تعارف وحشی کو سکوں سے کیا مطلب۔۔۔۔

نور وجدان

لائبریرین
اور یہ کیسے ممکن ہو پایا؟

انسان کے سارے سوالات کہاں سے نکلتے ہیں ؟ جہاں سوال کی زمین ہوتی ہے وہیں پر جواب کی سمندر بھی ہوتا ہے ۔ پانی مٹی کو ملتا ہے تو بنجر زمین پر پودا اگتا ہے ۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے انسان کو رہنمائی ملتی ہے جس کہ ہم استاد سے ملتی ہے ۔ اس محفل اتنے استاد ہیں کہ اب یہاں سے عشق ہوگیا ہے ۔ سچ کہ یہ انجمن ادب اور علم دوستاں کی محفل ہے
 
بہت دعاؤں کے ہمراہ بھتیجی کی سیٹ مبارک

اللہ سوہنا اس گمان کے آپ کے حق میں قبول فرمائے ۔ اور علم و آگہی کے نور سے نوازے ۔ آمین

یہ " وحشت " کہتے ہیں جسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کے ظاہر اور باطن پر کیا اثر ڈالتی ہے ؟
کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ " وحشت " ظاہر کو پریشان اور باطن کو پر سکون کر دیتی ہے ۔


اللہ سوہنا آپ کو دل درد مند کی حامل ہستی قرار فرمائے آمین​


حق مغفرت فرمائے ابن انشاء کے کلام اور شخصیت سے ذاتی طور پر بہت متاثر ہوں میں ۔
لیکن کچھ کہتے ہیں کہ آپ میں سودائیت اور یاسیت کی کیفیات کا غلبہ تھا ۔
اور " کوچ کرو " غزل بھی اسی یاسیت پر استوار تھی ۔

ماشاء اللہ
آپ نے سورت العصر کے مفہوم کو بلاشبہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا ۔۔

کیا کہیں گی آپ کہ " مطالعے کی زیادتی " سے سوچ میں انتشار پیدا ہوجانا " عین ممکن " ہے ۔؟

اللہ سوہنا ان مشاغل میں آپ کو آسانی بھری رحمت عطا فرمائے آمین

محترم عبیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناولوں کی تھیم میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے ۔۔
ذاتی طور پر میرا مشاہدہ ہے کہ عمیرہ احمد کے ناولز معصوم بچیوں کے ذہنوں میں رہبانیت کی سوچ ابھارتے ہیں ۔


آئیڈیاز ٹیکن شیپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ کتاب سے جنم لیتی ہے ۔ تو سوچ صورت کہاں پاتی ہے ۔؟

