگوش نے کہا، "میں غائب ہونے کا عمل بھی جانتا ہوں۔ اے لو، میں غائب ہوتا ہوں۔ لپٹی کلپٹی ٹمبکٹو۔ جلدی غائب ہو جاؤ۔"
خرگوش تھیلا کھول کر اس میں بیٹھ گیا اور اندر سے زپ لگا لی۔
جب کڑھائی میں گھی گرم ہو چکا تو لومڑ نے آہستہ سے دروازہ کھولا، لیکن خرگوش کہیں نظر نہ پڑا۔ اس نے حیرانی سے کہا، "اے بھیڑیے خاں! خرگوش سچ مچ غائب ہو گیا ہے۔"
بھیڑیے نے بھی اچھی طرح ہر خانہ دیکھا، لیکن الماری میں کہیں خرگوش نظر نہیں پڑا۔ نیچے خانے میں تھیلا رکھا ہوا تھا۔ وہ اس نے غصّے میں آ کر باہر پھینک دیا۔ جونہی موقع ملا، خرگوش نے تھیلے کی زپ کھولی اور اُچک کر باہر نکلا۔ پھر دوڑ کر دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔
بھیڑیے نے غرّا کر کہا، "وہ دیکھو وہ جا رہا ہے۔ لپکو۔ پکڑو۔"
وہ دونوں تیزی سے باہر نکلے اور میدان میں دوڑتے چلے گئے۔ جونہی وہ خرگوش کی نظروں سے اوجھل ہوئے۔ وہ اندر گیا اور اپنی سب چیزیں سمیٹ کر تھیلے میں ڈال کر سیٹی بجاتا ہوا اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔
 
چور ہمارے سموسے کھا گیا!
ایک دن بھیڑیا اور لومڑ ندی پر مچھلیاں پکڑنے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا تھا اور گرما گرم سموسے جن کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔ خرگوش، جو کُودتا پھاندتا جنگل سے گزر رہا تھا، خوشبو سونگھ کر ٹھہر گیا۔
"سموسے۔" خرگوش نے کہا، "قیمے کے سموسے۔ لیکن کون صبح ہی صبح سموسے لیے جا رہا ہے۔ شاید میرا کوئی دوست ہو۔"
وہ اچھلتا کُودتا سموسوں کی تلاش میں چلا اور جلد ہی بھیڑیے اور لومڑ کے سامنے جا پہنچا۔
"اخّاہ! لومڑ بھیّا اور بھیڑیے خاں ہیں۔ کیا حال ہے؟" خرگوش نے کہا اور وہ دونوں رک گئے اور خرگوش کو دیکھ کر بولے، "ٹھیک ہے اور تمہارا؟"
"کیا مزیدار سموسوں کی خوشبو آ رہی ہے۔"گوش نے ندیدے پن سے ہونٹ چاٹ کر کہا۔
لومڑ نے اخلاق سے پوچھا، "کھاؤ گے؟"
خرگوش کھانے کے لیے اتنا بےتاب تھا کہ وہ لومڑ کی آنکھوں میں مکّاری کی جھلک بھی نہ دیکھ سکا۔
وہ جلدی سے سموسے کے نزدیک گیا اور اسی لمحے بھیڑیے نے اس کو کوٹ سے پکڑ کر ہوا میں اٹھا لیا۔
لومڑ نے ایک قہقہہ لگا کر کہا، "پھنس ہی گیا آخر۔ سموسوں کے متعلق پوچھتا تھا۔ اب رات کو اس کے مزیدار سموسے بنائیں گے۔ کیا خوب۔ ہا ہا ہا!"
