نکاح المتعہ کا تعارف (حصہ دوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
ش

شوکت کریم

مہمان
اور اس لحاظ سے مسلم و نصاری کا کوئی فرق نہیں تاوقتیکہ ہم ڈبل سٹینڈرڈز نہ اپنا لیں اور اپنے گریبان میں جھانکنا بند نہ کر دیں۔ اب بتلائیں اگر عیسائی پلٹ کر ہمیں ہمارے مدارس یا پھر وہ علاقے دکھانے شروع کر دیں کہ جہاں اسلام کے نام پر عورت تو بالکل گھر میں محصور ہے، مگر اسکے باوجود وہاں پر قوم لوط کا فعل عام ہے، تو پھر ہم کیا جواب دے سکیں گے؟

لوجی الٹے بانس بریلی کو۔

اس میں ہمارا کیا قصور ۔۔۔۔ یہ رپورٹ‌ کسی مسلم نیوز ایجنسی کی نہیں اور نہ ہی کسی نصرانی کو پیش کی گئی ہے۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
متعہ میں میراث نہیں اور شادی شدہ مر د اپنے ہی شہر میں متعہ کر سکتا ہے!
اور مرد اگر چاہے تو اپنی عورت ہونے کے باوجود متعہ کر سکتا ہے اگر چہ وہ اپنی عورت کے ساتھ اپنے شہر میں ہی مقیم کیوں نہ رہے۔ من لا یحضر الفقیہ جلد ۳۔4605۔
شوکت بھایٔ اس کا مطلب ہے کہ میں باہر جاتا ہوں مجھے ایک لڑکی پسند آجاتی ہےمیں اس سے متعہ کر لیتا ہوں اور پھر اگلے دن چلتے پھرتے ایک اور نظر میں آ جاتی ہے میں اس سےمتعہ کرنے کے بعد کسی تیسری کی تلاش میں پھرتا ہوں اور اگر وہ کچھ زیادہ ہی پسند آتی ہے تو اس سے ایک رات کے بجائے ایک ہفتے تک کا متعہ کر لیتا ہوں، اور اب چھپ کرجانے کے بجائے میں سینہ تان کر اس کے پاس جا سکتا ہوں واہ سبحان اللہ کیا بات ہے، إنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، کا مطلب آج مجھے پتہ چلا ہے جی۔۔۔۔۔:grin:، یعنی کوفتہ، بریانی اور حلیم جو دل چاہا کھا لیا، اور اب چھپ کر جانے کی ضرورت پھی نہیں ہو گی یعنی اس پر ڈھیروں ثواب بھی ملے گا، گریٹ اسے کہتے ہیں آم کے آم، گٹھلیوں کے دام۔ مگر شوکت بھایٔ اگر میری گھر والی کو پتا چال گیا تو میں اس کا کیا کروں گا؟؟ کیا اس کے لیے بھی کویٔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والی روایت نہیں ہے؟؟؟؟ یعنی اگر وہ مومنہ ہو تو اسے خاموش رہنے پر کسی "اجر عظیم " کی بشارت کی روایت نہیں ہے تاکہ میں اس کا منہ تو بند کر سکوں‌نا;) اور اگر اس نے بھی إنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ کا نعرہ لگا دیا تو؟؟؟؟؟
پلیز اس سلسلے میں کویٔ اچھی سی روایت لایٔن نا تا کے میں کھل کر اپنی حسرتوں کو پورا کر سکوں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے نیکیوں کے اکاؤنٹ میں کھربوں کے حساب سے اضافہ کر سکوں:blushing:
 

S. H. Naqvi

محفلین
"فروع كافی میں ہے
عن زرارۃ عن ابی جعفر علیہ السلام قال قلت لہ جعلت فداك الرجل یتزوج المتعۃ وینقضی شرطہا ثم یتزوجھا رجل اخر حتی بانت منہ ثم یتزوجھا الاول حتی بانت منہ ثلاثا وتزوجت ثلاثہ ازوج یحل للاول ان یتزوجھا قال نعم كم یشائ لیس ھذہ مثل الحرۃ ھذہ مستاجرۃ وھی بمنزلۃ الاماء ۔
فروع كافی جلد پنجم ص ٤٦ كتاب النكاح باب الرجل یتمتع بالمراۃ مرارا كثیرۃ مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ
زرارہ نے كہا كہ میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے پوچھا میں آپ پر قربان كوئی آدمی كسی عورت سے جس شرط پر متعہ كرے وہ پوری ہوجائے پھر اسی عورت سے كوئی دوسرا شخص متعہ كرے حتی كہ وہ عورت اس سے بھی جدا ہوجائے اور پھر وہی پہلا آدمی اس سے متعہ كرے یہاں تك كہ وہ عورت اس سے تین دفعہ جدا ہوئی اور تین مردوں نے اس سے نكاح متعہ كیا تو كیا اسی عورت كا پہلے مرد سے ایك مرتبہ پھر عقد متعہ جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا كیوں نہیں ۔ جتنی دفعہ چاہے متعہ كرے كیونكہ یہ حرہ (آزاد) عورت كی طرح نہیں بلكہ یہ تو اجرت پر لی گئی عورت ہے اور اس كا حكم لونڈیوں جیسا ہے ۔"
یہ لیں جی لونڈیوں کی خریدوفرخت ممنوع ہویٔ مگر جس کے پاس پیسہ ہو اس کے لیے تو یہ راستہ موجود ہے جتنی مرضی لونڈیاں پالو اور جیسے مرضی کرو۔۔۔۔۔۔۔!
 
چلیں یہ بات درست ہے کہ یہ فتح اللہ کاشانی، متوفی 988 ہجری، کی کتاب "منہاج الصادقین" کے صفحہ 356 پر موجود ہے۔ مگر اس کی ذرا حقیقت تو دیکھئے۔ اس کتاب کا پورا نام ہے "منہاج الصادقین فی الالزام المخالفین فی التفسیر" یعنی اس کتاب میں وہ مخالفین کے اعتراضات کا جواب دے رہے ہیں۔ چنانچہ ایک اعتراض اسی عقد المتعہ والی روایت پر تھا، چنانچہ اس روایت کو نقل کر کے وہ بھی مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کہاں سے یہ روایت نقل کی ہے کیونکہ شیعہ کتب میں تو یہ کہیں موجود ہی نہیں اور شیعہ علماء کے نزدیک تو بالکل مجہول (نامعلوم) ہے۔ انکے الفاظ ہیں: "ان برما مجھول است" یعنی ہمارے لیے تو یہ روایت بالکل نامعلوم ہے۔ چنانچہ آپ ان دجالی کذابوں کی عیاری دیکھئے کہ جن افواہوں کا رد کرنے کے لیے یہ روایت کتاب میں نقل کی گئی، اُسی کو انہوں نے شیخ کاشانی پر جھوٹ باندھ کر منسوب کرنا شروع کر دیا۔
اور اب اس عیاری و افتراء کو کئی سو سال گذر چکے ہیں اور ختم ہونے کی بجائے یہ چیز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اب بتلائیے کہ یہودی پروپیگنڈہ ان کذابوں کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ چیز یکطرفہ نہیں "دو طرفہ" ہے اور دونوں سائیڈوں پر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو غلط باتیں ایک دوسرے سے منسوب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ، چاہے انکا تعلق کسی گروہ سے ہو، ان سب کے اس طرز عمل کی مذمت کرنی چاہیے اور یہی چیز انصاف کے قریب ہے۔


