طارق شاہ

محفلین

دل رشکِ عدو سے نہ کبھی پائے گا فرصت !
قسمت میں یہ لِکھّا ہے کہ ،جلتا ہی رہے گا

ظالم کو یہی شغل، یہی کام مِلا ہے
چُٹکی سے دلِ زار مسلتا ہی رہے گا


غلام یاسین آہ
 

طارق شاہ

محفلین

سحر ہُوئی بھی تو اُس کو یقیں نہ آئے گا
جو بد نصیب اُمیدِ سحر سے گُذرا ہے

حَرَم ہو، دِیر ہو، راہیں ہیں ایک منزل کی
کوئی اِدھر سے تو کوئی اُ دھر سےگُذرا ہے

حفیظ ہوشیارپوری
 
Top