خرگوش کچھ گھبرا گیا، پھر اس نے بھیڑیے کی طرف دیکھ کر کہا، "میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ چھوڑو مجھے۔ میرے کوٹ کا ستیاناس ہو گیا ہے۔"
بھیڑیے نے کہا، "ہمیں کوٹ سے کی مطلب؟ ہمیں تو تم سے غرض ہے۔"
لیکن بھیڑیے کو غلط فہمی تھی، کیوں کہ خرگوش نے اپنے ہاتھ نکال لیے تھے۔ وہ کوٹ چھوڑ کر تیزی سے جنگل کی طرف بھاگا۔
بھیڑیا اور لومڑ تیزی سے خرگوش کے پیچھے بھاگے، جو اب ندی کے نزدیک پہنچ گیا تھا۔ ندی کافی گہری تھی اور لبالب بہہ رہی تھی۔ خرگوش اسے تیر کر عبور نہیں کر سکتا تھا۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ جلدی سے اس نے ایک پتھر اٹھایا اور پانی میں دے مارا اور خود تیزی سے ایک درخت کے پیچھے چھُپ گیا۔
لومڑ نے چلّا کر کہا، "وہ ندی میں کُود پڑا ہے۔ میں نے اس کے کُودنے کی آواز سنی ہے۔"
وہ دونوں ندی کے نزدیک پہنچ کر رک گئے۔ کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب خرگوش پانی سے نہ نکلا تو بھیڑیے نے کہا، "عجیب بات ہے۔ خرگوش ابھی تک باہر نہیں آیا؟"
لومڑ نے کہا، "کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھاس میں الجھ گیا ہو۔"
بھیڑیے نے کہا، "چلو یہ روز کا قضیہ بھی ختم ہوا۔ میں تو اس کی چالاکیوں سے عاجز تھا۔"
انہوں نے اپنا سامان پیچھے رکھا اور ڈور ندی میں ڈال دی۔ اُدھر خرگوش دبے پاؤں نیچے آیا اور لومڑ کا ایک سموسہ کھانے لگا، جو اسے بہت مزیدار معلوم ہوا۔ پھر اس نے بھیڑیے کا ایک سموسہ اٹھایا اور کھا گیا۔
بھیڑیا اور لومڑ مچھلیاں پکڑنے ‌میں اتنے مشغول تھے کہ اُنہیں خرگوش کا کچھ پتہ ہی نہ چل سکا۔ اتنے میں بھیڑیے نے ایک مچھلی پکڑ لی۔ وہ اتنا خوش ہوا کہ زور زور سے چلّانے لگا۔
"اب مجھے کھسک جانا چاہیے۔" خرگوش دونوں کا سامان سمیٹتے ہوئے سوچنے لگا اور وہ سب چیزیں لے کر دور ایک درخت کے پیچھے جا چھُپا اور مزے لے لے کر کھانے لگا۔
اتنے میں ایک مینڈک نے سر نکالا۔
بھیڑیے نے کہا، "معلوم ہے خرگوش ڈوب گیا ہے۔ وہ ندی میں کُودا اور تب سے اوپر نہیں آیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ گھاس میں الجھ گیا ہے۔"
مینڈک نے ٹرّاتے ہوئے کہا، "اوہو! کتنی بری چیز ہے۔"
وہ تیرتا ہوا کچھوے کے پاس گیا۔ اسے بھی یہ سن کر بہت رنج ہوا۔ کیوں کہ وہ خرگوش کا گہرا دوست تھا۔
کچھوے نے پانی سے سر نکالا اور پوچھا، "بھیّا لومڑ! تم کہتے ہو کہ خرگوش ڈوب گیا ہے؟ آہ غریب خرگوش، وہ ہمارا کتنا گہرا دوست تھا۔ وہ کتنا دلچسپ تھا۔ اب نہ دن ویسے رہیں گے نہ راتیں۔"
لومڑ جل کر بولا، "ہاں، اب نہ دن ویسے رہیں گے نہ راتیں۔ اب ہم سکوں سے زندگی بسر کریں گے اور کوئی ہماری چیز نہ چُرائے گا۔"
بھیڑیے کو بھوک لگنے لگی۔ وہ بولا، "ناشتے کے متعلق کیا خیال ہے؟ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ آؤ کچھوے صاحب! بڑے مزیدار سموسے ہیں آج۔"
لیکن کچھوا خرگوش کو مزے اڑاتا دیکھ چکا تھا۔ وہ پانی میں جا کر ہنسنے لگا۔
"ارے ہمارے سموسے کہاں ہیں؟" بھیڑیے اور لومڑ نے ایک ساتھ کہا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو گھورنے لگے۔
"میرے سموسے تم نے کھائے ہیں۔ بھیڑیا غرّا کر بولا۔
"میں نے نہیں تم نے۔" لومڑ چلّایا۔
"نہیں تم نے۔ جب میں مچھلی پکڑ رہا تھا، تم نے ان پر ہاتھ صاف کر دیا۔ میں تمھاری چالاکیوں کو خوب جانتا ہوں۔" اور غصّے میں بھیڑیے نے لومڑ کو ایک پنجہ مارا۔
لومڑ چلّایا، "بکواس بند کرو۔ پہلے تم نے میرے سموسے کھائے۔ پھر مجھے مارنے بھی لگے۔"
