پوشیدہ سبق

frame -of- reference
کوئی کہتا ہے کہ
آج بہت گرمی ہے۔
جواب میں ایک آدمی کہتا کہ
آپ کی بات درست نہیں ہے۔اتنی گرمی بھی نہیں ہے بلکہ موسم معتدل ہے۔
کوئی اور کہتا ہے کہ آپ جھُوٹ بول رہے ہیں۔ آج تو بہت سردی ہے۔
یہ تینوں بیانات مختلف ہیں۔بظاہر ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک ہی وقت میں یہ تینوں بیانات درست بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بیان کرنے والوں کا frame - of -reference مختلف ہے یعنی پہلا بندہ اس علاقے میں کھڑا ہے جہاں اس وقت گرمی ہے دوسرا بندہ معتدل موسم میں کھڑا ہے اور تیسرا بندہ اس وقت سرد علاقے سے یہ بیان دے رہا ہے تو یہ تینوں بیانات درست ہیں۔
سبق- دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے بات کرتے اور سمجھتے ہوئے frame- of -referenceکا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ورنہ ہم غلطی سے ایک دوسرے کو جھٹلارہے ہوں گے۔
 
میری قومی زبان اردو ہے۔آج گفتگو کرتے ہوئے میں نے غور کیا کہ گفتگو کے الفاظ کیا تھے۔ گفتگو زیادہ تر درج ذیل الفاظ پر مشتمل تھی۔
کمپیوٹر۔ موبائل۔ سیل فون۔ سِم۔ ٹیلی وژن۔ ڈرامہ۔ ہینڈ فری۔ ہیڈفون۔ کار۔ٹیلی فون۔ وٹس ایپ۔ گوگل۔ یوٹیوب۔ویورز۔لائیکس۔فیس بک۔کال۔مس کال۔لیپ ٹاپ۔ٹوئیٹر۔ویب سائیٹ۔ایپس۔پلے سٹور۔آن لائن۔گلوبل۔لوکل وغیرہ۔
پھر میں نے غور کیا کہ ان میں سے کون سا لفظ ہے جو اردو زبان کاہے۔ تو پتہ چلا کوئی نہیں۔ پھر میں نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہے تو جواب جو ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ جن لوگوں نے یہ چیزیں بنائیں انہوں نے ظاہر ہے اپنی زبان میں نام رکھے۔ باقی زبانوں والے یا تو یہی نام اپنالیں یا پھر کوئی الٹا سیدھا غیر معروف ترجمہ کرلیں۔ جو شاید بولنے والوں کو ہی پسند نہ آئے۔

نتیجہ:- جو قومیں ترقی میں پیچھے ہوں گی وہ ہر میدان میں پیچھے ہوں گی حتیٰ کہ ان کی زبان اور ثقافت بھی جامد ہو جائے گی متحرک نہیں رہے گی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
frame -of- reference
کوئی کہتا ہے کہ
آج بہت گرمی ہے۔
جواب میں ایک آدمی کہتا کہ
آپ کی بات درست نہیں ہے۔اتنی گرمی بھی نہیں ہے بلکہ موسم معتدل ہے۔
کوئی اور کہتا ہے کہ آپ جھُوٹ بول رہے ہیں۔ آج تو بہت سردی ہے۔
یہ تینوں بیانات مختلف ہیں۔بظاہر ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک ہی وقت میں یہ تینوں بیانات درست بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بیان کرنے والوں کا frame - of -reference مختلف ہے یعنی پہلا بندہ اس علاقے میں کھڑا ہے جہاں اس وقت گرمی ہے دوسرا بندہ معتدل موسم میں کھڑا ہے اور تیسرا بندہ اس وقت سرد علاقے سے یہ بیان دے رہا ہے تو یہ تینوں بیانات درست ہیں۔
سبق- دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے بات کرتے اور سمجھتے ہوئے frame- of -referenceکا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ورنہ ہم غلطی سے ایک دوسرے کو جھٹلارہے ہوں گے۔
اگر تینوں ایک ہی مقام پر ہوں تب بھی کیفیات سب کی الگ الگ ہو سکتی ہیں۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
میری قومی زبان اردو ہے۔آج گفتگو کرتے ہوئے میں نے غور کیا کہ گفتگو کے الفاظ کیا تھے۔ گفتگو زیادہ تر درج ذیل الفاظ پر مشتمل تھی۔
کمپیوٹر۔ موبائل۔ سیل فون۔ سِم۔ ٹیلی وژن۔ ڈرامہ۔ ہینڈ فری۔ ہیڈفون۔ کار۔ٹیلی فون۔ وٹس ایپ۔ گوگل۔ یوٹیوب۔ویورز۔لائیکس۔فیس بک۔کال۔مس کال۔لیپ ٹاپ۔ٹوئیٹر۔ویب سائیٹ۔ایپس۔پلے سٹور۔آن لائن۔گلوبل۔لوکل وغیرہ۔
پھر میں نے غور کیا کہ ان میں سے کون سا لفظ ہے جو اردو زبان کاہے۔ تو پتہ چلا کوئی نہیں۔ پھر میں نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہے تو جواب جو ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ جن لوگوں نے یہ چیزیں بنائیں انہوں نے ظاہر ہے اپنی زبان میں نام رکھے۔ باقی زبانوں والے یا تو یہی نام اپنالیں یا پھر کوئی الٹا سیدھا غیر معروف ترجمہ کرلیں۔ جو شاید بولنے والوں کو ہی پسند نہ آئے۔