کہا جاتا ہے انسانی نفسیات " شعور ،لاشعور ، تحت الشعور " کے تین بند "خانوں " سے ابھرنے والی کیفیات پر استوار ہوتی ہے ۔
اور انسان کے وجدان تصور سوچ اور خیال پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ کیا کہیں گی کہ " حقیقت " کس خانے میں چھپی ہوتی ہے ۔
جب تنگ آ جائے محترم بٹیا میرے سوالوں سے
تو بلا جھجھک اظہار کر دیجئے گا ۔۔۔
کچھ جاننے کچھ سیکھنے کا بہانہ ہے بس ۔
بصد احترام خیر مبارک
ثم آمین
میری ادنٰی سی رائے یہ ہے کہ وحشت ایک تضاد ہے۔۔۔۔۔ جب انسان لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو بظاہر پر سکون ہوتا ہے مگر اندر طلاطم۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب اسے خلوت میسر آتی ہے تو اسکا اندر پر سکون ہوتا ہے اور ظاہر وحشی ترین۔۔۔۔۔۔۔ ایک وحشی کی تنہائی خدا کرے کوئی نہ دیکھ پائے۔۔۔۔۔وہ نارمل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ وہ ایسے دھاڑیں مار مار کر روتا ہے جیسے پاگل خانے سے ابھی ابھی چھوٹ کر آیا ہو۔۔۔۔۔ سارے زمانے کا غصہ خود پر اتارتا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ وہ تمام حرکتیں کرتا ہے جو نارمل انسان نہیں کرتے۔۔۔۔۔
ثم آمین۔۔۔۔۔۔
آپ نے انشاء صاحب کے سرطان کے حوالے سے یاسیت کا سوال کیا تھا تو میں نے عرض کیا تھا کہ میری نظر سے ایسی تحریر نہیں گزری۔۔۔۔۔۔ لیکن اب مجھے سمجھ آئی کہ آپ نے انکی مکمل شخصییت اور تصورات کے متعلق پوچھا تھا۔۔۔۔ تو بتاتی چلوں کہ یہ یاسیت اثرِ سرطان نہ تھی بلکہ یہ ابتدا سے ہی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔۔۔۔آپ اسے یاسیت کہتے ہیں مگر میں نہیں کہتی۔۔۔۔۔ ایک وحشی انسان کو دوسروں سے بہت زیادہ سروکار نہیں ہوتا اور خود سے اُسے نفرت ہوتی ہے شدید نفرت۔۔۔۔۔ یہ ایک کیفیت ہے جس کا غلبہ کبھی کبھی بیت شدید ہوتا ہے۔۔۔۔ جی تو انشا جی وقتاََ فوقتاََ خود کشی کی شدید کوششیں کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ اور یہ کیفیت بہت ابتدائی ایام سے تھی اسکا سرطان سے تعلق نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ انکی کم اور ہماری خوشقسمتی نسبتاََ زیادہ تھی کہ ان کی زندگی بچ جاتی تھی۔۔۔۔ بعد ازاں انکی اس کیفیت پہ قدرت اللہ شہاب جی نے یوں پہرے ڈالے کہ انکو یقین دلایا کہ جب بھی آپکا دل کرے خودکشی کو تو میرے غریب خانے پہ آیا کیجئے میں آپکی مدد کروں گا۔۔۔۔وہ گھر والوں کے بچانے کے ڈر سے ادھر آتے تھے اور یہ بچا لیتے تھے۔
(بحوالہ 'الکھ نگری' )
 
بہت دعاؤں کے ہمراہ بھتیجی کی سیٹ مبارک

اللہ سوہنا اس گمان کے آپ کے حق میں قبول فرمائے ۔ اور علم و آگہی کے نور سے نوازے ۔ آمین

یہ " وحشت " کہتے ہیں جسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کے ظاہر اور باطن پر کیا اثر ڈالتی ہے ؟
کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ " وحشت " ظاہر کو پریشان اور باطن کو پر سکون کر دیتی ہے ۔


اللہ سوہنا آپ کو دل درد مند کی حامل ہستی قرار فرمائے آمین​


حق مغفرت فرمائے ابن انشاء کے کلام اور شخصیت سے ذاتی طور پر بہت متاثر ہوں میں ۔
لیکن کچھ کہتے ہیں کہ آپ میں سودائیت اور یاسیت کی کیفیات کا غلبہ تھا ۔
اور " کوچ کرو " غزل بھی اسی یاسیت پر استوار تھی ۔

ماشاء اللہ
آپ نے سورت العصر کے مفہوم کو بلاشبہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا ۔۔

کیا کہیں گی آپ کہ " مطالعے کی زیادتی " سے سوچ میں انتشار پیدا ہوجانا " عین ممکن " ہے ۔؟

اللہ سوہنا ان مشاغل میں آپ کو آسانی بھری رحمت عطا فرمائے آمین

محترم عبیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناولوں کی تھیم میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے ۔۔
ذاتی طور پر میرا مشاہدہ ہے کہ عمیرہ احمد کے ناولز معصوم بچیوں کے ذہنوں میں رہبانیت کی سوچ ابھارتے ہیں ۔


آئیڈیاز ٹیکن شیپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ کتاب سے جنم لیتی ہے ۔ تو سوچ صورت کہاں پاتی ہے ۔؟