بھیڑیے نے غرّاتے ہوئے کہا، "ہاں اب تم کہو گے کہ خرگوش کھا گیا ہے۔"
دونوں گتھّم گتھّا ہو گئے اور لڑتے لڑتے پانی میں جا گرے۔ پاس ہی کھڑے کچھوے نے یہ منظر دیکھ کر ایک قہقہہ لگایا اور تیرتا ہوا دور نکل گیا۔
وہ دونوں بھی تیرتے ہوئے کنارے پر آئے۔ سب سے پہلے ان کی نظر جس چیز پر پڑی وہ خرگوش تھا، جو ان کے آخری سموسے کو ہڑپ کر رہا تھا۔
لومڑ نے چلّا کر کہا، "پکڑو! یہ چور ہمارے سموسے کھا گیا ہے۔"
وہ دونوں دوڑے، لیکن خرگوش بچ کر نکل گیا۔
 
بھیڑیے کا ناشتہ
بھیڑیا اور لومڑ دن بھر کے تھکے ہارے مچھلیاں پکڑ کر گھر لوٹے تو رستے میں انہیں ایک جھاڑی کے نیچے خرگوش سویا ہوا مل گیا۔ بھیڑیے کی نظر پہلے پڑی۔ اس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا، "تمھارے خیال میں وہ سو رہا ہے یا بہانہ بنا رہا ہے کہ ہم اس کے نزدیک آئیں اور وہ چھلانگ مار کر بھاگ نکلے۔"
لومڑ نے کہا، "یہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں بھیّا بھیڑیے۔ تم دوسری طرف چلے جاؤ، پھر ہم دونوں جھپٹیں گے۔ بدمعاش بہت دن مزے کرتا رہا۔ اب ہاتھ آیا ہی سمجھو۔"
ایک طرف سے بھیڑیا اور دوسری طرف سے لومڑ جھپٹا۔ بھیڑیے نے خرگوش کو پکڑ لیا اور خوشی سے چلّا کر بولا، "ہا ہا ہا! آخر پکڑ لیا تمہیں۔"
خرگوش کی آنکھ کھل گئی، لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ وہ بہت ڈر گیا۔ اس نے گڑگڑا کر کہا، "خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔"
لومڑ بولا، "کہاں جانے دیں؟ آج تمھارے کباب بنائے جائیں گے سمجھے۔"
بھیڑیا خوش ہو کر بولا، "آج دوپہر کو مچھلی پکائیں گے اور کل ناشتے میں خرگوش کے کباب بنائیں گے۔"
لومڑ ہونٹ کاٹ کر بولا، "واہ! کیا عمدہ خیال ہے، لیکن ہم اِسے گھر کیسے لے کر جائیں گے؟" ہمارے پاس پہلے ہی کافی سامان ہے۔"
بھیڑیا بولا، "ہم اِسے اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے، بلکہ ایسے یہیں کہیں رکھ چھوڑیں گے۔"
بھیڑیا اور لومڑ اِدھر اُدھر نظر دوڑانے لگے۔ لومڑ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا، "اس غار کے متعلق کیا خیال ہے؟"
خرگوش نے فوراً کہا، "ہاں ہاں، مجھے اس غار میں بند کر دو اور اس کے منہ پر بڑا سا پتھر رکھ دو، تاکہ میں نکل نہ جاؤں۔"
بھیڑیے نے کہا، "بس بس۔ ہمیں تمہاری رائے کی ضرورت نہیں اور نہ ہم اتنے بےوقوف ہیں کہ تمہیں اس گھر میں بند کر دیں۔ کیوں بھیّا لومڑ! وہاں سے یہ دو تین منٹ میں نہ نکل جائے گا؟"
"ٹھیک ہے۔" لومڑ اِدھر اُدھر بےوقوفوں کی طرح دیکھ کر بولا، "دیکھو اس درخت میں ایک سوراخ ہے۔ ہم اِسے اس میں بند کر دیتے ہیں!"
"خدا کے لیے مجھے جانے دو اور اس سوراخ میں بند نہ کرو۔"
خرگوش بےچارگی سے منمنانے لگا، لیکن کسی نے اس کی بات نہ سنی۔ وہ دونوں خرگوش کو کھینچتے ہوئے لے گئے اور سوراخ میں دھکیل کر اس پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیے۔
بھیڑیا ہانپتے ہوئے بولا، "بھیّا! کل کے ناشتے کا بھی انتظام ہو گیا۔"
وہ دونوں چلے گئے، لیکن انہیں پتہ نہ تھا کہ گیدڑ نے انہیں پتھر رکھتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ گیدڑ درخت کے نزدیک آیا اور سونگھنے لگا۔ اسے کھانے کی خوشبو نہیں آئی۔ اندر خرگوش بیٹھا غمگین سا گیت گانے لگا۔ گیدڑ آواز پہچان کر بولا، "بھیّا خرگوش تم اندر کیا کر رہے ہو؟"
خرگوش خاموش ہو گیا۔ گیدڑ نے پھر کہا، "بھیڑیے نے کہا ہے کہ اس کا ناشتہ اندر رکھا ہے، کیا تم اسے کھا رہے ہو؟"
خرگوش فوراً بولا، "ہاں ہاں۔۔۔۔۔ تم بھی آ جاؤ!"
