وہی ایک عام سی بات ۔ ۔

اکمل زیدی نے 'روز مرہ کے معمولات سے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 19, 2017

  1. اکمل زیدی

    اکمل زیدی معطل

    مراسلے:
    2,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ابھی صبح آفس آتےہوئے : ۔ ۔ ۔ گاڑیاں رکی ہویں تھیں روڈ بلاک تھا روڈ کے دونوں طرف پاکستانی فوج کے چوکس جوان تھے ان سے زیادہ پولس اور ٹریفک والے چوکس لگ رہے تھے شاید کسی جرنیل کرنیل کو گذرنا تھا ایمبولینس پیچھے بین کر رہی تھی مگر آگے جانا بین تھا میں حسب معمول ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا اچانک روڈ کے دوسری طرف دیکھا ٹریفک پولس والے نے ایک جوان کو دبوچا ہوا تھا اور بال پکڑ کر بری طرح زدوکوب کر رہا تھا جس میں اس کا ساتھی اور پولس والا اپنے پیٹی بند بھائی کا ھاتھ بٹانے میں لگے ھوئے تھےآخر کو وہ بھی فرض شناس تھے بائک کچھ آگے بڑھائی گئ تھی جو اس جوان کی شامت کا سبب بنی مگر اتنی سی بات پر اس بری طرح سے مارنا سمجھ نہیں آیا میں نے جلدی سے اپنا فون نکالا کے ویڈیو بناوں مگر فاصلہ کافی تھا اور وہ اسے مارتے ہوے سائڈ پر لے گئے میں انتہائی غصے کے عالم میں یہ سب دیکھ رہا تھا ایک بندہ بھی کچھ کہنے کا رسک نہیں لے رہا تھا عجب بے حسی یا بے کسی کا منظر تھا میں کچھ سو چ کر بائک کو لمبا گھما کر اس سمت کو چل دیا، پٹ لونگا میں بھی مگر صدائے احتجاج ضرور بلند کرونگا یہ کیا مذاق ہے کسی کی کوئی عزت ہی نہیں ہے کیا حملہ کرتے ہوے پکڑا ہے کیا کوئ پرسان حال ہی نہیں ہے انہیں سوچوں میں میں ہم جا ئے وقوعہ پر پہنچے اور پہنچتے ہی ٹھنڈ پڑ گئ دل میں نہیں جذبات میں کیونکہ جن کے ساتھ واقعہ ہوا تھا وہ اس گناہ عظیم کی معافی تلافی کر کے جا چکے تھے اور ایک دوسرے صاحب جنہوں نے ذمہ داری محسوس کرتے ہوے وہاں خرکار سوری میرا مطلب ہے سرکار کو اس ناانصافی پر کہا تھا انہیں حد درجے کی مغلظات سے نواز رہے تھے وہ ٹریفک پولس والا اس عظیم انساں کے خاندان کے بارے میں اپنی مفروضہ معلومات سے لوگوں کو مستفیذ کر رہا تھا اور وہ بندہ انتہائی غم و غصہ میں اپنے جذبات پر قابو کیے اس کےکول ڈاءون ہونے کا انتظار کیے سن رہا تھا ۔ ۔ ہم بھی تماشائیوں میں کھڑے تھے کیونکہ اس تماشے کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا مار کھانے کا حوصلہ تو تھا ۔۔۔۔مگر ۔ ۔ ۔ ۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • غمناک غمناک × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آہ ....
    اکمل میاں ... یقین کیجیے عوامی مسائل کی فہرست اس قدر طویل اور دردناک ہے بعض اوقات لگتا ہے یہ بس اب آسمان ٹوٹ پڑے گا .....
    میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں. اور آپ کی بےبسی میں بھی ..............
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    یہی المیہ ہے ہمارے سرکاری اداروں کا ،اور سرکاری ملازمین کا۔اکثر حضرات سرکار کی چاکری ملتے ہی اپنے آپ کو عام خلق سے افضل تصور کرنے لگتے ہیں۔عام شہری کی عزت ایسے چاکروں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔وہ بحق سرکار جب چاہیں ،جیسا چاہیں کرسکتے ہیں ۔کوئی ان کو روکنے والا نہیں۔اور اگر کوئی ہمت پیدا کرکے کھڑا ہوتا بھی ہے تو اپنی عزت سے یا اپنی جان سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ کریم آپ کے دل میں بسی ملک اور قوم کی محبت اور جذبات زندہ رکھے۔آمین
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    5,024
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اس طرح کے واقعات دیکھتے ہوئے واقعی جی چاہتا ہے کہ بس "پنگا "لے ہی لیں۔اور کبھی لے بھی لیتے ہیں الحمداللہ۔
    لیکن پنگا لینا مہنگا بھی پڑ جاتا ہے۔ابھی وہ کلپ دیکھا ہوگا کہ ایک مزدور بندے نے لڑکیوں کو چھیڑتے کچھ لڑکوں کو منع کیا اور بے تحاشہ مار کھائی ان لڑکوں سے۔
    اور یہ بھی ہمارا عوامی مزاج بنتا جا رہا ہے دوسروں کی بے عزتی کرنا۔نجانے ایسا کرنے سے ہماری کون سی حس کو تسکین ملتی ہے۔
    ایک مرتبہ کسی دھرنے والے شہر میں جانا ہوا۔۔۔سڑک بند۔بہت پریشانی ہوئی۔گاڑی میں بیٹھے پولیس آفیسر سے اپنی مشکل بیان کی تو صاحب فرمانے لگے کہ یہیں کہیں دو گھنٹے انتظار کر لیں۔اللہ اس سپاہی کا ہمیشہ بھلا کرے جس نے راستہ بنا کر گذرنے دیا۔
    اللہ ہمیں مصیبت زدگان کی مدد کی توفیق اور آسانی دے۔
    اللہ ہمیں اپنی نظروں میں چھوٹا اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بنائے۔آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. اکمل زیدی