کہا جاتا ہے انسانی نفسیات " شعور ،لاشعور ، تحت الشعور " کے تین بند "خانوں " سے ابھرنے والی کیفیات پر استوار ہوتی ہے ۔
اور انسان کے وجدان تصور سوچ اور خیال پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ کیا کہیں گی کہ " حقیقت " کس خانے میں چھپی ہوتی ہے ۔
جب تنگ آ جائے محترم بٹیا میرے سوالوں سے
تو بلا جھجھک اظہار کر دیجئے گا ۔۔۔
کچھ جاننے کچھ سیکھنے کا بہانہ ہے بس ۔
جی باکل! مطالعے کی زیادتی سے انتشار پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ مثلاََ ایک ہی واقعہ کو دو مختلف صحافی متضاد الفاظ اور صورتوں میں لکھتے ہیں۔۔۔۔ نہ صرف صحافی بلکہ ادیب بھی۔۔۔۔۔ ہاشم ندیم صاحب میرے پسندیدہ ادباء میں سے ہیں اور انہوں نے لال مسجد والے واقعے کی شدید حمایت میں لکھا۔۔۔۔ جب کہ اور ادبا اور میڈیا نے انکا تیا پائنچہ ایک کر ڈالا۔۔۔۔ اسی طرح پچھلے سال دھرنا کی مثال۔۔۔۔اسی طرح نہ صرف واقعات بلکہ تصورات کہ مثال۔۔۔۔۔ ایک ناول کا مین تھیم ہی مطمئن رہنا ہے اور دوسرے کا کبھی بھی مطمئن نہ ہونا بلکہ تمام عمر زیادہ پانے کی دوڑ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک میں کہا جاتا ہے یقین سب کچھ ہے اور دوسرے میں کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کو شک کے دائرہ میں رکھو۔۔۔۔۔

اس سوال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ جہاں دل مانے اسے مان لو۔۔۔۔۔۔ لیکن دل کیسے مانے اس کم مایہ کا؟؟؟؟ جب کہ مجھ سے بہتر دو علم والے وہ ہیں جو مجھ سے کھربوں گنا زیادہ جانتے ہیں۔۔۔۔۔

ثم آمین
آپ نے بات کی ہے مین تھیم کی تو میرے مشاہدے کے مطابق عمیرہ احمد انسان کو بتاتی ہیں کہ کیا کرو۔۔۔۔انسان کچھ دن اسے شعور میں رکھتا ہے پھر تحت الشعور اور پھر لا شعور۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ نمرہ احمد قاری کو چلاتی ہیں اس راستے پر۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیں اس بس میں سوار کرتی ہیں۔۔۔۔۔ میں نے غالباََ 300 کتب پڑھیں مگر میں نے نمرہ کے علاوہ اور کسی ادیب کی کتب کا مقصد قرآن پاک کی پریکٹیکل تعلیم نہیں پایا۔۔۔۔۔۔ مصحف اور نمل کی مثال حاضر ہے انکل!
 
بہت دعاؤں کے ہمراہ بھتیجی کی سیٹ مبارک

اللہ سوہنا اس گمان کے آپ کے حق میں قبول فرمائے ۔ اور علم و آگہی کے نور سے نوازے ۔ آمین

یہ " وحشت " کہتے ہیں جسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کے ظاہر اور باطن پر کیا اثر ڈالتی ہے ؟
کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ " وحشت " ظاہر کو پریشان اور باطن کو پر سکون کر دیتی ہے ۔


اللہ سوہنا آپ کو دل درد مند کی حامل ہستی قرار فرمائے آمین​


حق مغفرت فرمائے ابن انشاء کے کلام اور شخصیت سے ذاتی طور پر بہت متاثر ہوں میں ۔
لیکن کچھ کہتے ہیں کہ آپ میں سودائیت اور یاسیت کی کیفیات کا غلبہ تھا ۔
اور " کوچ کرو " غزل بھی اسی یاسیت پر استوار تھی ۔

ماشاء اللہ
آپ نے سورت العصر کے مفہوم کو بلاشبہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا ۔۔

کیا کہیں گی آپ کہ " مطالعے کی زیادتی " سے سوچ میں انتشار پیدا ہوجانا " عین ممکن " ہے ۔؟

اللہ سوہنا ان مشاغل میں آپ کو آسانی بھری رحمت عطا فرمائے آمین

محترم عبیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناولوں کی تھیم میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے ۔۔
ذاتی طور پر میرا مشاہدہ ہے کہ عمیرہ احمد کے ناولز معصوم بچیوں کے ذہنوں میں رہبانیت کی سوچ ابھارتے ہیں ۔


آئیڈیاز ٹیکن شیپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ کتاب سے جنم لیتی ہے ۔ تو سوچ صورت کہاں پاتی ہے ۔؟