گیدڑ کو بھوک لگ رہی تھی۔ وہ بےتابی سے بولا، "لیکن کیسے آؤں؟ مجھے تو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔"
خرگوش بولا، "میری طرح تم بھی پتھر اٹھاؤ اور اندر آ جاؤ۔"
گیدڑ نے زور مار کر پتھر اٹھائے۔ اسی لمحے خرگوش بجلی کی سی تیزی سے باہر نکلا۔ گیدڑ کو دھکّا دے کر الگ گرایا اور خود بھاگتا چلا گیا۔
"معاف کرنا بھیّا۔" خرگوش دور سے بولا، "مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔ تم اندر جاؤ اور جو کچھ بچ رہا ہے کھالو۔"
گیدڑ نے اندر جا کر دیکھا، وہاں اسے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ وہ ناراض ہو کر بولا، "کمینہ کہیں کا، سب کچھ خود کھا گیا۔ ابھی جا کر بھیڑیے سے شکایت کرتا ہوں۔"
اتنے میں بھیڑیا بھی خرگوش کو لینے کے لیے واپس آ گیا۔
گیدڑ نے کہا، "خرگوش تمہارا ناشتہ ہڑپ کر گیا ہے، جو تم نے درخت میں چھُپا کر رکھا تھا۔"
بھیڑیا رک گیا اور حیرانی سے گیدڑ کو دیکھ کر کہنے لگا، "تمہیں کیسے پتہ چلا؟"
گیدڑ بولا، "جونہی میں نے پتھر ہٹائے۔۔۔۔۔"
"کیا کہا،" بھیڑیا غرّا کر گیدڑ پر جھپٹا اور اس نے گیدڑ کی اتنی پٹائی کی کہ وہ غریب مرنے کے قریب ہو گیا۔
تب سے گیدڑ بھیڑیے سے دور رہتا ہے اور جب اسے وہ پٹائی یاد آتی ہے، وہ دور سے چلّانے لگتا ہے۔ ہاؤ، ہاؤ، ہو ہو۔
 
ریچھ پانی میں غوطے کھانے لگا
ایک دن ریچھ نے بھیڑیے اور لومڑ کی دعوت کی اور اس میں خرگوش کو بھی بلایا۔ لومڑ نے کہا، "اگر تم خرگوش کو بلا رہے ہو تو کچھ مت پکاؤ۔ بس تین رکابیاں اور چھُری کانٹے لے آؤ اور ایک برتن میں پانی ابلنے کو رکھ دو۔"
بھیڑیے نے کہا، "اُسے یہ مت بتانا کہ ہم اُس کا انتظار کر رہے ہیں۔"
ریچھ خرگوش کے مکان پر گیا اور دروازے پر دستک دی اور بولا، "خرگوش بھیّا، خرگوش بھیّا!"
خرگوش اندر سے بولا، "کون ہے؟"
"میں ہوں ریچھ۔ تمھاری دعوت کرنے آیا ہوں۔"
"دعوت؟ کسی دعوت اور کس خوشی میں؟" خرگوش نے حیرانی سے پوچھا۔
"ارے! کل جنگل کے جانوروں میں صلح ہو گئی ہے۔ سوچا اس خوشی میں تمھاری دعوت کر ڈالوں۔" ریچھ نے باہر سے کہا۔
خرگوش کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بےصبری سے بولا، "کیا پکا رہے ہو؟"
ریچھ نے کہا، "مٹر پلاؤ اور سموسے۔"
خرگوش ہونٹ چاٹتا ہوا بولا، "اچھا اچھا، ضرور آؤں گا۔"
ریچھ کے جانے کے بعد خرگوش نے غور کرنا شروع کیا۔ جتنا وہ سوچتا اتنا ہی اس کے دل میں شک بڑھ جاتا۔
وہ بڑبڑانے لگا، "ریچھ اور میری دعوت کرے؟ کتنی عجیب بات ہے۔ خیر میں جاؤں گا اور صحیح سالم واپس آؤں گا، چاہے ریچھ کچھ منصوبے بنائے۔"
خرگوش ریچھ کے مکان پر پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ چمنی سے دھویں کا ایک بادل نکل رہا ہے۔
خرگوش نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ ایک بڑے دیگچے میں پانی اُبل رہا تھا اور میز پر تین رکابیاں، چھُری کانٹے اور چمچے رکھے ہوئے تھے۔ خرگوش سمجھ گیا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ اس نے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
ریچھ نے فوراً دروازہ کھول دیا اور بولا، "آ جاؤ۔ کھانا تیار ہے۔"
لیکن خرگوش اندر نہیں گیا۔ باہر سے بولا، "بھیّا ریچھ! تم نے مچھلی کا شوربہ نہیں پکایا۔ میں مٹر پلاؤ شوربے کے ساتھ کھاتا ہوں۔"
ریچھ نے کہا، "تم ذرا کھا کر دیکھو کتنا مزیدار پلاؤ ہے۔"