نتیجہ:- جو قومیں ترقی میں پیچھے ہوں گی وہ ہر میدان میں پیچھے ہوں گی حتیٰ کہ ان کی زبان اور ثقافت بھی جامد ہو جائے گی متحرک نہیں رہے گی۔
میں آپ کے تجزیئے سے اختلاف رکھتا ہوں، یہ ترقی نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ انگریز کی غلامی کا چسکہ ہے جو بھولے سے نہیں بھولتا اور طرہ یہ کہ ان کا طرزِ معاشرت نوجوان طبقے کا مرکزِ نگاہ بن کر رہ گیا ہے۔
بھارت پاکستان سمیت بہت سے ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہے لیکن جس قدر وہ ہم سے ترقی میں زیادہ ہیں وہ اپنی ہندی کو اسی قدر انگریزی کے سامنے کم تر سمجھتے ہیں۔
اور دوسری طرف عرب لوگوں کو دیکھیے جنہوں نے ترقی کے میدان میں تو کچھ نہیں کیا (محض تیل کی کمائی یا اب مغرب والوں کے لیے دلکش بیچیز کی وجہ سے کما رہے ہیں) لیکن ان کے اداروں میں چلے جائیے یہاں کا مقامی شخص اپنے مقامی لباس میں ہی دکھائی دے گا۔ اور یہاں پر سرکاری طور پر اپنی زبان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ جب آپ کا مراسلہ پڑھ کر میں باہر نکلا تو ایک سکول بس جا رہی تھی (سکول بس کا آپ اردو لفظ سوچ کر دکھائیں) جس پر اس طرح درج تھا "حافله مدرسیہ" "School Bus" اور یہاں ہر بورڈ پر عربی اور انگریزی دونوں لکھی ہوئی ملے گی اور عربی ہمیشہ اوپر ہی ہو گی۔
ایسا نہیں کہ عربی انگریزی نہیں سیکھتے یا پڑھتے، شوق سے پڑھتے ہیں۔ لیکن عام سی عام چیزوں کے نام ان میں عربی میں ہی بولے جاتے ہیں۔
 
اگر تینوں ایک ہی مقام پر ہوں تب بھی کیفیات سب کی الگ الگ ہو سکتی ہیں۔
سر کیفیات کے حوالے سے آپ کی بات درست ہے۔ لیکن حقیقت میں تینوں باتیں ایک مقام پر اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
میرا مطلب یہ تھا کہ دوسرے کے نقطہ نظر کو اپنےمحدود علم کی بنیاد پر رد کردینا درست نہیں۔ حتیٰ کہ آنکھوں دیکھی بات بھی موجودہ ماحول میں ہی درست ہوگی ہر جگہ اس کا اطلاق شاید درست نہ ہو۔
 
