پنڈورا پیپرز: شوکت ترین، فیصل واوڈا، شرجیل میمن، مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں

جاسم محمد

محفلین
پنڈورا پیپرز: شوکت ترین، فیصل واوڈا، شرجیل میمن، مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں
ویب ڈیسک 03 اکتوبر ، 2021

پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں۔

پنڈورا پیپرز میں وزیرخزانہ شوکت ترین کی آف شور کمپنی جبکہ وفاقی وزیر مونس الٰہی اور سینیٹر فیصل واوڈا کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں۔


وزیرخزانہ شوکت ترین کا آف شورکمپنیوں کے حوالے سے بیان سامنے آگیا

تحقیقات میں پنجاب کے سابق وزیر عبدالعلیم خان کی آف شور کمپنی سامنے آئی جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کے بیٹے کی آف شور کمپنی بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

پنڈورا پیپرز میں پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کی آف شور کمپنی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیرصنعت خسرو بختیارکے اہل خانہ کی آف شورکمپنی بھی پنڈورا پیپرزمیں سامنے آئی ہے۔

وزیراعظم کےسابق معاون خصوصی وقارمسعود کے بیٹے کی بھی آف شورکمپنی نکل آئی جبکہ ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کی آف شور کمپنی بھی پنڈورا پیپرزمیں شامل ہے۔

اس کے علاوہ پنڈورا پیپرزمیں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران،کچھ بینکاروں، کاروباری شخصیات اور کچھ میڈیا مالکان کی آف شورکمپنیاں بھی سامنے آئیں ہیں۔

اگر قانون کے مطابق آف شور کمپنی ڈکلیئر کی گئی ہو اور وہ کمپنی کسی غیرقانونی کام کیلئے استعمال نہ ہو تو آف شور کمپنی بنانا بذات خود کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
ایک کرپٹ پارٹی کا صاف ستھرا سربراہ :)

F500-F683-D09-C-40-B9-BCA9-DA650-F04004-B.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
دنیا انھیں اسلام آباد کا مئیر بھی نہیں سمجھتی۔
معروف عالمی مالیاتی جریدہ فائننشل ٹائمز حالیہ دنوں اپنے ایڈیٹوریل میں لکھتا ہے کہ ہم (مغرب) غلط تھے اور وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان سے متعلق موقف درست تھا۔



جس شخص کی اوقات اسلام آباد کے میئر جتنی بھی نہیں اس کے موقف کو بیس سال بعد دنیا صحیح تسلیم کر رہی ہے۔ بغض عمران لا علاج ہے۔
 

علی وقار

محفلین
سامنے کی بات یہ ہے کہ خان صاحب معروف معنوں میں کرپٹ نہیں، انہیں حد سے حد نا اہل کہا جا سکتا ہے۔ مجھے نہیں لگ رہا ہے کہ خان صاحب کاروائی کریں گے۔ عاصم باجوہ کیس کسے یاد ہے؟ خان صاحب روایتی سیاست دان ہی ہیں، محض اعلان پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ حیرت تب ہوئی جب عاصم باجوہ کیس پر انہیں بذات کلین چٹ تھما دی تھی۔ اپوزیشن میں بھی ہمت نہ ہوئی کہ کیس لے کر کم از کم کسی کورٹ میں ہی لے جاتی۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ کرپٹ افراد ہر جماعت میں گھسے ہوئے ہیں اور بظاہر ان کے سر پر پنڈی بوائز نے ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ اس شیطانی چکر سے نجات مشکل دکھائی دیتی ہے۔
 

زیک

مسافر
معروف عالمی مالیاتی جریدہ فائننشل ٹائمز حالیہ دنوں اپنے ایڈیٹوریل میں لکھتا ہے کہ ہم (مغرب) غلط تھے اور وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان سے متعلق موقف درست تھا۔



جس شخص کی اوقات اسلام آباد کے میئر جتنی بھی نہیں اس کے موقف کو بیس سال بعد دنیا صحیح تسلیم کر رہی ہے۔ بغض عمران لا علاج ہے۔
لگتا ہے مضمون غور سے نہیں پڑھا
 

جاسم محمد

محفلین
لگتا ہے مضمون غور سے نہیں پڑھا
لبرلز کا عمران خان کو طالبان خان کہنا درست ثابت ہوا جبکہ امریکہ و اسکے اتحادیوں کی افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں پسپائی عمران خان کے موقف کی فتح ہے۔ اتنا کافی ہے یا اور غور سے پڑھنا ہے؟ منفی ریٹنگ کا انتظار رہے گا :)
 
Top