پاکستان کے اندر اسرائیل کی تشکیل

nazar haffi

محفلین
تحریر: نذر حافی


اس مرتبہ کے انتخابات ہماری قوم کی طرح طالبان کے لئے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلام کے ٹھیکیداروں نے اب تک ملتِ پاکستان کا جتنا بھی قتلِ عام کیا ہے اب وہ چاہتے ہیں کہ اس قتلِ عام کے صلے کے طور پرانہیں ایک سیاسی طاقت تسلیم کیا جائے اور اس طرح وہ ایک نام نہاد سیاسی عمل سے گزر کر کے ملت پاکستان کے سینے پر چڑھ بیٹھیں۔ امریکہ اور طالبان کے باہمی گٹھ جوڑ کے سینکڑوں شواہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ 2009ء میں جب پاک فوج نے وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تو نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں تاکہ وہاں سے افغانی باآسانی وزیرستان میں داخل ہو سکیں۔ اس وقت وزیر داخلہ رحمان ملک نے بیان دیا کہ ہم نے اس بارے میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔ طالبان کے ہاتھوں نہ صرف یہ کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے بلکہ طالبان ہر اسلام دشمن اور مسلم کش ملک اور ایجنسی کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں جیساکہ جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان سے جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے ان سے بھارتی کرنسی اور اسلحے کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے اور اس حقیقت کا انکشاف 12 جولائی 2009ء کو پاکستانی اخبارات نے کیا۔

اسی طرح نومبر 2009ء میں ہی پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال بھارتی لٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ ان کے مطابق مناسب کارروائی کے لئے یہ شواہد وزارت خارجہ کو بھجوا دیئے گئے تھے۔ جب اس طرح کے حقائق مسلسل منظرِ عام پر آنے لگے تو طالبان کو تحفظ دینے کی خاطر ہمارے حکومتی اداروں میں بیٹھے ہوئے طالبان نواز کارندوں نے طالبان کو کئی ناموں اور ٹولوں میں تقسیم کر دیا، مثلاً افغانی طالبان، پٹھان طالبان، مہاجر طالبان، پنجابی طالبان، سندھی طالبان۔۔۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں طالبان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ سب طالبان کی مدد کرنے کی بہترین چال ہے تاکہ لوگوں سے کہا جائے کہ فلاں طالبان برے ہیں اور فلاں طالبان تو بہت نیک، متقی اور اللہ والے ہیں۔ اسی طرح طالبان نے بھی اپنے استعماری آقاوں کو خوش کرنے کے لئے بری امام سے لے کر عبداللہ شاہ غازی تک اور امام بارگاہوں سے لے کر مساجد تک بے دردی کے ساتھ بےگناہ انسانوں کا قتلِ عام کیا ہے۔

انہوں نے مخلص اور دیانتدار سرکاری افیسروں کو موت کے گھاٹ اتار کر ملت پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہچایا، انہوں نے فرقہ واریت کا جھوٹا نعرہ لگا کر ہماری ملت کو بہترین ڈاکٹروں، انجینئروں، پروفیسروں اور شعراء سے محروم کیا۔ طالبان کے جرائم کی فہرست صرف طویل ہی نہیں بلکہ وحشتناک بھی ہے۔ طالبان نے عوام الناس کا صرف قتلِ عام نہیں کیا بلکہ وحشت و بربریت کی دل دہلا دینے والی داستانیں رقم کی ہیں۔ طالبان نے نہتے اور بےگناہ انسانوں پر ایسے ایسے مظالم کے پہاڑ توڑے کہ جنکے ذکر سے ہی پتھروں کا جگر بھی آب ہو جاتا ہے اور ہلاکو اور چنگیز کا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہے۔ آپ صرف اور صرف 14 اگست 2007ء کو طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے " لانس نائیک لائق حسین" کے قتل کے دردناک مناظر کو دیکھیں۔ پاکستان کے یومِ آزادی کے روز دشمنان پاکستان نے اس فرزندِ اسلام اور فرزندِ پاکستان کو اس بےدردی کے ساتھ ذبح کیا کہ اب رہتی دنیا تک جب بھی درندگی اور بربریت کی مثال دی جائے گی، سب سے پہلے " لانس نائیک لائق حسین" کی شہادت کا ذکر ہوا کرے گا۔