میں آپ کے تجزیئے سے اختلاف رکھتا ہوں، یہ ترقی نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ انگریز کی غلامی کا چسکہ ہے جو بھولے سے نہیں بھولتا اور طرہ یہ کہ ان کا طرزِ معاشرت نوجوان طبقے کا مرکزِ نگاہ بن کر رہ گیا ہے۔
بھارت پاکستان سمیت بہت سے ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہے لیکن جس قدر وہ ہم سے ترقی میں زیادہ ہیں وہ اپنی ہندی کو اسی قدر انگریزی کے سامنے کم تر سمجھتے ہیں۔
اور دوسری طرف عرب لوگوں کو دیکھیے جنہوں نے ترقی کے میدان میں تو کچھ نہیں کیا (محض تیل کی کمائی یا اب مغرب والوں کے لیے دلکش بیچیز کی وجہ سے کما رہے ہیں) لیکن ان کے اداروں میں چلے جائیے یہاں کا مقامی شخص اپنے مقامی لباس میں ہی دکھائی دے گا۔ اور یہاں پر سرکاری طور پر اپنی زبان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ جب آپ کا مراسلہ پڑھ کر میں باہر نکلا تو ایک سکول بس جا رہی تھی (سکول بس کا آپ اردو لفظ سوچ کر دکھائیں) جس پر اس طرح درج تھا "حافله مدرسیہ" "School Bus" اور یہاں ہر بورڈ پر عربی اور انگریزی دونوں لکھی ہوئی ملے گی اور عربی ہمیشہ اوپر ہی ہو گی۔
ایسا نہیں کہ عربی انگریزی نہیں سیکھتے یا پڑھتے، شوق سے پڑھتے ہیں۔ لیکن عام سی عام چیزوں کے نام ان میں عربی میں ہی بولے جاتے ہیں۔
آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں ۔ لیکن آپ جسے غلامی کہ رہے ہیں وہ مجبوری ہے جو محنت نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔بس جس نے بنائی اس کا نام بس رکھا اور وہی اس کا اصل نام ہے۔ باقی صرف ترجمے ہیں۔ اور اگرکوئی قوم محنت نہیں کرتی تو وہ اپنی زبان بچانے کے لیے صرف ترجمے پر لگی رہے گی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت ہر میدان میں نئی نئی چیزیں آرہی ہیں صرف دواؤں کے نام ہی لے لیں جیسا کہ پیراسٹامول تو کتنی دواؤں کے نام کے ترجمےکیے جائیں گے۔ اور اگریہ کربھی لیں تو دوسروں کو اپنی بات کیسے سمجھائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر میدان میں دو دو زبانیں سیکھنی ہوں گی ایک اپنی زبان اور ایک اصل زبان (اس ملک کی زبان جس نے وہ چیز بنائی ہوگی)۔
 

محمداحمد

لائبریرین
آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں ۔ لیکن آپ جسے غلامی کہ رہے ہیں وہ مجبوری ہے جو محنت نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔بس جس نے بنائی اس کا نام بس رکھا اور وہی اس کا اصل نام ہے۔ باقی صرف ترجمے ہیں۔ اور اگرکوئی قوم محنت نہیں کرتی تو وہ اپنی زبان بچانے کے لیے صرف ترجمے پر لگی رہے گی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت ہر میدان میں نئی نئی چیزیں آرہی ہیں صرف دواؤں کے نام ہی لے لیں جیسا کہ پیراسٹامول تو کتنی دواؤں کے نام کے ترجمےکیے جائیں گے۔ اور اگریہ کربھی لیں تو دوسروں کو اپنی بات کیسے سمجھائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر میدان میں دو دو زبانیں سیکھنی ہوں گی ایک اپنی زبان اور ایک اصل زبان (اس ملک کی زبان جس نے وہ چیز بنائی ہوگی)۔

دراصل آپ کی توجہ صرف ایجادات پر ہے۔ جو بات عبدالرؤف بھائی نے کی ہے وہ اردو زبان کے ساتھ ہمارے عمومی رویّے کی ہے۔