خرگوش نے کہا، "میں شوربے کے بغیر پلاؤ نہیں کھاتا۔ مجھے معلوم ہوتا تو میں خود مچھلی پکڑ لاتا۔ پرانے کنویں میں بہت سی جھینگا مچھلی ہے۔"
ریچھ نے حیرانی سے کہا، "لیکن جھینگا مچھلی تو سمندر میں ہوتی ہے۔"
"ہاں ہاں۔" خرگوش نے جلدی سے کہا، "ضرور ہوتی ہوں گی، لیکن وہ ایسی نہیں جیسی میں نے دیکھی ہیں۔ اب جلدی سے جال لے آؤ۔"
ریچھ کو خرگوش کی بات بالکل پسند نہ آئی۔ وہ جال لے کر باہر آیا اور خرگوش کے ساتھ چلا۔ خرگوش نے کہا، "بھیّا ریچھ! پلاؤ کا لطف تو شوربے کے ساتھ ہے۔"
"خیر، اب شوربہ بھی بن جائے گا۔" ریچھ غرّا کر بولا۔
وہ دونوں کنویں پر پہنچے۔ ریچھ نے جھانک کر دیکھا۔ وہاں اسے کوئی مچھلی نظر نہ آئی۔
"یہاں تو کوئی مچھلی نظر نہیں آتی۔" ریچھ نے کہا۔
خرگوش نے فوراً کہا، "بھیّا! تمھاری بینائی کمزور ہے۔ وہ دیکھو ایک مچھلی ہے۔۔۔۔۔ یہ ایک اور۔۔۔۔۔ یہ ایک اور رہی۔"
ریچھ نے پھر غور سے دیکھا۔ خرگوش چلّا کر بولا، "ارے کتنی بہت سی مچھلیاں آئی ہیں۔ بھیّا جلدی سے جال ڈالو۔ پکڑو انہیں جلدی۔"
ریچھ نے فوراً اپنا جال پانی میں ڈال دیا۔ وہ پوری طرح نیچے نہ پہنچ سکا۔
ریچھ نے کہا، "بھیّا! میں اور جھُکتا ہوں۔ تم میرے پاؤں پکڑ رکھو۔"
جونہی ریچھ اور جھُکا، خرگوش نے اسے دھکّا دے دیا۔ ایک زور کا چھپاکا ہوا اور ریچھ پانی میں غوطے کھانے لگا۔
"اوبل۔ بل بل۔ بڑ۔" ریچھ کے منہ سے عجیب سی آواز نکلی۔
بھیّا! تم نے مجھے کیوں دھکّا دیا؟ یہاں کوئی مچھلی نہیں ہے۔ باہر نکالو مجھے۔"
خرگوش نے کہا، "اچھا بھیّا! تم نہاتے رہو۔ میں چلتا ہوں۔ خدا حافظ!"
وہ اچھلتا کُودتا ریچھ کے مکان پر پہنچا اور دروازے سے منہ لگا کر چلّایا، "ارے! کوئی ہے یہاں؟ بھیّا ریچھ نے بہت سی مچھلیاں پکڑ لی ہیں اور وہ تمھاری مدد چاہتا ہے۔"
لومڑ اور بھیڑیا ریچھ کی امدادا کرنے کنویں پر پہنچے، لیکن انہوں نے وہاں دیکھا کہ ریچھ خود پانی میں مچھلی کی طرح تیر رہا ہے۔
خرگوش نے پھر کہا، "اسے باہر نکال کر گرما گرم سموسے کھلانا اور مٹر پلاؤ بھی اور اسے کہنا کہ مچھلی کے شوربے کے بغیر پلاؤ مزہ نہیں دیتا۔"
اور جب انہوں نے ریچھ کو بھیگا اور سردی سے ٹھٹھرا ہوا باہر نکالا تو خرگوش کو اس کا حال دیکھ کر اتنی ہنسی آئی کہ وہ پیٹ پکڑ کر لوٹنے پوٹنے لگا۔
 
خرگوش نے ریچھ کو گھڑی بھیجی
بےچارا ریچھ کافی دنوں تک سخت بیمار رہا۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ خرگوش کو ضرور سزا دے گا۔ وہ جیسے ہی تندرست ہوا، اس نے خرگوش کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ خرگوش باغ میں جاتا تو ریچھ وہاں ٹہل رہا ہوتا۔ وہ ندی میں نہانے جاتا تو ریچھ کسی درخت کے پیچھے گھات لگائے بیٹھا ہوتا۔ وہ جنگل میں جاتا تو ریچھ وہاں بھی موجود ہوتا۔ شروع شروع میں خرگوش اسے مذاق سمجھا۔ اس نے ریچھ کو اتنے چکّر دیے اور اتنا بھگایا دوڑایا کہ ریچھ تھک گیا، لیکن اس نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ پھر تو خرگوش کافی پریشان ہوا اور ریچھ سے پیچھا چھڑانے کی ترکیبیں سوچنے لگا۔ آخر ایک بات اس کے ذہن میں آئی۔ وہ ایک گھڑی فروش کی دکان پر گیا اور بولا، "بھیّا! ایسی گھڑی دکھائیے جو خوب شور مچاتی ہو۔"
دکاندار ایک بڑی سی گھڑی لایا جو خوب شور مچاتی تھی اور اس کی آواز دور دور تک صاف سنائی دیتی تھی۔ خرگوش نے خوشی خوشی گھڑی خریدی اور ڈاک خانے جا کر بھیّا ریچھ کو پارسل بنا کر بھیجی اور اس میں ایک خط بھی رکھ دیا:
پیارے بھیّا ریچھ!