میں نے جو امیج پیش کیا ہے وہ آپ ہی کے کسی بھائی بند سائیٹ نے پیش کیا ہے اور اس میں اسی کوئی صراحت موجود نہیں کہ پتا چلے کہ یہ فٹ نوٹ کاشانی صاحب نے نہیں بلکہ کسی اور نے لکھا ہے۔
بہرحال جس نے بھی لکھا ہے اس نے آپ کو گردن سے پکڑا ہے کہ اس روایت کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور جتنا مرضی آپ کوشش کر لیں مگر اسکی کوئی سند پیش نہیں کر سکتے۔
اور اب دوسری بات آتی ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ جب ہماری ایسی کوئی بغیر سند کی ایسی روایت پیش ہوتی ہے کہ جس کے وجود کا ہی ہماری اصل کتب میں پتا نہیں تو ایسی روایات کو آپ چوم چوم کر آنکھوں پر رکھتے ہیں اور اس پر حلال حرام کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں، مگر جواب میں خود اپنی طرف نہیں دیکھتے کہ جہاں دسیوں روایات استمتاع کی اصطلاح، صحابہ و تابعین و سلف کے "جمہور" کا ذکر ہے مگر اسکے باوجود آپ پر اپنی ہر روایت معاف ہے۔

1۔کیا کسی کو دونوں باتوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے کہاں تو یہ دعوہ کہ یہ ہماری روایت ہی نہیں بلکہ کاشانی صاحب اس کو غلط قرار دے کر "وہ بھی مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کہاں سے یہ روایت نقل کی ہے کیونکہ شیعہ کتب میں تو یہ کہیں موجود ہی نہیں اور شیعہ علماء کے نزدیک تو بالکل مجہول (نامعلوم) ہے۔" اور کہاں یہ بات
کہ ہان یہ روایت ہماری ہے لیکن اس کی سند پیش کیجئے؟؟؟
محترمہ سچ و صداقت کی کچھ اہمیت ہوتی بھی ہے یا نہیں ؟؟ یا یہ جنس آپ کے بازار میں باکل ہی نایاب ہےِ؟؟؟
آپ کو پہلے ہی یہ بات تسلیم کرنی چاہیے تھی کہ یہ روایت بلا سند ہماری کتب میں آئی ہے اور کاشانی کی اس بات کا شیعہ علما رد کرتے ہیں لیکن ایک طرف تو کاشانی کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں

مرحوم مدرس تبریزى در ریحانتہ الادب (ج 5) مى‏نویسد:

« ملا فتح اللہ كاشانى، عالمى است جلیل، فقیہ محقق متكلم، مدقق، مفسر متبحر، از اكابر علماى اواخر قرن دہم ہجرت مى‏باشد. در تمام علوم دینیہ متداولہ متبحر، خصوصا در تفسیر كہ بحرى بود بى‏پایان و تالیفات او بہترین معرف تبحر وى مى‏باشند.

اور جب یہی کاشانی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ متعی کا مقام نعوژ باللہ آنحضرت جیسا ہے تو پھر سندوں کا مطالبہ ہوتا ہے اور جان بچانے کے لیے جھوٹی جھوٹی باتیں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ تو ہماری روایت ہی نہیں اور مخالفین کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔
۲۔ آپ نے جو امیج پیش کیا وہ میرے پاس صحیح ڈسپلے ہی نہیں ہو رہا اگر کسی کے پاس ہوا ہو تو وہ بتائیے کہ آپ نے کیا تیر مارا ہے۔
۳۔ جو آپ نے روایت غنیۃ الطالبین سے نکاح و مباشرت کے فوائد میں پیش کی ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ کتاب کوئی حدیث کی کتاب نہیں ہے اس کتاب میں دیگر ان بزرگوں کی کتاب کی مانند بہت ساری غلط احادیث بیان کی گئیں ہیں جن کی نہ صرف کوئی سند نہیں ہے بلکہ ان کتابوں میں موجود احادیث کو محقیقن عموما موضوع گردانتے ہیں نیز پھر یہ حدیث خدانخواستہ مباشرت کے نتیجے میں کسی کا درجہ حضرت حسن حسین علی رضوان اللہ علیھم اجمعین یا خود آنحضرت تک تو نہیں لے جاتی؟؟ تمام فضائل ایک طرف یہ اس سے کوئی توہین تو نہیں ہوتی جیسی کاشانی کی اس غلط روایت سے ہوتی ہے؟ پھر یہی نہیں کہاں تو غنیۃ الطالبین جو کہ سرے سے حدیث کی کتاب ہی نہیں اور کہاں آپ کی کتب اربعہ میں ایسی روایات متعہ کے بارے میں موجود ہیں جو اس سے بھی زیادہ فضائل بیان کر رہی ہیں۔

285wf.jpg



اب ان رویات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا یہ رویات بھی بلا سند ہیں یا غلط ہیں جو کہ آپ کی ایک نہایت مستند حدیث کی کتاب سے پیش کی جارہی ہیں ؟ اور یہ روایات ان روایات کے علاوہ ہیں جن کا ذکر کاشانی نے کیا ہے آپ ترجمے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیا میری ان پوسٹوں میں کاشانی کی بیان کردہ ان سب روایات کا ترجمہ آپ کو نظر نہیں آ رہا یہ تین روایات اسی ایک ہی صفحے میں بیان کی گئیں ہیں

1۔جس نے ایک دفعہ متعہ کیا وہ خدا کے غصے سے نجات پا گیا جو شخص دو بار متعہ کرے گا اس کا حشر ابرار کے ساتھ ہوگا اور جو تین مرتبہ متعہ کرے گا وہ میرے ساتھ (یعنی آنحضرت کے ساتھ) جنت میں داخل ہوگا