ہم لوگ انگریزی سے اتنے زیادہ مرعوب ہیں کہ آج اگر ہمارے سائنسدان کوئی چیز ایجاد بھی کر لیں تو اُس کا نام اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہی رکھا جائے گا۔ بہت سے ایسے سائنسی کام ہیں جو پاکستان میں طلباء کر رہے ہیں اور وہ اپنے تھیوریز اور ایجادات کو انگریزی ناموں سے ہی منسوب کرتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی دریافت یا ایجاد بین الاقوامی سطح پر پیش کرنی ہوتی ہے۔

لیکن یہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ ہم نے تو اردو زبان کے ساتھ بہت ہی برا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ ہمارے دفتروں میں انگریزی رائج ہے۔ ہمارے اشتہارات میں انگریزی چلتی ہے یا رومن اردو لکھائی۔ ہمارے میڈیا پر انگریزی ملی اردو بولی جاتی ہے اور ہم اپنی زبان کو اُس کا حق دینے پر راضی نہیں ہیں۔

جو اردو الفاظ کل بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں آج اُن کی جگہ انگریزی الفاظ کے پیوند لگائے جاتے ہیں اور نتیجتاً لوگ اردو بھولتے جا رہے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ فلاں چیز کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے جو آپ بتا رہے ہیں۔
 
ایک ایمرجنسی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے میں جڑانوالہ تحصیل کی ایک نشیبی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ تین موٹر سائیکل سوار وں کو ایک کارنے پرزور ٹکر ماری ہے اور اب وہ سڑک سے دور خون میں لت پت پڑے ہیں۔ میں نے ساتھیوں کو سامان نکالنے کا کہا اور دو ادھیڑ عمر مردوں کی جانب بڑھا۔انھیں فوراپٹی، ڈرپ اور ہسپتال پہنچانے کی ضرورت تھی۔ ان دو کے درمیان موٹر سائیکل پر بیٹھی بزرگ خاتون جن کی عمر اسی کے لگ بھگ ہوگی ، ان کی ایک ٹانگ تو بہت سی جگہوں سے فریکچر ہوکر بالکل چورا بن چکی تھی۔ ان کی ایمرجنسی مدد کے لیے میں خود آگے بڑھا، وہ خون زیادہ بہنے کی وجہ سے کومے میں جارہی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا، وہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ میں نے سننے کی کوشش کی تو وہ پنجابی میں کہہ رہی تھیں کہ مجھے چھوڑو، میرے بیٹوں کو دیکھو!
اللہ تعالیٰ دنیا کی تمام ماؤں کو سلامت رکھے اور میری والدہ محترمہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
 
ایک ایمرجنسی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے میں جڑانوالہ تحصیل کی ایک نشیبی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ تین موٹر سائیکل سوار وں کو ایک کارنے پرزور ٹکر ماری ہے اور اب وہ سڑک سے دور خون میں لت پت پڑے ہیں۔ میں نے ساتھیوں کو سامان نکالنے کا کہا اور دو ادھیڑ عمر مردوں کی جانب بڑھا۔انھیں فوراپٹی، ڈرپ اور ہسپتال پہنچانے کی ضرورت تھی۔ ان دو کے درمیان موٹر سائیکل پر بیٹھی بزرگ خاتون جن کی عمر اسی کے لگ بھگ ہوگی ، ان کی ایک ٹانگ تو بہت سی جگہوں سے فریکچر ہوکر بالکل چورا بن چکی تھی۔ ان کی ایمرجنسی مدد کے لیے میں خود آگے بڑھا، وہ خون زیادہ بہنے کی وجہ سے کومے میں جارہی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا، وہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ میں نے سننے کی کوشش کی تو وہ پنجابی میں کہہ رہی تھیں کہ مجھے چھوڑو، میرے بیٹوں کو دیکھو!
اللہ تعالیٰ دنیا کی تمام ماؤں کو سلامت رکھے اور میری والدہ محترمہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے
 
