وعدہ وفا برائے اصلاح

وفادار ہم سا نہ تجھ کو ملے گا
حیادار ہم سا نہ تجھ کو ملے گا

جو وعدہ کریں ہم تو کرتے ہیں پورا
یہ پختہ ارادہ نہ تجھ کو ملے گا

وفا ہی سے طے ہوتی ہے راہِ الفت
کوئی ہم سا راہی نہ تجھ کو ملے گا

یہ آساں نہیں ہیں محبّت کی راہیں
وفاؤں کا مرکز نہ تجھ کو ملے گا

دیں گے ساتھ تیرا ہی ہم تو دمِ آخر
یوں سایہ بھی اپنا نہ تجھ کو ملے گا

یہ ارشد سدا تیرا بن کر رہے گا
کہیں ساتھی ایسا نہ تجھ کو ملے گا
 

الف عین

لائبریرین
یہ تو آپ مہینوں پہلے والی غلطی پھر کر گئے!! اب خود ہی پہچانیں کہ کیا غلطی ہے
 
تبدیلیوں کے بعد دوبارہ حاضرِ خدمت
---------------------
افاعیل-- فعولن فعولن فعولن فعولن
--------------------
نہ ہم سا وفادار تجھ کو ملے گا
نہ ہم سا حیادار تجھ کو ملے گا

جو وعدہ کریں تو نبھاتے ہیں اُس کو
نہ ہم سا تو خود دار تجھ کو ملے گا

ہاں تجھ سے محبّت سدا ہی کریں گے
نہ ہم جیسا دلدار تجھ کو ملے گا

کریں گے محبّت عبادت سمجھ کر
نہ ایسا طرفدار تجھ کو ملے گا

چلو کرتے ہیں وعدہ الفت کا دونوں
نہ ہم سا طرح دار تجھ کو ملے گا

رواداری ہم کو نبھانے کی عادت
نہ ہم سا روادار تجھ کو ملے گا

یہ ارشد کی عادت ہے ڈرتا نہیں ہے
نہ ہم جیسا جی دار تجھ کو ملے گا
 
Top