    اکمل زیدی معطل

    مراسلے:
    2,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    میں تو کئی مرتبہ پٹا ہوں ایک بار بس میں آگے لیڈیز میں مردوں کو بٹھانے پر شدید اعتراض میں ایک بار لاین کے بغیر بندے کو سہولت دینے پر اور بھی کئی واقعات ہیں دھرنے والی بات پر ایک بات یاد آگئ ابھی کچھ دنوں پہلے زرداری صاحب کے آنے پر سب کچھ بند تھا مجھے جہاں جانا تھا وہ جگہ بھی بند تھی میں نے کہا یار مجھے جانے دہ پولس والا بولا آرڈر نہیں ہے میں نے کہا کچھ نہیں ہو سکتا ؟ کہنے لگا ہاں ایک کام ہو سکتا ہے میں نے کہا کیا کہنے لگا دونوں ھاتھ اٹھاؤ ۔ ۔ میں گھبرا گیا پوچھا کیوں کہنے لگا بددعا کرو ۔ ۔ ۔ :(
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    5,024
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    میں نے بھی الحمداللہ اپنی زندگی میں بہت سے پنگے لئے ہیں۔اور ایک وقت آیا کہ پنگا سپیشلسٹ نام پڑ گیا۔جہاں دیکھا کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔۔یا کسی نے بے ایمانی کی کوشش کی۔۔۔اس راہ متعدد بار تکالیف بھی اٹھائیں۔اب صاحب ہاتھ پاوں بچا کے کام کرنے کو کہتے ہیں۔کیونکہ کئی بار تو کافی خطرے پیدا ہوئے۔وہ کہتے ہیں بچوں کا بھی سوچ لیا کرو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. اکمل زیدی

    اکمل زیدی معطل

    مراسلے:
    2,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    صحیح کہتے ہیں احتیاط بہتر ہے مگر کبھی کبھی بولنا بھی پڑ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اجرکم من اللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اکمل میاں ہم نے بھی کئی ایک کی انہی باتوں پر دھلائی کی ہے۔ بچیوں کے کالج کے باہر عموماََ غلط قسم کے لوگ آجاتے ہیں ۔ انہیں راستہ دیکھایا جانا ضروری ہوجاتا ہے ۔ بسوں میں خواتین والے حصے میں مردوں کے داخلے پر عموماََ بس والے سے ، اور بس میں گانے لگانے سے خصوصاََ بس والے سے جھگڑا رہا ہے ۔ ایسے معاملات کا مجھے تو یہی ایک حل نظر آتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو صدائے احتجاج بلند کی جائے ، مایوس ہوکر بیٹھے رہنےسے معاملات مزید بگڑتے ہیں ۔ آواز اٹھانے سے ایک فرد کا نقصان ہوتا ہے آواز نہ اٹھانے سے پوری قوم کا۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    5,024
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    آپ تو میرے بھائی ہیں۔میں نے بھی بس والوں سے بہت جھگڑے کئے ہیں۔فلم دکھانے پہ۔گانے لگانے پہ۔خواتین کے حصہ میں مردوں کے آنے یا خواتین کی نشستوں پہ مردوں کو ساتھ بٹھانے پہ۔
    ریل گاڑی میں بھی کئی بار مختلف امور پہ ایسے کئی پنگے لئے ہیں۔
    الحمداللہ۔
    آپ کی بات بالکل درست ہے کہ صدائے احتجاج ضرور بلند کرنی چاہیے کوئی سنے یا نہ سنے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. اکمل زیدی

    اکمل زیدی معطل

    مراسلے:
    2,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ایک بار میں نے ابو سے پوچھا "ابو یہ جو چند لوگ احتجاج کے لیے نکل پڑتے ہیں اس کا فائدہ تو کچھ ہوتا نہیں کوئی سنتا تو ہے نہیں تو انہوں نے مسکرا کر کہا تھا جو لوگ خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کے ان کی کون سنتا ہے ۔" ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    زبردست
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شہروں کے مابین چلنے والی بسوں میں عموماً فلم وغیرہ لگادیتے ہیں. بعض اوقات تو واہیات گانے کی وڈیو چلا دیتے ہیں.
    شہر میں رکشہ والوں کو گانے لگانے کا منع کرو تو کمبخت قوالی لگا دیتے ہیں. ایک مرتبہ ایک نے استاد بہاالدین کی قوالی لگا دی ..... کلام جگر مرادآبادی کا ........ یہ ہماری کمزوری ہے .....باقی سفر سینے پر ہاتھ رکھ کر گزارا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4

اس صفحے کی تشہیر