ایک ایمرجنسی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے میں جڑانوالہ تحصیل کی ایک نشیبی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ تین موٹر سائیکل سوار وں کو ایک کارنے پرزور ٹکر ماری ہے اور اب وہ سڑک سے دور خون میں لت پت پڑے ہیں۔ میں نے ساتھیوں کو سامان نکالنے کا کہا اور دو ادھیڑ عمر مردوں کی جانب بڑھا۔انھیں فوراپٹی، ڈرپ اور ہسپتال پہنچانے کی ضرورت تھی۔ ان دو کے درمیان موٹر سائیکل پر بیٹھی بزرگ خاتون جن کی عمر اسی کے لگ بھگ ہوگی ، ان کی ایک ٹانگ تو بہت سی جگہوں سے فریکچر ہوکر بالکل چورا بن چکی تھی۔ ان کی ایمرجنسی مدد کے لیے میں خود آگے بڑھا، وہ خون زیادہ بہنے کی وجہ سے کومے میں جارہی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا، وہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ میں نے سننے کی کوشش کی تو وہ پنجابی میں کہہ رہی تھیں کہ مجھے چھوڑو، میرے بیٹوں کو دیکھو!
اللہ تعالیٰ دنیا کی تمام ماؤں کو سلامت رکھے اور میری والدہ محترمہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
آمین۔
 
دراصل آپ کی توجہ صرف ایجادات پر ہے۔ جو بات عبدالرؤف بھائی نے کی ہے وہ اردو زبان کے ساتھ ہمارے عمومی رویّے کی ہے۔

ہم لوگ انگریزی سے اتنے زیادہ مرعوب ہیں کہ آج اگر ہمارے سائنسدان کوئی چیز ایجاد بھی کر لیں تو اُس کا نام اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہی رکھا جائے گا۔ بہت سے ایسے سائنسی کام ہیں جو پاکستان میں طلباء کر رہے ہیں اور وہ اپنے تھیوریز اور ایجادات کو انگریزی ناموں سے ہی منسوب کرتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی دریافت یا ایجاد بین الاقوامی سطح پر پیش کرنی ہوتی ہے۔

لیکن یہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ ہم نے تو اردو زبان کے ساتھ بہت ہی برا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ ہمارے دفتروں میں انگریزی رائج ہے۔ ہمارے اشتہارات میں انگریزی چلتی ہے یا رومن اردو لکھائی۔ ہمارے میڈیا پر انگریزی ملی اردو بولی جاتی ہے اور ہم اپنی زبان کو اُس کا حق دینے پر راضی نہیں ہیں۔

جو اردو الفاظ کل بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں آج اُن کی جگہ انگریزی الفاظ کے پیوند لگائے جاتے ہیں اور نتیجتاً لوگ اردو بھولتے جا رہے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ فلاں چیز کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے جو آپ بتا رہے ہیں۔
محترم جناب محمداحمد صاحب!
جذبات میرے بھی وہی ہیں جو آپ کے ، بھائی عبدالروؤف صاحب یا کسی بھی اردو بولنے والے کے ہوسکتے ہیں۔زبان اور ثقافت بنائی نہیں جاتیں بلکہ جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں تویہ وجود میں آتی ہے۔ جب زبان وجود میں آجاتی ہے تو پھر زبان کےماہربن جانے والے اسے خوبصورت بنانے کےلیے اس کی نوک پلک سنوارتے ہیں۔ اردو زبان بھی ایسے ہی وجود میں آئی۔ یہ کوئی آسمان سے اتری زبان نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی زبانیں اور تھیں۔ جب کوئی معاشرہ متحرک(ترقی پسند اور پھر ترقی یافتہ) ہوتا ہے تو اسے اپنی ثقافت اور زبان کی حفاظت نہیں کرنی پڑتی بلکہ دنیا اس کی زبان اور ثقافت کو اپنانا چاہتی ہے۔ کیونکہ دنیا کو ضروریاتِ زندگی اور روزگار کے لیے ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بات صرف آج کے لیے درست نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے۔آپ اسلام کازمانہِ عروج دیکھیں تو عرب ثقافت اور زبان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اس لیے یا تو پورا معاشرہ ترقی یافتہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اس میں زبان اور ثقافت بھی شامل ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ معاشرہ زوال کا شکار ہو اور زبان یا ثقافت کو کسی پٹاری میں محفوظ کرلیا جائے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
خورشید بھائی آپ دو مختلف دنیاؤں کو خلط ملط کر رہے ہیں۔ زبان اور شے ہے اور ایجادات اور۔
کسی ترقی یافتہ کا اپنی زبان کو محفوظ رکھ پانا ایسے ہی ضروری نہیں جیسے کہ زبان کو محفوظ رکھنے والوں کا ایجادات پر اپنا تسلط رکھنا۔
ابھی آپ نے عربی کی مثال دی۔ آپ اسے اسلام کے عروج کے زمانہ سے چھوڑیئے بلکہ کچھ پیچھے چلے جایئے، جب عرب کے دو اطراف میں دنیا کی دو زبردست قوتیں (سپر پاورز) موجود تھیں۔ جو اُس وقت ہر حوالے سے دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تھیں۔ لیکن عرب زبان دانی میں ان سے کہیں آگے تھے۔ باوجود اس کے کہ عرب میں کوئی مرکزی حکومت ہی موجود نہیں تھی۔ صرف ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ وہ مرعوبیت کا شکار نہیں تھے۔
 