کہا جاتا ہے انسانی نفسیات " شعور ،لاشعور ، تحت الشعور " کے تین بند "خانوں " سے ابھرنے والی کیفیات پر استوار ہوتی ہے ۔
اور انسان کے وجدان تصور سوچ اور خیال پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ کیا کہیں گی کہ " حقیقت " کس خانے میں چھپی ہوتی ہے ۔
جب تنگ آ جائے محترم بٹیا میرے سوالوں سے
تو بلا جھجھک اظہار کر دیجئے گا ۔۔۔
کچھ جاننے کچھ سیکھنے کا بہانہ ہے بس ۔
سوچ دماغ کے نہاں خانوں میں صورت پاتی ہے اور پردہ نشین رہتی ہے مناسب وقت کے انتظار میں۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ۔۔۔۔ بجا فرمایا آپ نے۔۔۔۔ مگر حقیقت کہاں ہے اسکو جاننے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ
آپ حقیقت کسے سمجھتے ہیں؟

انکل معذرت قبول فرمائیے۔۔۔مجھے اقتباسات لینے بھی نہیں آ پائے۔۔۔۔ اور میرے محدود علم کے با عث شاید تسلی بخش جواب بھی نہ دے پائی ہوں۔۔۔۔ :(
 

نور وجدان

لائبریرین
جی تو انشا جی وقتاََ فوقتاََ خود کشی کی شدید کوششیں کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ اور یہ کیفیت بہت ابتدائی ایام سے تھی اسکا سرطان سے تعلق نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ انکی کم اور ہماری خوشقسمتی نسبتاََ زیادہ تھی کہ ان کی زندگی بچ جاتی تھی۔۔

جی تو انشا جی وقتاََ فوقتاََ خود کشی کی شدید کوششیں کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ اور یہ کیفیت بہت ابتدائی ایام سے تھی اسکا سرطان سے تعلق نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ انکی کم اور ہماری خوشقسمتی نسبتاََ زیادہ تھی کہ ان کی زندگی بچ جاتی تھی۔۔۔۔ بعد ازاں انکی اس کیفیت پہ قدرت اللہ شہاب جی نے یوں پہرے ڈالے کہ انکو یقین دلایا کہ جب بھی آپکا دل کرے خودکشی کو تو میرے غریب خانے پہ آیا کیجئے میں آپکی مدد کروں گا

میری ادنٰی سی رائے یہ ہے کہ وحشت ایک تضاد ہے۔۔۔۔۔ جب انسان لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو بظاہر پر سکون ہوتا ہے مگر اندر طلاطم۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب اسے خلوت میسر آتی ہے تو اسکا اندر پر سکون ہوتا ہے اور ظاہر وحشی ترین۔۔۔۔۔۔۔ ایک وحشی کی تنہائی خدا کرے کوئی نہ دیکھ پائے۔۔۔۔۔وہ نارمل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ وہ ایسے دھاڑیں مار مار کر روتا ہے جیسے پاگل خانے سے ابھی ابھی چھوٹ کر آیا ہو۔۔۔۔۔ سارے زمانے کا غصہ خود پر اتارتا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ وہ تمام حرکتیں کرتا ہے جو نارمل انسان نہیں کرتے۔۔۔

۔انسان کچھ دن اسے شعور میں رکھتا ہے پھر تحت الشعور اور پھر لا شعور۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ نمرہ احمد قاری کو چلاتی ہیں اس راستے پر۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیں اس بس میں سوار کرتی ہیں۔۔۔۔۔ میں نے غالباََ 300 کتب پڑھیں مگر میں نے نمرہ کے علاوہ اور کسی ادیب کی کتب کا مقصد قرآن پاک کی پریکٹیکل تعلیم نہیں پایا۔۔۔۔۔۔ مصحف اور نمل کی مثال حاضر ہے انکل!