2۔ پھر وہی حدیث کہ ایک مرتبہ متعہ کرنے پر حضرت حسین دو دفعہ پر حضرت حسن تین دفعہ پر حضرت علی اور چار دفعہ کرنے پر آنحضرت کا درجہ

۳۔جو شخص دنیا میں متعہ نہ کرے گا وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے کان ناک کٹے ہوئے ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ آپ ایک ایسی روایت پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ جس کی سند ہی مکمل نہیں ہے کیونکہ یہ پتا ہی نہیں ہے کہ یہ کون شخص تھا جو امام کا نام لے کر یہ بیان کر رہا ہے۔ اور جو چیز وہ بیان کر رہا ہے وہ بقیہ روایات سے ٹکرا رہی ہے اور اسی بنیاد پر یہ اہل تشیع کے علماء کا فتوی ہے کہ خاص حالات میں ولی کو اجازت ہے کہ وہ کنواری لڑکی کو بھی نکاح المتعہ میں دے سکتا ہے، مگر اصل تاکید یہی ہے کہ کنواری لڑکی کو نکاح دائمی میں دیا جائے۔

بہتر نہیں تھا کہ اس سلسلے میں آپ اپنے علما کے کچھ اقوال بھی بیان کر دیجئے تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے اور اطلاعا عرض ہے کہ صرف یہی ایک رویات نہیں بلکہ اور بھی روایات ہیں جو کنواری عورت سے متعہ کی بالکل اجازت دیتی ہیں اور کہیں یہ نہیں لکھا کہ کنواری کو دائمی نکاح میں دینا زیادہ ضروری ہے ایک اور زیادہ مزیدار بات یہ ہے کہ فروع کافی میں ناصرف باکرہ سے متعہ کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اس کو اس کے گھر والوں کے لیے عار بتایا گیا ہے یعنی وہی پہلے والی روایت کہ اس کی عفت کی وجہ سے اس سے متعہ چھپ کر کرو اور مہوش کیا آپ بتائیں گی کہ کیوں کنواری لڑکی سے متعہ گھر والوں کے لیے باعث عار ہوتا ہے؟؟؟؟

روایت یہ ہے

[ARABIC] محمد بن يحيى، عن أحمد وعبدالله ابني محمد بن عيسى، عن علي بن الحكم، عن زياد بن أبي الحلال قال: سمعت أبا عبدالله (ع) يقول: لا بأس بأن يتمتع بالبكر مالم يفض إليها مخافة كراهية العيب على أهلها[/ARABIC]

فروع کافی ابواب المتعہ باب الابکار حدیث ۱۰۰۰۳
 
میں اس فورم کے ناظمین سے گذارش کروں گا کہ اس تھریڈ کو بالکل مقفل نہ کیا جائے اور بے شک اس دوران اگر کوئی ناشائستہ پوسٹ کرے تو اس کی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جائے۔
مہوش نے اب تک جو صحابہ کرام کے حوالوں سے روایات پیش کی ہیں ان صحابہ کرام کے موقف نکاح موقت کے بارے یہی تھے وہ اس کو اس وقت تک جائز سمجھتے تھے جب تک وہ جائز تھا لیکن جب وہ حرام ہو گیا تو کسی ایک صحابی رسول سے اس کا جواز ثابت نہیں اس بارے میں جلد ہی ایک تفصیلی پوسٹ کی جائے گئی جس میں نکاح موقت اور صحابہ کرام کا موقف پوری وضاحت سے بیان کیا جائے گا یہی نہیں بلکہ مہوش نے اس دوران جو جو کتر بیونت سے کام لیا ہے اس کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔ساتھ ہی جا بجا کنیز عورتوں اور خواتین کے دوسرے مسائل مثلا عورتوں کے ختنے وغیرہ سے منسلکہ جو رویات بطور طعن کی وہ پیش کرتی ہیں ان کا بھی جواب دیا جائے گا اور خود ان کی ہی کتب میں سے نہ صرف کنیزوں سے متعلقہ مسائل بلکہ عورتوں کے ختنے کے بارے میں جو فضائل ان کی کتب بیان کرتی ہیں ان کا بھی ذکر ہو گا۔
ایک بار پھر مہوش سے کہوں گا کہ وہ اپنا مضمون بھی آگے بڑھاتی جائیں تاکہ ان موقف سے مکمل آگاہی کے بعد ان کی اور دیگر افراد کی تشفی کر دی جائے۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
ابن حسن بھایٔ جہاں تک فضیلت کی روایات کا تعلق ہے تو میں اس سے پہلے ایک پوسٹ میں نہ صرف ایک بلکہ ان کی 4 معتبر کتب سے حوالے دے چکا ہوں اور اس پر میرا سوال بھی ان پر ادھار ہے
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=27273&page=15
اب یا تو مہوش صاحبہ ان تمام روایتوں سے اظہار پرأت کریں‌ جیسے وہ پاکستانی اور انڈین شیعہ سے کرتی ہیں اور ان کے ہر عمل سے خود کو بری کرا لیتی ہیں لیکں یہ تو وہ کمبل ہے جو ان کو کبھی نہیں چھوڑے گا اگر تو وہ اظہار برأت کریں تو ان کے بنیاد ہی ختم ہو جائے گی اور یہ برأت ان کی اپنے فقہ سے برأت ہو گی اور اگر دفاع کرتی ہیں تو میں اپنے سوال دوھراتا ہوں، 1۔ اگر متعہ کی اتنی فضیلت ہے تو دایٔمی نکاح کا جھنجٹ کون پالےگا؟اور کیا اس سے عایٔلی زندگی کی بنیاد ختم نہیں‌ہو جائے گی اور معاشرہ ختم نہیں ہو جائےگا؟اور آپ جو متعہ کو جایٔز کر کے معاشرے کو سدھارنا چا ہ رہی ہیں تو اس سے تو کیا معاشرہ اور نہیں بگڑ جائے گا؟؟ 2۔ایک جگہ آپ نے لکھا کہ
ا صل پيغام ارسال کردہ از: مہوش علی
دوسری چیز جسے آپ پھر نظر انداز کر گئے وہ یہ ہے کہ پچھلی پوسٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ "نکاح دائمی" کو ہر حالت میں عقد المتعہ پر فوقیت ہے اور یہ سفر یا ایسے ملتے جلتے انتہائی حالات میں ہی کیا جاتا ہے۔
لیکن آپ کی کتا بیں تو کہہ رہی ہیں کہ متعہ ایمان کے لیے ایسے ہے جیسے زندگی کے لیے پانی۔ اور سفر تو کجا یہ تو اپنے شہر میں ہی جایٔز ہے اور عین ایمان ہے۔
متعہ میں میراث نہیں اور شادی شدہ مر د اپنے ہی شہر میں متعہ کر سکتا ہے! اور مرد اگر چاہے تو اپنی عورت ہونے کے باوجود متعہ کر سکتا ہے اگر چہ وہ اپنی عورت کے ساتھ اپنے شہر میں ہی مقیم کیوں نہ رہے۔ من لا یحضر الفقیہ جلد ۳۔4605
آپ کچھ کہہ رہی ہیں اور آپ کا فقہ کچھ کہہ رہا ہے؟؟؟؟؟
آگے دور مولا علی میں متعہ کا احیاء اور اس کا ثبوت بھی ابھی تک آپ نے نہیں دیا؟؟؟؟؟
 

