پاکستان کے صوبوں کا تعارف

محترم عزیز امین اب بھی پیغامات بڑھانے کی بجائے کام کی بات کریں اگر آپ کے پاس کوئی معلومات ہیں تو لکھ دیں ورنہ اگر کوئی اس دھاگہ پر عنوان پڑھ کر آئے گا تو کیا دیکھے گا۔ اس لئے میری موڈریٹر صاحبان سے درخواست ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی مفید معلومات نہیں ہیں تو غیرضروری پیغامات حذف کردیں تاکہ پڑھنے والوں کا وقت نہ ضائع ہو۔

تمام احباب کی نظروں میں مفید معلومات کی تعریف مختلف ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ اراکین اس بات سے بخوبی واقف ہو جاتے ہیں کہ کس رکن کے کس قسم کے پیغامات/دھاگے ان کے لئے معلوماتی، ڈرامائی، تفریحی یا وقت کا ضیاع ہوتے ہیں۔ :)
 

ساجد

محفلین
تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی۔
بندہ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ صوبے کا نام پنج+آب سے ماخوذ ہے یعنی پانچ دریاؤں کی سر زمین ۔ ان کے نام ہیں دریائے سندھ ، دریائے راوی ، دریائے جہلم ، دریائے چناب اور دریائے ستلج۔ یوں ہمت بھیا کی معلومات میں اضافہ بھی ہو جائے گا کہ اس صوبے کا نام یہاں بسنے والی قوم کے نام پہ نہیں بلکہ قوم کا نام خطے کے جٍغرافیائی نام سے ہے۔ پنجابی زبان بولی جاتی ہے لیکن قومی زبان کے ناطے سرکاری دفاتر اور اداروں میں اردو ہی بولی جاتی ہے۔ سرائیکی زبان پنجاب کے جنوب میں بولی جاتی ہے جبکہ پوٹھوہاری زبان اس کے شمالی حصے میں بولی جاتی ہے۔ یہ دونوں زبانیں پنجابی زبان ہی کی شاخیں ہیں ۔ اس کے علاوہ مقامی زبانوں کی بھی بہتات ہے اور لہجے کے فرق کے باوجود لوگ انہیں با آسانی سمجھ لیتے ہیں۔
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق انگریزی کا تڑکا پنجابیوں میں بھی مرغوب ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت اداکارہ میرا اور سید یوسف رضا گیلانی کی صرف و نحو کی قید سے آزاد انگریزی ہے اور اس بدیسی زبان کے محل کی غلام گردشوں میں راقم کو بھی پایا جا سکتا ہے۔
چلیں جی۔ آغاز ہم نے کر دیا ، اب دیگر ساتھی بھی حصہ داری کریں۔ بندہ بھی جاری رکھے گا۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
قیصرانی کی خاطر
میرا ضلع لودھراں ہے ، پنجاب کا سب سے چھوٹا ضلع (رقبے کے لحاظ سے تو ہے ہی اللہ آبادی کے لحاظ سے بھی چھوٹا ہی رکھے)
پاکستان کا سب سے پر امن ضلع، قدرتی آفات سے بھی اور انسانی آفات (دہشت گردی وغیرہ) سے بھی محفوظ رہا ہے اب تک ، اللہ کرے ہمیشہ ایسا ہی پر امن رہے۔ یہاں کی مقامی زبان سرائیکی ہے۔ زرعی علاقہ ہے ، زیادہ تر کپاس اور گندم کاشت ہوتی ہے

نوٹ:۔ عزیزی برادر اب خدا کا خوف کرو ، اور اپنے ضلع کا بھی تعارف (مرچ مصالحے سے پاک) پیش کرو
 
ضلع جھنگ کا تعارف میں کروا دیتا ہوں۔
دو دریاؤں کی سرزمین
دو دریاؤں کی سرزمین کہا جا سکتا ہے کہ اس میں سے دو دریا یعنی جہلم اور چناب گزر کر جاتے ہیں بلکہ یہ جھنگ میں آ کر آپس میں ضم ہو جاتے ہیں اور اکٹھے ہو کر تریموں ہیڈ سے گزر تے ہیں۔
تریموں ہیڈ
تریموں ہیڈ ورکس سے تریموں سدھنائی رابطہ نہر کے ذریعے پانی کو دریائے راوی میں ڈالا جاتا ہے۔
یہ تریموں ہیڈ جہاں ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ بہت سے دیگر اضلاع کو آپس میں ملانے کا اہم ذریعہ ہے وہاں اس پل کے آر پار شوگر ملز کے بن جانے کی وجہ سے اور پھر ٹریکٹر ٹرالیوں کی گنے سے اوور لوڈنگ کی وجہ سے اکثر اوقات یہاں ٹریفک بلاک کا مسئلہ رہتا ہے۔
ایوب چوک
جھنگ کا ایوب چوک اس حوالے سے مشہور ہے کہ یہاں سے ملک کے مختلف علاقوں میں آنے جانے والی ٹریفک گزر کر جاتی ہے۔
جھنگ بہت پرانا ضلع
جھنگ بہت پرانا ضلع ہے غالباً 1858 کے قریب اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا جس کا حدود اربعہ اب نصف سے بھی شاید کم رہ چکا ہے اور غالباً پانچویں دفعہ شکست ریخت کی وجہ سے ضلع چنیوٹ بھی جھنگ کی کوکھ سے جنم لے چکا ہے۔
سیاست دان
سیاست دان یہاں کے بہت تجربہ کار اور بہت سی اہم پوسٹوں پر رہ چکے ہیں مثلاً فیصل صالح حیات، شیخ وقاص اکرم وغیرہ اور بہت سے مالدار بھی ہیں جبکہ عوام یہاں کے نسبتاً غریب ہیں۔ جاگیر دارانہ نظام کافی حد تک اپنی بقا کو یقینی بنائے ہوئے ہے۔
زراعت
زرعی علاقہ ہے گنا، چاول، کپاس، گندم، چنا یہاں کی اہم فصلوں میں سے ہیں۔ غالباً تین شوگر ملز بھی قائم ہیں۔
تعلیم
یہاں کے لوگ ذہین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بہت شوقین ہیں لیکن یہاں تعلیم کے مواقع نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیم کےلئے دیگر اضلاع کا رخ کرتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام کا تعلق بھی جھنگ سے تھا۔ اور گورنمنٹ کالج جھنگ میں ایک بلاک جس میں کیمسٹری اور فزکس کی کلاسز لگتی ہیں، کو عبدالسلام بلاک کے نام سے موسوم ہے۔
مزاراتِ اولیائے کرام
اولیائے کرام کے مزارات بھی یہاں بکثرت ہیں بالخصوص حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ، حضرت نورِ اصحاب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت عبد الرحمٰن بن عباس بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب (رضی اللہ عنہم) تابعی بزرگ (رحمۃ اللہ علیہ) کے مزارات قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین کے مزارات بھی ہیں۔ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے والدین کے مزارات بھی شورکوٹ میں ہیں جو ضلع جھنگ کی ایک تحصیل کا درجہ رکھتی ہے۔
ہیر سیالاں دی
ہیر کا مزار بھی جھنگ کا ایک مشہور مقام ہے۔ باقی تعارف پھر کسی وقت! ان شاء اللہ!
 

عزیزامین

محفلین
کسی ضلع میں کوئی خاص جنگلی حیات بھی ہو تو وہ بھی زکر کریں جیسے ضلع گجرات میں ہریل پاے جاتے ہیں یہ میرا پسندیدہ پرندہ ہے
 
Top