اگر طالبان کی کوئی دینی بنیاد ہوتی تو وہ کم از کم اتنا تو سوچتے کہ اس طرح بےگناہ انسانوں کو قتل کرنے کی دین اجازت نہیں دیتا بلکہ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ(ص) کی سیرت تو یہ ہے کہ آپ (ص) حالتِ جنگ میں بھی سپہ سالاروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ خبردار کوئی بےگناہ انسان نہ مارا جائے، بھاگتے ہوئے کا پیچھا نہیں کرنا، جو دروازہ بند کر دے اسے کچھ نہیں کہنا، کسی زخمی پر تلوار نہیں کھینچنا، خواتین اور بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھانا، فصلوں کو تباہ نہیں کرنا اور اسیروں کو قتل نہیں کرنا۔ دینِ اسلام میں اگر جانور کو بھی ذبح کیا جائے تو اس کے بھی خاص احکامات ہیں اور ان میں سے بھی ایک خاص حکم یہ ہے کہ جانور کو پہلے پانی پلاو۔ شکار کے لئے بھی حکم ہے کہ محض سیر و تفریح کے لئے جانوروں کی جانوں کا اسراف نہ کرو۔ کہاں دینِ اسلام کی کریمانہ تعلیمات اور کہاں طالبان کا وحشی پن۔ طالبان کے کرتوت ہم سب کے سامنے ہیں۔ یہ لوگ فکری اور عملی طور پر پیغمر اسلام (ص) کے عین مخالف ہیں۔ درندگی ان کا دین ہے، وحشت و بربریت ان کی شریعت ہے اور ظلم و ستم ان کی سیرت ہے۔

موجودہ دور میں دنیا کے اندر طالبان کی طرز کا بےدین اور وحشی صرف اور صرف ایک گروہ ہے جسے "صیہونی"کہا جاتا ہے۔ جس طرح طالبان اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن دین اسلام کے عین مخالف ہیں، اسی طرح صیہونی بھی اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں لیکن عملی طور پر دین یہودیت کے عین خلاف ہیں اور دونوں کی قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں امریکہ و برطانیہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس طرح مسلمان طالبان سے بیزار ہیں اسی طرح یہودی بھی صیہونیوں سے متنفر ہیں۔ طالبان اور صیہونیوں کے جنم اور باہمی اتحاد کا حقیقی نقشہ کچھ اس طرح سے ہے کہ موجودہ دور میں استعماری دنیا اچھی طرح یہ جانتی ہے کہ اگر اسرائیل کا خاتمہ ہو گیا تو اسلامی دنیا سے استعماری مفادات کی بساط لپٹ جائے گی۔ چنانچہ امریکہ و برطانیہ اسرائیل کو ہر صورت میں قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اسرائیل کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دنیاء اسلام کے قلب میں واقع ہونے کے باعث اسرائیل کو حقیقی خطرہ صرف اور صرف مسلمانوں سے ہے۔ استعماری طاقتوں کو مسلمانوں کے درمیان ایک ایسے طبقے کی ضرورت تھی جو بظاہر نہ صرف یہ کہ مسلمان ہو بلکہ خوارج کی طرح ایک ٹھوس قسم کا سچا اور پکا مسلمان نیز مجاہد بھی ہو جبکہ فکری طور پر مکمل صیہونی ہو اور مسلمانوں کے درمیان رہ کر صیہونی مفادات کا تحفظ کرے۔

اسرائیل کے تحفظ کی خاطر لوگوں کو اسلام اور جہاد سے متنفر کرنا امریکہ و برطانیہ کے لئے ضروری ہو چکا ہے۔ انہیں ایک ایسے گروہ کی ضرورت تھی جو مسلمان اور مجاہد بن کر لوگوں پر اس قدر شب خون مارے کہ چرچ، کلیسا، عوامی مراکز، بازار، مساجد، امام بارگاہیں اور اولیاء کرام کے مزارات سمیت کچھ بھی محفوظ نہ رہے تاکہ مسلمانوں کو اسرائیل کے خاتمے کی بجائے اپنی زندگی کی فکر پڑ جائے۔ اس گروہ کی تشکیل کے مراحل سعودی عرب اور پاکستان کے استعمار نواز حکمرانوں کی باہمی رضامندی سے انجام پائے اور پھر سادہ لوح مسلمانوں کے مخلص اور دیندار بچوں کو دینی مدارس کے سائے میں جہادی کیمپوں میں بھرتی کیا جانے لگا۔ ان جہادی کیمپوں کی آوٹ پُٹ آج ہم سب کے سامنے ہے، جسے دیکھ کر ہم بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کیمپوں میں بھرتی کئے جانے والے بچوں کو سو فی صد صیہونیت کے عقائد کے مطابق تربیت دی گئی ہے۔ یہاں پر یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر کسی کو صیہونیت و طالبان کے فکری و عقیدتی رابطے کا یقین نہ آئے تو وہ دل کھول کر تاریخ صیہونیت اور تاریخ طالبان پر تحقیق کرے اور پھر بلاتعصب صیہونی عقائد و افکار کا طالبان کے عقائد و افکار کے ساتھ موازنہ کر لے۔ ہر تجزیہ و تحلیل اور ریسرچ و تحقیق کرنے والا بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ جو کام ماضی میں منحرف یہودی کرتے تھے، مثلاً لوگوں کے گلے کاٹنا، عوامی مراکز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا ،مستحکم ممالک کو متزلزل کرنا، عورتوں کا استحصال کرنا، دین کے نام پر لوگوں کو ظلم و بربریت کی طرف دعوت دینا، پرامن بستیوں کو آن واحد میں کھنڈر بنا دینا، اپنے سوا باقی سب کو گمراہ سمجھنا، دوسرے مکاتب کے مفکرین اور سکالرز کو قتل کرنا، لاشوں کو درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے لٹکانا، پرامن بستیوں میں خوف و ہراس پھیلانا، انسانوں کو جانوروں کی طرح ہلاک کرنا اور آستین کا سانپ بن کر ڈسنا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ آج یہ سارے کام استعماری جہادی کیمپوں میں تربیت پانے والے طالبان کر رہے ہیں اور ان کا ادعا ہے کہ وہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔

اس وقت استعماری ایجنڈے کے مطابق طالبان کو میدان سیاست میں لانے کا کام کیا جا رہا ہے اور شاید یہ طالبان کے ساتھ کئے گئے امریکہ کے خفیہ معاہدوں کی تکمیل کا ایک مرحلہ بھی ہو۔ ممکن ہے طالبان کو امریکہ پاکستانیوں کے قتل عام کا صلہ انہیں پاکستانی سیاست میں شمولیت کی صورت میں دینا چاہتا ہو بالکل ایسے ہی جیسے یہودیوں کو نام نہاد ہولو کاسٹ کا صلہ اسرائیل کی صورت میں دیا گیا۔ پاکستان کے اندر بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی بنیاد پر ایک اسرائیل نما ریاست تشکیل دینے کے لئے اس وقت طالبان کی امیدوں کے تین محور ہیں۔ ایک محور کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور منور حسن جیسی شخصیات تشکیل دیتی ہیں۔ ایسے لوگ ڈنکے کی چوٹ پر طالبان کو ایوانِ اقتدار میں بٹھانے کی باتیں کرتے ہیں۔ دوسرا محور عام لوگوں کی نظر سے مخفی ہے، یہ محور اُن لوگوں سے تشکیل پاتا ہے جو بظاہر طالبان کے شدید مخالف ہیں لیکن درپردہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اور اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لئے طالبان کے سیاسی پارٹنر ہیں۔ یہ عوام النّاس کو دبے لفظوں میں طالبان سے ڈراتے ہیں اور انہیں مشورے کے طور پر یہ سمجھاتے ہیں کہ اگر طالبان سے مذاکرات نہ کئے گئے تو نہ ہی یہ قتل و غارت رک سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی حالت تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ لوگ خود بھی طالبان کی مانند کشت و خون پر عمل پیراہیں اور پاکستان کی سیاست میں دہشت گردی کے ذریعے داخل ہونے کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ عوامی سطح پر یہ لوگ طالبان کو اقتدار میں لانے کے لئے ماحول بنانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ طالبان کی امیدوں کا تیسرا محور نگران حکومت ہے۔ نگران حکومت کے دوران طالبان کی پوری کوشش رہے گی کہ ظالمانہ کارروائیوں میں اور زیادہ شدت لائی جائے تاکہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے نگران حکومت، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مجبور ہو جائے۔ ہم جس علاقے اور فرقے سے بھی تعلق رکھتے ہوں ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر آج اتنے بےگناہ انسانوں کے قتل کے بعد طالبان کو اقتدار اور سیاست میں شمولیت کا انعام دیا گیا تو کل کو کئی اور دہشت گرد گروپ سامنے آ جائیں گے اور اقتدار اور سیاست میں شمولیت کا مطالبہ کریں گے۔ یوں دہشت گردی منظم طریقے سے ہماری سیاست کا حصہ بن جائیگی اور پاکستان کے اندر ایک اور اسرائیل جنم لے لے گا۔ پاکستان میں ایک نئے اسرائیل کی تشکیل کی استعماری سازش کو روکنا ہم سب کی دینی و ملی ذمہ داری ہے۔
 
Top