مہوش علی

لائبریرین
ابن حسن،

۱۔ کیا آپ بالکل اس احساس سے عاری ہیں کہ آپ نے حلال و حرام کی بحث پر فضائل کی بحث کو مقدم کر کے چیزیں باکل غلط ملط کر دیں ہیں؟

2۔ دوسرا آپ پہلے یہ ثابت کریں کہ فضائل کی روایات سے کسی چیز کا حلال یا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے؟

3۔ تیسرا آپ یہ ثابت کریں کہ ہمارے کسی عالم نے کہا ہو کہ فضائل کی یہ روایت "صحیح" ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے؟ تو ابتک آپ نے جتنی روایات پر اپنا زور رکھا ہوا ہے، آپکو چیلنج ہے کہ پہلے انکی سندیں پیش کریں، پھر ثابت کریں کہ وہ صحیح ہیں۔
اہل تشیع علماء کے متعلق میں بہت پہلے بیان کر چکی ہوں کہ وہ حلال و حرام اور فقہ کے متعلق صحیح کی شرط لگاتے ہیں جبکہ فضائل میں کمزرو روایات کو بھی بیان کرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے اہلسنت کے سلف علماء نے ہزاروں ایسی فضائل کی ضعیف روایات اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں کہ انہیں علم تھا کہ یہ روایات صحیح کی شرائط پر پورا نہیں اترتیں۔

4۔ اور غنیہ الطالبین کے متعلق آپکا بہانہ ہے کہ:

جو آپ نے روایت غنیۃ الطالبین سے نکاح و مباشرت کے فوائد میں پیش کی ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ کتاب کوئی حدیث کی کتاب نہیں ہے اس کتاب میں دیگر ان بزرگوں کی کتاب کی مانند بہت ساری غلط احادیث بیان کی گئیں ہیں جن کی نہ صرف کوئی سند نہیں ہے بلکہ ان کتابوں میں موجود احادیث کو محقیقن عموما موضوع گردانتے ہیں نیز پھر یہ حدیث خدانخواستہ مباشرت کے نتیجے میں کسی کا درجہ حضرت حسن حسین علی رضوان اللہ علیھم اجمعین یا خود آنحضرت تک تو نہیں لے جاتی؟؟ تمام فضائل ایک طرف یہ اس سے کوئی توہین تو نہیں ہوتی جیسی کاشانی کی اس غلط روایت سے ہوتی ہے؟ پھر یہی نہیں کہاں تو غنیۃ الطالبین جو کہ سرے سے حدیث کی کتاب ہی نہیں اور کہاں آپ کی کتب اربعہ میں ایسی روایات متعہ کے بارے میں موجود ہیں جو اس سے بھی زیادہ فضائل بیان کر رہی ہیں۔

تو ابن حسن، بے وقوف جا کر آپ کسی اور کو بنائیے گا۔ غنیہ الطالبین کے مؤلف کو اللہ کی جانب سے کوئی براہ راست الہام نہیں ہوا تھا جو انہوں نے یہ حدیث (بلکہ حدیثیں) بیان کی ہیں، بلکہ انہوں نے بھی یہ چیز پیچھے اپنی کسی حدیث کی کتاب سے ہی لی ہے۔ چنانچہ بات کتاب کی نہیں، بلکہ اصول کی ہے کہ جس طرح کاشانی صاحب نے فضائل میں ایسی روایات نقل کی ہیں کہ جن کی کسی سند کا ہی نہیں پتا اسی طرح غنیہ الطالبین میں نقل ہوئی ہیں۔۔۔۔ مگر آپکا دوغلا پن یہ ہے کہ کاشانی کی روایت کی وجہ سے ہم پر تو آگ اگل رہے ہیں، مگر خود اپنے آپ پر ہزار خون معاف ہیں۔

اور دھوکے پر دھوکا نہیں دیجئیے گا۔ ہمارے نزدیک کتب اربعہ "اہم" ہیں، مگر ہم نے کبھی ان کے متعلق "صحیح" کا دعوی نہیں کیا ہے۔ چنانچہ ہم پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز فرمائیے۔ خود الکافی میں بے تحاشہ روایات ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور اسی لیے علامہ باقر مجلسی اور پتا نہیں دس بارہ پندرہ کتنے اہل تشیع علماء نے الکافی کی شرحیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے روایات کے رجال کی درجہ بندی کی ہے کہ کون سی روایت صحیح ہے اور کون سی ضعیف۔

اور اوپر "درجات" والی روایت کی ہماری کتب میں کوئی اصل نہیں، مگر اہلسنت کے فضائل کی کتب میں البتہ کچھ درجے والی روایات ملتی ہیں چنانچہ ایک اور بات صاف کر دوں کہ ہمیں بدنام کرنے کے لیے جو "درجہ" کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ص کا "مرتبہ" پا جائے گا، وہ عربی کے لحاظ سے بالکل غلط ترجمہ ہے۔ بلکہ "درجہ" کا مطلب عربی زبان کے حوالے سے یہ ہے کہ اُن کے ساتھ، اُن کی رفاقت میں جنت میں داخل ہو گا یعنی اُن کی صفوں میں ہو گا۔

مثلا یہ روایت دیکھیں:
Musnad_Ahmad_v1_p412_413.jpg


اسکا ترجمہ ہے:
"The Prophet (s) grabbed Hasan and Husayn by the hands and said: 'Whoever loves me, these two and their parents, shall be with me, in my rank (Arabic Word: Darajati ) on the Day of Judgement".