یہ معلوم ہو کر بہت خوشی ہوئی کہ تم خرگوش کا پیچھا کر رہے ہو۔
انعام کے طور پر یہ گھڑی قبول کر لو۔
موسِی بلّی​
بھیّا ریچھ حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ وہ گھڑی کو بہت دیر تک بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ وہ بار بار گھڑی کی آواز سنتا اور خوش ہوتا۔ اس نے گھڑی جیب میں رکھ لی اور سوچنے لگا کہ خرگوش پکڑنے کے بعد موسِی بلّی کو ضرور دعوت دے گا۔
اُدھر خرگوش کی یہ ترکیب بڑی کامیاب رہی۔ اسے اب ریچھ کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں رہی۔ وہ جہاں بھی "ٹک ٹک ٹک ٹک" کی آواز سنتا، فوراً سمجھ جاتا کہ یہاں بھیّا ریچھ چھُپے بیٹھے ہیں اور وہ زور سے چلّاتا، "بھیّا ریچھ کو دیکھ لیا ہے۔ ہی ہی ہرّے!"
اور ریچھ حیران رہ جاتا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آئی کہ خرگوش اسے گھنے درختوں، غاروں اور پتھروں کے پیچھے کیسے دیکھ لیتا ہے۔ دو تین ہی ہفتوں میں ریچھ نے پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔ لومڑ نے وجہ دریافت کی تو بولا، "خرگوش کی نظر عقاب سے بھی زیادہ تیز ہے۔ وہ درختوں کے پیچھے، چٹانوں کے اندر، دیواروں کے پیچھے سب جگہ دیکھ سکتا ہے۔"
"اچھا!" لومڑ نے حیرانی سے کہا، "آج میں بھی دیکھوں گا۔"
وہ دونوں ایک موٹی سی دیوار کے پیچھے چھُپ کر بیٹھ گئے۔ خرگوش اچھلتا کُودتا جب وہاں سے گزرا تو اس نے بھیّا ریچھ کی گھڑی کی آواز سنی "ٹک ٹک ٹک ٹک" اور جب اس نے لومڑ کے پنجوں کے نشانات دیکھ تو فوراً سمجھ گیا کہ آج لومڑ بھی بھیّا ریچھ کے ساتھ ہے۔
"خیر! آج میں دونوں کو مزہ چکھاتا ہوں۔" خرگوش بڑبڑاتا ہوا ندی پر گیا اور وہاں سے ایک بالٹی کیچڑ کی بھر کے لے آیا اور پھر دیوار پر سے چلّا کر بولا، "بھیّا ریچھ کو دیکھ لیا۔ ہی ہی ہرّے۔ بھیّا لومڑ کو دیکھ لیا۔ ہی ہی ہرّے!"