خورشید بھائی آپ دو مختلف دنیاؤں کو خلط ملط کر رہے ہیں۔ زبان اور شے ہے اور ایجادات اور۔
کسی ترقی یافتہ کا اپنی زبان کو محفوظ رکھ پانا ایسے ہی ضروری نہیں جیسے کہ زبان کو محفوظ رکھنے والوں کا ایجادات پر اپنا تسلط رکھنا۔
ابھی آپ نے عربی کی مثال دی۔ آپ اسے اسلام کے عروج کے زمانہ سے چھوڑیئے بلکہ کچھ پیچھے چلے جایئے، جب عرب کے دو اطراف میں دنیا کی دو زبردست قوتیں (سپر پاورز) موجود تھیں۔ جو اُس وقت ہر حوالے سے دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تھیں۔ لیکن عرب زبان دانی میں ان سے کہیں آگے تھے۔ باوجود اس کے کہ عرب میں کوئی مرکزی حکومت ہی موجود نہیں تھی۔ صرف ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ وہ مرعوبیت کا شکار نہیں تھے۔
بھائی صاحب!
جہاں سے بحث شروع ہوئی وہاں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جہاں عام لوگوں کے استعمال کی نئی نئی چیزیں بن رہی ہیں ان کے نام بھی اسی زبان سے آتے ہیں جو ان چیزوں کے استعمال کرنے والوں کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔جب ہماری گفتگو کا زیادہ حصہ انہی چیزوں کے حوالے سے ہوگا (ہماری ضروریات کی وجہ سے) تو پھراسی کو ہم اپنی زبان کہیں گے۔ آپ کے پاس اس کا کوئی حل ہے تو بتادیں۔
عرب کے دورِ جہالت کی آپ نے بات کی تو آپ دیکھیں وہ زبان (بلیغ ہی سہی)انہی چیزوں پر مشتمل تھی اورہے جو ان کے معاشرے کا حصہ تھیں۔اور وہیں پرزبان منجمد ہوگئی۔ اب وہی قوم ہے لیکن موجودہ صورت حال میں ان کی بلاغت بھی ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔
میرا خیال ہے آپ شاید میرا نقطہ نظر سمجھنے کی بجائے چیزوں کو خلط ملط کررہے ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
Rich (BB code):
1) There shall be a complete ban on the use of Roman or any other language words for expressing the script of Urdu in print media or any indoor or outdoor media commercial messages or campaigns in the province.
(2) The Board shall ban using Roman or any other language words to express Urdu’s script.
(3) The Board shall make an order for the removal of writing for the expression of Urdu transcripts mentioned in subsection (1).
(4) Deliberately using Roman or any other language words, for expressing the script of Urdu or violating any provision of this section, shall be punished with a fine which may extend to two hundred thousand Rupees to the delinquents, to be deposited in Government Treasury, and impounding of such transcripts exhibitions material, billboard, etc.
بحوالہ: اردو لینگوئج ایکٹ ۲۰۲۲
 