یہاں پر کسی نے "درجتی" کا مطلب "مرتبہ" نہیں لیا ہے، مگر یہ بیماری صرف اُس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم پر آگ اگلنی ہو۔
اور اس روایت کی اسناد میں دیکھ لیں کہ لکھا ہوا ہے "اسنادہ حسن"

اور پھر یہ کیسا اندھا انصاف ہے کہ کاشانی والی روایت تو انہیں توہین نظر آئے مگر غنیۃ الطالبین کی روایت میں انہیں کوئی توہین نظر نہ آئے کہ جو بیوی کے ساتھ رات کو سونے کو مجاہد کے جہاد سے بہتر کہے، ساری رات کی عابد کی عبادت سے افضل کہے، سارے دن کے متقی کے روزے سے افضل کہے، چنانچہ اسی لیے ملتا ہے کہ کچھ لوگ جہاد پر نہیں جاتے تھے بلکہ گھروں میں بیویوں سے چمٹے رہتے تھے کہ ایک رات میں کئی کئی جہادوں کا ثواب کمائیں گے۔ اور یہ تو کچھ بھی نہیں، اسکا ثواب تو اس کائنات اور اس زمین و آسمان کے مابین جو کچھ ہے اُس سب سے افضل بیان کیا جا رہا ہے، تو اب پھر توہین کا وہ کونسا پہلو ہے جو کہ باقی رہ گیا؟؟؟ مگر نہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آنا ہے کہ خود پر ہزار ہا خون بلکہ سب کچھ ہی معاف ہیں اور تمام قاعدے قوانین اعتراضات توہین بس اور بس دوسروں کے لیے ہیں۔

آپ کو اچھی طرح پتا تھا کہ فضائل کی روایات سے کبھی کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے یا شریعت کے کسی بھی اصول کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے، مگر پھر بھی آپکے نفس نے آپ کو ابھارا کہ یہ بحث شروع کر دی جائے۔ چنانچہ اب اگر آپ نے فضائل کی ان روایات سے ہمارا کچھ بگاڑنا ہے تو پھر ثابت کیجئے کہ یہ روایات سند رکھتی ہیں، اور پھر سندیں صحیح ہیں اور پھر یہ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ ان پر ایمان لاؤ۔

اور اگر اب بھی بحث کا اور دوسروں کو بدنام کرنے کا شوق ہے تو ہماری روایات پر تنقید کرنے سے قبل آپ کو ان ہزاروں روایات کا جواب دینا ہے جو آپکی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ طریقہ یہ ہو گا کہ میں ایک ایک کر کے یہ سینکڑوں ہزاروں روایات پیش کرتی جاؤں گی، اور آپ ایک ایک کر کے انکا جواب دیتے جائیے گا۔ اور جب آپ اپنے گریبان کو ان روایات کی صفائی دے کر پاک کر چکیں، تو شوق سے پھر ہماری روایات کی طرف رخ کیجئے گا۔

پہلی روایت، صحیح بخاری کی
Sahih al Bukhari Volume 5, Book 58, Number 188 (Online Link to Official English Translation):
Narrated 'Amr bin Maimun:
During the pre-Islamic period of ignorance I saw a she-monkey surrounded by a number of monkeys. They were all stoning it, because it had committed illegal sexual intercourse. I too, stoned it along with them.


بخاری کی اس کتاب کا نام ہے "انصار کے فضائل"

اس کے ذیل میں امام بخاری فرماتے ہیں:
" ابن میمون کہتے ہیں: (اسلام سے قبل) جاہلیت کے زمانے میں میں نے ایک "بندریا" دیکھی کہ جسے بہت سے بندروں نے گھیر رکھا تھا۔ اور وہ سب کے سب اُس بندریا کو پتھر مار رہے تھے کیونکہ اُس بندریا نے زنا کاری کی تھی۔ چنانچہ میں (انسان) نے بھی پتھر اٹھا کر اُس بندریا کو مارنے شروع کر دیے (سنگسار کرنے کے لیے)۔"

۔ اگر اسلام لانے کے بعد کی بات ہوتی تب بھی شاید انسان کچھ عذر پیش کر دیتا، مگر یہ جاہلیت کے زمانے کی بات ہو رہی ہے کہ اُس میں یہ انصاری شخص کا مرتبہ ایسا بڑا تھا اور وہ ایسا عارف باللہ تھا کہ اپنے فضائل میں وہ اللہ کے رسول جناب سلیمان علیہ السلام کے برابر پہنچا ہوا تھا کہ جانوروں کی بولی سمجھتا تھا۔
اُس نے سب سے پہلے وہ انوکھی چیز دیکھی جو پچھلے کئی ہزار سالہ بنی نوع انسانی کی تاریخ میں آج تک کسی شخص نے نہیں دیکھی، اور وہ یہ کہ بہت سے بندر مل کر ایک بندریا کو گھیرے ہوئے ہیں اور اُسے پتھروں سے سنگسار کر رہے ہیں۔
پھر اُسے شاید بندروں سے استفسار کرنے کے بعد معلوم ہوا، یا پھر شاید علم غیب کی طاقت تھی کہ پتا چلا کہ اُن بندروں میں اسلامی شریعت رائج تھی، اور اس لیے ایک بندریا نے چونکہ ایک بندر کی زوجہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے بندر سے زناکاری کر لی تھی، اس لیے اُسے اس چیز کے جرم میں سنگسار کیا جا رہا تھا۔
بہرحال اُس بندریا کے اس جرم کا پتا چل جانے کے بعد وہ ایسا عالی شان و مرتبت انصاری تھا کہ اُس نے بھی اس کار خیر میں حصہ لینے کے لیے بندریا پر سنگباری شروع کر دی (اور جس دوسرے بندر سے زناکاری کی گئی تھی، اُسکا علم نہیں کہ اُس پر بھی حد جاری ہوئی یا نہیں، یا پھر وہاں بھی کانا قانون اور کانی شریعت نافذ تھی کہ جہاں سزائیں صرف عورتوں کے لیے تھیں)۔



 
ش

شوکت کریم

مہمان
ایک سال میں نو بار متعہ کا اعتراف

[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=oCzgjR_B-Og[/youtube]
 

مہوش علی

لائبریرین
ایک بار پھر، اگر اوپر بخاری والی روایت پیش کرنے سے ہمارے اہلسنت برادران میں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معافی مانگتی ہوں۔ میں کبھی خود سے ایسی چیزیں شروع نہیں کرتی ہوں، مگر جب فریق مخالف گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے تو میں انتہائی مجبور ہو کر صرف جوابا ایسا کرتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ میری اس مجبوری کو مدنظر رکھیں گے۔