اور جونہی لومڑ اور ریچھ نے اپنی اپنی تھوتھنیاں اوپر اٹھا کر دیکھا۔ خرگوش نے اُن کے اوپر کیچڑ پھینک دیا۔
اُن دونوں کے سوٹ خراب ہو گئے اور اُن کی ناک، منہ، آنکھوں سب میں کیچڑ بھر گیا۔
اس سے پہلے وہ آنکھیں کھول سکتے خرگوش وہاں سے جا چکا تھا۔
 
شیر کے دربار میں
جنگلی جانوروں کو بےوقوف بنا بنا کے خرگوش کچھ مغرور ہو چلا تھا اور خاص طور پر جب سے اس نے میاں آدم جی سے بازی جیتی تھی، تب سے اس کے قدم زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ سب جانور اس سے سخت نالاں تھے۔
انہوں نے شیر سے خرگوش کی شکایت کی اور خوب نمک مرچ لگا کر اس کی شرارتیں بیان کیں۔ شیر کو بھی تعجب ہوا۔ اس نے خرگوش کی سوجھ بوجھ آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔
اگلے روز جب شیر کا دربار لگا تو خرگوش کو کتّے کے برابر میں جگہ ملی۔ سب لوگ شیر کے سامنے اپنی اپنی ضروریات اور تکلیفیں بیان کر رہے تھے۔ دربار میں کافی شور تھا۔ جب بھی کوئی جانور کچھ کہتا، اسے پوری آواز سے چلّانا پڑتا۔
جب کتّے کی باری آئی، اس نے زور زور سے بھونکنا شروع کیا۔ خرگوش اس کے نوکیلے دانت دیکھ کر ڈر گیا۔ جب بھی کتّا زور سے بھونکتا، خرگوش ڈر کر اچھلتا اور پھر دُبک کر بیٹھ جاتا۔ ہوتے ہوتے سب جانوروں کی نظر خرگوش پر پڑی۔ وہ سب یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے۔
اب کتا یہ سمجھا کہ وہ اس پر ہنس رہے ہیں۔ وہ غصّے سے پاگل ہو گیا اور غرّانے لگا۔ جس سے خرگوش اتنا ڈرا کہ وہ اپنی جگہ سے لڑھک گیا اور کرسی کے نیچے دُبک کر بیٹھ گیا۔
دربار میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ لوگ ہنس رہے تھے۔ تالیاں بجا رہے تھے۔ آخر شیر کو مداخلت کر نی پڑی۔ سب جانور خاموش ہوئے۔ خرگوش بھی باہر نکلا اور اس نے ایک زور دار تقریر کر ڈالی۔ اس نے تجویز پیش کی کہ کتّا دربار کے آداب سے واقف نہیں ہے، اس لیے اس کے ہونٹ سی دینے چاہئیں، تاکہ کوئی دربار میں ایسی گستاخی نہ کر سکے۔ سب جانور کتّے سے نفرت کرتے تھے، اس لیے سب نے تجویز پُرزور حمایت کی۔ شیر نے کہا، "اس تجویز کو کون پورا کرے گا؟"
لومڑ نے جھٹ سے کہا، "جو تجویز پیش کرتا ہے، وہی اسے پورا بھی کرے گا۔"
بےچارے خرگوش کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ دراصل کتّے کے نوکیلے دانتوں سے وہ بہت ڈرتا تھا۔ وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا۔ پھر بولا، "مجھے ایک سوئی دیجیے۔"
ریچھ نے فوراً کالر سے سوئی نکال کر خرگوش کو دے دی۔ خرگوش بولا، "مجھے دھاگا بھی دیجیے۔"
ریچھ نے اپنی پوستین سے ایک لمبا سا دھاگا نکالا اور خرگوش کو دے دیا۔ اب خرگوش بہت سٹپٹایا۔ اسے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔ کچھ دیر سوچتا رہا۔ اپنی ناک کھجائی اور سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا، "ہاں، اب میں بالکل تیار ہوں۔ تم میں سے کوئی کتّے کے پنجے پکڑ لے۔ میں اس کا منہ سی دیتا ہوں۔"
شیر خرگوش کی چالاکی پر مسکرایا، لیکن کچھ نہیں بولا۔
خرگوش نے پھر کہا، "بھیّا ریچھ! آؤ تم میری مدد کرو۔"
ریچھ کے حواس گُم ہو گئے۔ وہ کتّے سے بہت ڈرتا تھا۔
"میری بیوی سخت بیمار ہے۔ میں اس کی دوا لینے جا رہا ہوں۔" وہ چُپکے سے باہر کھسک گیا۔
"اوہ۔" خرگوش بولا، "ریچھ تو کتّے سے ڈر گیا۔ بھیّا بھیڑیے! تم کتّے کے ہاتھ پکڑو۔"
"میرے پاؤں میں صبح کانٹا چبھ گیا تھا۔" بھیڑیا بھی دربار سے باہر نکل گیا۔
"بھیّا لومڑ! تمہارا کیا خیال ہے؟"
لومڑ اٹھتے ہوئے بولا، "مجھے گھر پر ضروری کام ہے۔ میں ابھی جا رہا ہوں۔"