زیک

مسافر
Rich (BB code):
1) There shall be a complete ban on the use of Roman or any other language words for expressing the script of Urdu in print media or any indoor or outdoor media commercial messages or campaigns in the province.
(2) The Board shall ban using Roman or any other language words to express Urdu’s script.
(3) The Board shall make an order for the removal of writing for the expression of Urdu transcripts mentioned in subsection (1).
(4) Deliberately using Roman or any other language words, for expressing the script of Urdu or violating any provision of this section, shall be punished with a fine which may extend to two hundred thousand Rupees to the delinquents, to be deposited in Government Treasury, and impounding of such transcripts exhibitions material, billboard, etc.
بحوالہ: اردو لینگوئج ایکٹ ۲۰۲۲
پورا قانون انگریزی میں تو ٹھیک ہے لیکن نام ہی اردو میں رکھ دیتے
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
بھائی صاحب!
جہاں سے بحث شروع ہوئی وہاں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جہاں عام لوگوں کے استعمال کی نئی نئی چیزیں بن رہی ہیں ان کے نام بھی اسی زبان سے آتے ہیں جو ان چیزوں کے استعمال کرنے والوں کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔جب ہماری گفتگو کا زیادہ حصہ انہی چیزوں کے حوالے سے ہوگا (ہماری ضروریات کی وجہ سے) تو پھراسی کو ہم اپنی زبان کہیں گے۔ آپ کے پاس اس کا کوئی حل ہے تو بتادیں۔
عرب کے دورِ جہالت کی آپ نے بات کی تو آپ دیکھیں وہ زبان (بلیغ ہی سہی)انہی چیزوں پر مشتمل تھی اورہے جو ان کے معاشرے کا حصہ تھیں۔اور وہیں پرزبان منجمد ہوگئی۔ اب وہی قوم ہے لیکن موجودہ صورت حال میں ان کی بلاغت بھی ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔
میرا خیال ہے آپ شاید میرا نقطہ نظر سمجھنے کی بجائے چیزوں کو خلط ملط کررہے ہیں۔
آپ ذرا تجزیہ کر کے دیکھیں کہ ان ایجادات (جنہیں آپ زبانوں کے فروغ پانے یا زوال پذیر ہونے کا اصل محرک سمجھ رہے ہیں) کی وجہ سے اردو زبان کا کتنا فیصد حصہ متاثر ہوا ۔ اور جو حصہ مرعوبیت کی وجہ سے متاثر ہے یعنی جس کا تعلق کسی قسم کی ایجاد سے نہیں ہے وہ کتنا ہے۔
شاید اس طرح سے آپ پر بات واضح ہو سکے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
اگر آپ یہ تجزیہ کریں گے تو ممکنہ طور پر آپ پر واضح ہو گا کہ ایجادات کی وجہ سے جس قدر انگریزی اردو میں داخل ہوئی ہے وہ شاید ایک فیصد بھی نہیں۔
اور جو انگریزی مرعوبیت کی وجہ سے داخل ہوئی وہ حصہ آپ کو لوگوں کے سٹیٹس کے ساتھ ساتھ بدلتا ہوا دکھائی دے گا۔
 
آخری تدوین:
Rich (BB code):
1) There shall be a complete ban on the use of Roman or any other language words for expressing the script of Urdu in print media or any indoor or outdoor media commercial messages or campaigns in the province.
(2) The Board shall ban using Roman or any other language words to express Urdu’s script.
(3) The Board shall make an order for the removal of writing for the expression of Urdu transcripts mentioned in subsection (1).
(4) Deliberately using Roman or any other language words, for expressing the script of Urdu or violating any provision of this section, shall be punished with a fine which may extend to two hundred thousand Rupees to the delinquents, to be deposited in Government Treasury, and impounding of such transcripts exhibitions material, billboard, etc.
بحوالہ: اردو لینگوئج ایکٹ ۲۰۲۲

پورا قانون انگریزی میں تو ٹھیک ہے لیکن نام ہی اردو میں رکھ دیتے

سب سے پہلے تو قانون بنانے والوں پر ہی جرمانہ لاگُو ہو نا چاہیے۔
 
Top