سوچ دماغ کے نہاں خانوں میں صورت پاتی ہے اور پردہ نشین رہتی ہے مناسب وقت کے انتظار میں۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ حقیقت کسے سمجھتے ہیں؟


مجھے نہیں معلوم تھا آپ اپنی کم عمری اس قدر میچورٹی رکھتی ہیں ۔ شاید عمر سے بڑے ہونے سن پیدائش پر منحصر نہیں ہے ۔شاید اس دھاگے پر وحشی کا ڈیرا بھی ہے ۔ فہم کی بات یہی ہے کہ کون وحشی ہے ۔ میں اردو ادب سے میٹرک تک استفادہ پاسکی پھر ادب کا راستہ بدل گیا تھا۔ خیر انشاء جی ، الکھ نگری اٹھا رکھیں یہ کتب کہ پہلی ایک کتاب پڑھنی ہے ۔

آپ نے وحشی کی تعریف کی ہے میرے نزدیک وحشی وہ جسکو یاسیت میں نشہ ملتا ہو۔ کیٹس کی ''اوڈ' یاسیت کے بارے میں جس میں اس نے لکھا ہوا کہ خود کشی کے لیے کبھی زہر نہیں کھاؤ، کبھی زہریلی جڑی بوٹیاں استعمال نہ کرو، یاسیت کی شراب پہلے قبل اس کے خوشی کی چند بوندیں بھی لے لو، آپ کی موت اپنے آپ ہوجائے گی ۔ میرے نزدیک وحشی وہی ہے جس کو یاسیت اپنا اسیر کیے رکھے ۔=

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جواب درست ہے۔۔۔۔۔سوچ انسان میں موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔جنم نہیں لیتی ، بدلتی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔راہ یا سمت پاتی ہے۔۔۔

اب میرا ایک سوال ہے کہ آپ حقیقت کو کب سے جانتی ہو؟ زبردست انٹریز ماری آپ نے
 
آپکا اختاف بجا ہے۔۔۔۔
لیکن میری کم علمی کہئیے اسے کہ میں نے وحشی کے بارے میں تفصیلاََ یا کانسیپٹ کبھی پڑھا نہیں۔۔۔۔ نہ ادب میں اور نہ ہی نفسیات میں۔۔۔۔۔۔ اس لئے میں آپکی طرح حوالئہ مفکر نہیں دے پائی۔۔۔۔۔ جو بھی لکھا وہ اسے آپ بیتی جانئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بہت سی ایسی سوچیں ہیں جنکا وجود پہلے سرے سے تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔ جنہیں درحقیقت کتب نے جنما ہے۔۔۔۔یہ وارداتِ قلبی ہے۔۔۔۔اسلئے مرا جواب یہ تھا۔۔۔۔۔ میں نے جوابات ذاتی رائے اور فہم سے دینے کی سعی کی ۔۔۔۔۔ صرف اس واقعے کا حوالہ دیا۔۔۔۔۔

ہاہاہا کونسی اینٹریز بہنا؟
اور حقیقت کو جاننا آپ کسے کہتی ہیں مرا جواب اس پر منحصر ہے۔۔۔۔
ڈھیروں دعائیں
 

ناصر رانا

محفلین
ایک زمانے میں میں بھی ایسا ہی پاگل (لوگوں کی نظروں میں) تھا۔
لیکن اب سچ مچ پاگل (لوگوں جیسا) ہوں اور ہن آرام اے۔ :D
 

نور وجدان

لائبریرین
آپکا اختاف بجا ہے۔۔۔۔
لیکن میری کم علمی کہئیے اسے کہ میں نے وحشی کے بارے میں تفصیلاََ یا کانسیپٹ کبھی پڑھا نہیں۔۔۔۔ نہ ادب میں اور نہ ہی نفسیات میں۔۔۔۔۔۔ اس لئے میں آپکی طرح حوالئہ مفکر نہیں دے پائی۔۔۔۔۔ جو بھی لکھا وہ اسے آپ بیتی جانئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بہت سی ایسی سوچیں ہیں جنکا وجود پہلے سرے سے تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔ جنہیں درحقیقت کتب نے جنما ہے۔۔۔۔یہ وارداتِ قلبی ہے۔۔۔۔اسلئے مرا جواب یہ تھا۔۔۔۔۔ میں نے جوابات ذاتی رائے اور فہم سے دینے کی سعی کی ۔۔۔۔۔ صرف اس واقعے کا حوالہ دیا۔۔۔۔۔