روایات کا شاندار کریا کرم جو اس دھاگہ میں نظر آتا ہے وہ شاید ہی کہیں دیکھا ہو۔ گو کہ میں‌بہن مہوش سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود بھی ان کا شکر گزار ہوں کہ کتب روایات میں پائے جانے والے شدید نوعیت کے اختلافات کو جس محنت سے وہ سامنے لارہی ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لئے مقام ہدایت ہے۔


کہ امت روایات میں کھو گئی​
والسلام
محترم فاروق صاحب، شکریہ مگر مجھے اس معاملے میں آپ براہ مہربانی شکریہ ادا نہ فرمائیں۔

اور بقیہ حضرات متوجہ ہوں:

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ تم آپس میں الجھو لڑو گے تو تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

مجھے نے شروع میں بہت بہت درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو فقط "اختلاف رائے" تک محدود رکھئیے اور نصوص و دلائل سے صرف یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اللہ کی شریعت کا کیا حکم ہے، اور خدارا اسے "اختلاف رائے" سے "فرقہ وارانہ اختلاف" نہ بنائیں کہ جس کے بعد لڑ لڑ کر بس ایک دوسرے کو ہی زخمی کرتے ہوں اور اس کا آخری نتیجہ یہ نکلے کہ دشمن (فاروق صاحب سے معذرت کے ساتھ) مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا اور ہمارا مضحکہ اڑائے گا اور آوازیں کسے گا۔

میں نے اتنے سالہا سال گذرنے کے بعد عقد المتعہ کی بحث کبھی شروع نہیں کی۔ پہلی مرتبہ اس ایک بحث میں آج سے تین مہینے قبل حصہ لیا جو کہ "پاک نیٹ (لنک)" پر جاری تھی۔ مگر ادھر صرف قرآنی آیت
پر مراسلہ لکھا تھا کہ وہاں بھی فاروق صاحب نظر آ گئے۔

اور اللہ میرا گواہ ہے کہ میں نے وہاں اسی ڈر کے تحت ایک ایک بھی بات اور نہیں لکھی کہ ہماری اس آپس کی لڑائی کا فائدہ کہیں منکر حدیث طبقہ نہ اٹھانا شروع کر دے اور آخر میں فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہو رہا ہو دین اسلام کا کہ جہاں اور بہت سے لوگ رسول ص کی حدیث کے منکر ہو جائیں۔

ادھر جب موضوع شروع ہوا تو میری نیت تھی کہ بس معاشرے کے حوالے سے بات کر دی جائے اور ساتھ میں عقد المتعہ کا تعارف کروا دیا جائے کہ اس میں عدت و نسب و محرمات وغیرہ کی قید ہے اور یہ زنا نہیں۔ مگر پھر میں نے دیکھا کہ لوگ کودے اور اس "اختلاف رائے" کو اٹھا کر فورا "فرقہ وارانہ اختلاف" کی طرف لے گئے۔ اور اسکے بعد میں مجبور تھی اور مجھے پتا تھا اسکا کوئی اور نتیجہ نکلے یا نہ نکلے مگر دشمن ہماری اس لڑائی کا سب سے پہلے فائدہ اٹھا رہا ہو گا۔ (پاک نیٹ پر یہ چیز اس لیے بچ گئی کیونکہ وہاں پر ایڈمن خود انتہائی علم رکھنے والے اور اس بحث کا براہ راست خود حصہ تھے اور انہوں نے بحث کو پہلے دن سے فرقہ واریت پر نہیں جانے دیا بلکہ شرط عائد کی کہ قرآن کی آیت پر پہلے بحث ہوگی، اور اس سے فارغ ہو کر احادیث پر آئیں گے اور مقصد صرف یہ پتا چلانا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے حلال حرام کیا ہیں)۔

"اختلاف رائے" بذات خود ہرگز برُی بات نہیں بلکہ رحمت ہے۔ جب تک ہم حلال و حرام کی بات کرتے رہے اُس وقت تک ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے رہے۔بذات خود میں نے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں اور بہت سی چیزوں میں مجھے پتا چلا کہ میں غلطی کر رہی تھی اور اصل بات کچھ اور ہے۔ مجھے یقین ہے میری طرح آپ لوگوں نے بھی بہت سی نئی چیزوں سیکھی ہوں گی اور معاشرے کے مسائل زیادہ بہتر طور پر سمجھنے شروع کیے ہوں گے۔

مگر شروع سے ہم پر ساتھ ساتھ یہ طعن کیا جا رہا ہے کہ جب بغداد میں منگول پہنچے تو علماء بحثوں میں مصروف تھے۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ یہ "اختلاف رائے" والی بحوث نہیں تھی، بلکہ یہ وہی "فرقہ وارانہ" بحثیں تھیں جو اس تھریڈ کا حصہ بنی ہیں۔ اور اگر یہ جاری رہتی ہیں تو میں آپ سے پیشگی معذرت کر رہی ہوں اُن روایات کے لیے جو مجھے مجبورا آگے پیش کرنا پڑیں گی (اور فائدہ صرف کسی تیسری ہی قوت کو ہو گا)۔

ہاں ایک سوال رہ گیا کہ یہ تھریڈ کیوں شروع کیا گیا تھا۔ مسئلہ گرافک بھیا جیسے حضرات کا ہے جو اس سے قبل مسلسل غلط الزام بازی کر رہے تھے کہ عقد المتعہ میں عدت ہے نہ کوئی اور قید و شرائط اور یہ زنا ہے۔ اب ایسے الزامات مسلسل سننے کے بعد مسئلہ یہ ہوتا کہ انکے یہ الزامات چپ کر کے سنتے جاؤ یا پھر اس جھوٹ کی حقیقت کو واضح کر دیا جائے۔ مگر جب اس جھوٹ کی وضاحت کے لیے بات شروع کرو تو وہ بڑھ کر اور بڑا فتنہ مکمل فرقہ وارانہ بحث کی صورت میں سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ ہڈی ہے جو اگلی جاتی ہے اور نہ نگلی۔ مجھے کسی کے اوپر حملے کرنے ہیں اور نہ اعتراضات، مگر انصاف شرط ہے اور یہ بھی منظور نہیں کوئی ہمارے متعلق غلط باتیں کرتا پھرے۔

چلیں اب میں نے اپنے دل کا درد بیان کر دیا۔ اب گفتگو پر پلٹتے ہیں۔ اللہ تعالی تجھ سے بس دعا ہے کہ ہمارے ہر ہر عمل کو تو باعث خیر بنا دے اور اسے شر نہ بننے دے۔ امین۔
 