وہ باہر چلا گیا۔
خرگوش نے غصّے میں آ کر سوئی پھینک دی اور بولا، "جب کوئی میری مدد نہیں کرنا چاہتا تو میں کیوں کتّے کا منہ سیتا پھروں؟"
خرگوش غصّے سے پیر پٹختا ہوا دربار سے باہر نکلا اور اپنے گھر چلا گیا۔ اُسے ایک دن اچھا سبق مل گیا تھا، یعنی جو کوئی غرور کرتا ہے، کبھی نہ کبھی اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ اس نے دل میں ٹھان لیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ شیر کو ضرور مزہ چکھائے گا۔ کیوں کہ بھرے دربار میں شیر نے اس کی بےعزتی کی ہے۔
 
خرگوش نے شیر کو درخت سے باندھ دیا
ایک دن وہ جنگل میں اچھلتا کُودتا جا رہا تھا کہ شیر سے اس کی ٹکّر ہو گئی۔ شیر نے گرج کر پوچھا، "کیا بات ہے، تم کہاں بھاگے جا رہے ہو؟"
خرگوش بدحواسی سے بولا، "بھاگیے سرکار، بڑی زور کی آندھی آ رہی ہے۔ درخت گر رہے ہیں اور جانور اُڑے جا رہے ہیں۔"
شیر بولا، "میں اتنا بھاری ہوں کہ تیزی سے دوڑ نہیں سکتا۔"
خرگوش جھٹ بولا، "میں آپ کو درخت سے باندھ دیتا ہوں سرکار۔ پھر آپ بالکل نہیں اُڑ سکیں گے۔"
"اچھا، جلدی کرو۔" شیر نے بے صبری سے کہا۔
خرگوش نے جیب سے ڈوری نکالی اور شیر کو کس کر درخت سے باندھ دیا۔ پھر اس نے جیب سے شیشہ اور کنگھا نکالا، اپنے بال درست کیے اور گیت گنگنانے لگا۔ شیر کچھ دیر تو یوں ہی کھڑا رہا، پھر اس نے پوچھا، "تم یہاں کیوں کھڑے ہو، بھاگتے کیوں نہیں؟"
"میں یہاں آپ کی حفاظت کروں گا۔" خرگوش بولا۔
کافی دیر گزر گئی، شیر بولا، "ابھی تک تو کوئی آندھی نہیں آئی۔"
"میں بھی حیران ہوں۔" خرگوش بولا۔
"تو پھر مجھے کھول دو۔"
"یہ کام مجھ سے نہ ہو سکے گا۔" خرگوش بےفکری سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔ شیر غصّے سے دھاڑنے لگا۔ اس کی آواز سن کر جنگل کے سب جانور گھروں سے نکل آئے اور تماشا دیکھنے لگے۔
شیر نے حکم دیا، "بھیڑیے! تم آگے آؤ اور مجھے کھول دو۔"
خرگوش نے فوراً کہا، "اگر تم آگے آئے تو میں تمہیں بھی باندھ دوں گا۔"
بھیڑیا سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔
شیر نے ریچھ کو حکم دیا، "تم آ کر مجھے کھول دو۔"
خرگوش نے فوراً کہا، "شاباش آگے آ جاؤ۔ ہاں ڈرو نہیں۔"
ریچھ بھی ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ سب جانور سہمے ہوئے کھڑے دیکھتے رہے، لیکن کسی کو آگے آنے کی ہمّت نہیں ہوئی۔ جو غریبوں کو ستانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، ان کے دل ذرا کمزور ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ مصیبت آنے پر نہ کسی کی مدد کرتے ہیں اور نہ کوئی اُن کی مدد کو آتا ہے۔
خرگوش نے کہا، "تم لوگوں نے دیکھ لیا کہ میں صرف چالاک ہی نہیں طاقتور بھی ہوں۔ اب تم اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ ورنہ تمہیں بھی شیر کے ساتھ باندھ دوں گا۔
سب جانور خاموشی سے لوٹ گئے۔ کچھوا رینگتا ہوا آگے آیا اور بولا، "یہ تم نے کس جرم کی سزا دی ہے شیر کو؟"
خرگوش اس کا ہاتھ تھام کر بولا، "بھرے دربار میں میری بےعزّتی کی تھی۔ آج اس کی سزا پا رہا ہے۔"
کمزور اور مظلوم ظالم کی غلطیوں کو کبھی معاف نہیں کرتے۔ موقع ملتے ہی وہ اپنا بدلہ ضرور اتارتے ہیں۔ اب شیر بندھا ہوا بے بس کھڑا تھا۔
خرگوش اور کچھوا جانے کے لیے مڑے۔ شیر پھر بولا، "مجھے کھول دو، ورنہ کچّا چبا جاؤں گا۔"
خرگوش جاتے ہوئے بولا، "کچھ دیر اور بندھے رہو، پھر تم کسی کو نہ کھا سکو گے۔"
وہ اسے چھوڑ کر چل دیا۔ ظالم شیر وہاں کتنے ہی دن بندھا رہا اور اسی حالت میں مر گیا۔
 
Top