ہاہاہا کونسی اینٹریز بہنا؟
اور حقیقت کو جاننا آپ کسے کہتی ہیں مرا جواب اس پر منحصر ہے۔۔۔۔
ڈھیروں دعائیں
دعائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آغاز کروں یا انتہا پر اس دعا کو پہنچا کے کہے دوں جس نے مجھے ڈھیروں دعائیں دے دیں میں اس سے اچھا جواب کیسے دوں ؟

اختلاف ہر گز نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی ہستی کے سامنے اپنے رائے کو قالب میں ڈھال کے دیا ہے ۔ کوئی دھاڑے مارے روتے ہیں تو کوئی خاموش آنسو۔۔۔۔۔۔۔کوئی ہزار خود کشی کرتے ہیں کوئی مر مر کے جنم لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔قدرت محفوظ رکھتی ہے سب کو۔۔۔۔۔۔سو سکون سے غرض نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بات سے ہٹ کے اپنی بس ذاتی رائے اتنی ہے کہ یاسیت نشے کی گولی کی طرح کام کرتی ہے ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔


انٹریز۔۔۔۔۔۔جوابات۔۔۔منظوم پیش کش۔۔۔۔۔۔۔سبھی ۔۔۔۔۔اچھا لگ رہا ہے جیسے محفل سج گئی ہے اپنوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا میں سبھی خیال ایک حقیقت سے نکلے ہیں ۔ میں تو حقیقت اس کو کہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
نام : مریم افتخار
شعبہ: نباتیات
شہر: ساہیوال
"جاننا" میرا مشغلہ بھی ہے اور مقصد بھی!

گیارہ سال کی عمر سے اردو ادب سے لگاؤ ہے مگر ہائے افسوس کہ ابھی تک اس میدان میں کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہو پائی۔۔۔۔۔
زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکی ہوں۔
بلال اعظم بھائی کے توسط سے یہ خوشنصیبی میرا مقدر بنی کی میں اردو محفل فورم میں شامل ہو پائی۔
اردو محفل فورم میں خوش آمدید!
 

شزہ مغل

محفلین
مریم افتخار بہنا سب سے پہلے تو خوش آمدید
اس کے بعد ایک اختلاف
گیارہ سال کی عمر سے اردو ادب سے لگاؤ ہے مگر ہائے افسوس کہ ابھی تک اس میدان میں کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہو پائی۔۔۔۔۔
بہنا آپ نے اپنا تعارف ہی اتنے پیارے انداز میں کروا دیا اور ابھی بھی آپ کہتی ہیں کہ کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہو پائی۔ میرا ماننا ہے کہ لکھنے کے لیے جو کچھ چاہیئے وہ سب آپ کے پاس ہے۔
میں محفل پر نئی آنے والی دو آپیوں کے تعارف سے متاثر ہوئی ہوں اب تک۔ ایک لاریب مرزا اور دوسری مریم افتخار
 

نور وجدان

لائبریرین
مریم افتخار بہنا سب سے پہلے تو خوش آمدید
اس کے بعد ایک اختلاف

بہنا آپ نے اپنا تعارف ہی اتنے پیارے انداز میں کروا دیا اور ابھی بھی آپ کہتی ہیں کہ کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہو پائی۔ میرا ماننا ہے کہ لکھنے کے لیے جو کچھ چاہیئے وہ سب آپ کے پاس ہے۔
میں محفل پر نئی آنے والی دو آپیوں کے تعارف سے متاثر ہوئی ہوں اب تک۔ ایک لاریب مرزا اور دوسری مریم افتخار
کہیں آپ بھی کچھ لکھ دیا کریں ۔۔۔۔۔آپ کی تحاریر تو وضو کرادیتی ہے
 

شزہ مغل

محفلین
خوش آمدید مریم
میں تو یہ جان کر حیران ہوں اتنی سی عمر میں آپ کو ادب سے لگاؤ ہوگیا یعنی 11 سال کی عمر میں
مجھے تو اس ادھیڑ عمری میں بھی ادب سے لگاؤ تو کیا ادب کرنا بھی نہیں آیا
یہاں آپ کو بہت قابل اساتذہ ملیں گے جن میں سے ایک چھوٹا استاد بلال اعظم بھی ہے
خوش رہیں
اور ان چھوٹے استاد کے بڑے شاگرد جھوٹ موٹ کے باباجی بھی یہیں ہیں
 
Top