مہوش علی

لائبریرین
اوپر میں نے پاک ڈاٹ نیٹ کے ایڈمنز کی تعریف کی ہے، اس سے میرا مقصد حاشا و کلا ہرگز اپنے ناظمین کی کوئی برائی بیان کرنا مقصود نہیں ہے، بلکہ میں تو ان کی بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق بہت منصف مزاجی کے ساتھ بہترین کردار ادا کیا ہے۔:) اور مجھے آپ سے ہرگز ہرگز کوئی شکایت نہیں ہے۔
بہرحال، ہر شخص کی اپنی اپنی "حدود" اور "ٹیلنٹ" ہوتا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں مذہبی بحوث کے لیے پاک ڈاٹ نیٹ کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہماری محفل کی Speciality ہے اردو زبان کی ترقی و ترویج اور سافٹ ویئرز کی فراہمی، تو پاک ڈاٹ نیٹ کی Specilality انکا مذہبی بحوث کا فورم ہے۔
یہ میری ذاتی رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے، مگر میں نے جو چیز محسوس کی وہ صدق دل سے بیان کر دی ہے۔ امید ہے کہ کوئی میری اس بات کا برا نہیں مانے گا۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
پلیز اس سلسلے میں کویٔ اچھی سی روایت لایٔن نا تا کے میں کھل کر اپنی حسرتوں کو پورا کر سکوں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے نیکیوں کے اکاؤنٹ میں کھربوں کے حساب سے اضافہ کر سکوں

روایات تو ان شا اللہ پیش کر دیں گے مگر پہلے پہلی روایات کا جواب تو آ جائے۔ تاکہ اس دھاگے میں کوئی تشنگی نہ رہ جائے۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
ایک بار پھر، اگر اوپر بخاری والی روایت پیش کرنے سے ہمارے اہلسنت برادران میں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معافی مانگتی ہوں۔ میں کبھی خود سے ایسی چیزیں شروع نہیں کرتی ہوں، مگر جب فریق مخالف گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے تو میں انتہائی مجبور ہو کر صرف جوابا ایسا کرتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ میری اس مجبوری کو مدنظر رکھیں گے۔

محترمہ آپ نے کوئی نئی چیز نہیں‌ پیش کی اور نہ میں نے اور نہ کسی اور نے پھر دل آزاری چہ معنی دارد ؟؟؟ یہ قصہ کوئی آپ نے یا میں نے یا کسی اور نہ شروع نہیں کیا ؟؟؟ بلکہ صدیوں سے ایسا ہی ہے اور اللہ سبحان و تعالٰی جانیں کب تک ایسا ہی رہے گا ؟؟؟

ہو نہیں سکتا کہ سب ایک بات پر متفق ہو جائیں ورنہ کھوٹے کھرے کا پتہ کیسے چلے گا ؟؟؟

آپ اپنے سارے تیر آزمائے ۔۔۔۔ ہم بھی دیکھیں کتنا زور ہے بازوؤے قاتل میں

اور میرا خیال ہے کہ جو صاحب برداشت نہیں وہ اس دھاگے میں نہ ہی کودیں تو اچھا ہے اور الحمد للہ ابھی تک ایسا ہی ہو رہا ہے اور منتظمین کا یہ اچھا اقدام ہے کہ ذاتیات پر مبنی پوسٹس کو حذف کر دیں‌ گے۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
(پاک نیٹ پر یہ چیز اس لیے بچ گئی کیونکہ وہاں پر ایڈمن خود انتہائی علم رکھنے والے اور اس بحث کا براہ راست خود حصہ تھے اور انہوں نے بحث کو پہلے دن سے فرقہ واریت پر نہیں جانے دیا بلکہ شرط عائد کی کہ قرآن کی آیت پر پہلے بحث ہوگی، اور اس سے فارغ ہو کر احادیث پر آئیں گے اور مقصد صرف یہ پتا چلانا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے حلال حرام کیا ہیں)۔

معذرت کے ساتھ یہ ایک اوپن فورم کا انداز نہیں ۔ ۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہاں یہ بحث چل ہی نہ سکی۔ اور عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہبی فورم کسی نہ کسی فرقے یا جماعت سے منسلک ہوتےہیں اور بات چیت ان کے بتائے ہوئے راستے ہی پر چل سکتی ہے جس کی وجہ سے صرف مخصوص طبقہ ہی ان فورمز پر بحث میں‌ حصہ لیتا ہے ۔۔۔۔۔

میرے ناقص خیال میں اس وقت جتنے ممبران محفل کے ہیں اور موضوعات میں جتنا تنوع محفل کا ہے اردو میں کسی اور فورم کا نہیں۔ اللہ اسے اور اور ترقی دے۔

اور یہ سب منتظمین کی شائستگی اور علم دوستی ہی ہے۔ کہ اس فورم کے ممبران بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اور یہ فورم اپنا اپنا لگتا ہے‌ ؟؟؟

یاد رکھئے آزادی رائے ، آزادی تحریر یہ انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں ۔۔۔۔ مگر شائستگی اور دوسرے کی آزادی رائے کو محسوس کرتے ہوئے۔

شکریہ منتظمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے بہت سارے ممبران کا آزادی رائے اور آزادی تحریر کا حق تسلیم کرنے پر اور دینے پر ۔۔۔۔ ہمیں اپنی محفل پر فخر ہے
 

S. H. Naqvi

محفلین
۔تیسرا آپ یہ ثابت کریں کہ ہمارے کسی عالم نے کہا ہو کہ فضائل کی یہ روایت "صحیح" ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے؟ تو ابتک آپ نے جتنی روایات پر اپنا زور رکھا ہوا ہے، آپکو چیلنج ہے کہ پہلے انکی سندیں پیش کریں، پھر ثابت کریں کہ وہ صحیح ہیں۔
ور دھوکے پر دھوکا نہیں دیجئیے گا۔ ہمارے نزدیک کتب اربعہ "اہم" ہیں، مگر ہم نے کبھی ان کے متعلق "صحیح" کا دعوی نہیں کیا ہے۔ چنانچہ ہم پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز فرمائیے۔ خود الکافی میں بے تحاشہ روایات ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور اسی لیے علامہ باقر مجلسی اور پتا نہیں دس بارہ پندرہ کتنے اہل تشیع علماء نے الکافی کی شرحیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے روایات کے رجال کی درجہ بندی کی ہے کہ کون سی روایت صحیح ہے اور کون سی ضعیف۔

میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو، کتنی بچگانہ باتیں شروع کر دیں ہیں آپ نے محترمہ،الکافی کے باب العقل کے حوالےتو آپ ہی دیتی رہی ہیں اور جب ان روایت کا کویٔ جواب نا ہو سکا تو آپ نے عجیب و غریب تاویلات پیش کرنی شروع کر دیں، کیا آپ کو نہیں پتا کے ان کتب کی آپ کے فقہ میں کیا اہمیت ہے؟ محترمہ الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، بہارالانوار، تحفتہ العوام، الاستبصار اور جلاالعیون، یہی وہ کتابیں ہیں جو اس فقہ کی بنیاد ہیں اور ان کی وہی فضیلت اور اہمیت ہے جو کسی عمارت میں بنیاد اور ستونوں کو ہوتی ہے، انہی کے کورس کروائے جاتے ہیں اور انہی کے دورے کروائے جاتے ہیں آپ کا ہر مجتہد اور عا لم کسی بھی شیعہ کے لیے ان کتابوں کو حرف آخر قرار دیتا ہے، آپ کے ذاکر مجلسوں میں انھی کے حوالے دیتے ہیں اور جب انہی بکس میں سے ہم نے حوالے دیئے تو آپ بجائے جواب دینے کے سند مانگنا شروع ہو گیٔں ہیں؟؟؟ حالانکہ کل عا لم جانتا ہے کے یہ وہ مستند کتاپیں ہیں جو انتہایٔ محنت اور چھان پھٹک کے بعد لکھی گیٔ ہیں۔ اب ان کی جو باتیں آپ کے معیار پر پورا نہیں اتر رہیں آپ نے انیں ضعیف دینا شروع کر دیا ہے؟؟؟ حا لانکہ پہلے آپ ٹالتی رہی ہیں، شاید اس وقت آپ کو یہ خیال نہیں سوجھا ہو گا، مگر یاد رکھیں آپ جتنی بھی جان چھڑا لیں یہ آپ کی جان چھوڑنے والی نہی ہیں اور آپ کے گلے پڑ چکی ہیں۔ اگر میں ان علماء کے نام لینا شروع کر دوں جو الکافی پر ایمان کو لازم قرار دیتے ہیں اور اپنے ہر مبتدی کو اس کے مطا لعے کی ہدایت کرتے ہیں تو آپ پھر پاکستانی شیعہ سے اظہار برأت کرنے لگیں‌گی، آپ کی حجت کے لیے نہیں بلکہ ایسے ہی میں میں اپنے سسر کی مثا ل یہاں ضرور دوں گا جو خود تو بہت پڑے ذاکر ہیں ہی پلکہ ان کے برادر ان لا پاکستانی شیعہ کے" ناظم اعلٰی" کے معتمد خاص بھی ہیں اور جناب کو ان کی اعلٰی خدمات کے اعتراف میں 2 دفعہ سونے کا تاج بھی پہنایا جا چکا ہے، ان کا قول ہے کے الکافی کو سینے سے لگا کے رکھو، یہ نا ہوتی تو ہمارا دین بکھر چکا ہوتا اور ایک شیعہ کے لیے الکافی ، کامل و شافی ہے۔
اور اللہ میرا گواہ ہے کہ میں نے وہاں اسی ڈر کے تحت ایک ایک بھی بات اور نہیں لکھی کہ ہماری اس آپس کی لڑائی کا فائدہ کہیں منکر حدیث طبقہ نہ اٹھانا شروع کر دے اور آخر میں فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہو رہا ہو دین اسلام کا کہ جہاں اور بہت سے لوگ رسول ص کی حدیث کے منکر ہو جائیں

۔ادھر جب موضوع شروع ہوا تو میری نیت تھی کہ بس معاشرے کے حوالے سے بات کر دی جائے اور ساتھ میں عقد المتعہ کا تعارف کروا دیا جائے کہ اس میں عدت و نسب و محرمات وغیرہ کی قید ہے اور یہ زنا نہیں۔ مگر پھر میں نے دیکھا کہ لوگ کودے اور اس "اختلاف رائے" کو اٹھا کر فورا "فرقہ وارانہ اختلاف" کی طرف لے گئے۔ اور اسکے بعد میں مجبور تھی اور مجھے پتا تھا اسکا کوئی اور نتیجہ نکلے یا نہ نکلے مگر دشمن ہماری اس لڑائی کا سب سے پہلے فائدہ اٹھا رہا ہو گا۔ (پاک نیٹ پر یہ چیز اس لیے بچ گئی کیونکہ وہاں پر ایڈمن خود انتہائی علم رکھنے والے اور اس بحث کا براہ راست خود حصہ تھے اور انہوں نے بحث کو پہلے دن سے فرقہ واریت پر نہیں جانے دیا بلکہ شرط عائد کی کہ قرآن کی آیت پر پہلے بحث ہوگی، اور اس سے فارغ ہو کر احادیث پر آئیں گے اور مقصد صرف یہ پتا چلانا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے حلال حرام کیا ہیں)۔
 
آپ اس بات کو چھوڑیں کہ کون فایٔدہ اٹھا رہا ہے اور کون نہیں اٹھا رہا، آپ کو اس کی کیا فکر ہے؟؟‌کیا دلایٔل کا پٹارہ ختم ہو گیا ہے جو ایسی اونگی بونگی باتیں کر کے محفل سے بھاگنا چاہ رہی ہیں؟؟ اگر نہیں تو آپ فضول تاویلات میں پڑنے کی بجائے جتنے سوالات آپ پر ادھار ہیں ایک ایک کر کے ان کے جوابات دیں تاکہ کسی منطقی انجام تک پونچا جا سکے۔ باقی جہاں تک "پاک نیٹ" والوں کا قصہ یے تو وہ صرف اور صرف ایک "کورٹ آف کنگ" کی مانند ہے، وہاں تو ایڈمن جانب دار ہی نہیں بلکہ کم ظرف بھی ہیں کہ تھریڈ کے شروع میں ہی اپنے موقف کے حق میں بے تحاشہ اور خود ساختہ تشریحات اور دلایٔل دے دیئے ہیں اپ جو ان سے جو ان سے ایگری کررہا ہو یا پھر "ہتھ ہولا" رکھ کے بات کرے وہ ٹھیک ہے ورنہ فریق مخالف کی پوسٹ ایسے غایٔب ہوتی ہے جیسے اس کا کویٔ وجود ہی نا ہو۔۔۔۔۔۔! اور اردو ًمحفل کی جہاں تک بات ہے، تو میں سب سے پہلے ان کی وسعت نظری، علم دوستی اور خلوص کی تعریف اور شکریہ ادا کر چکا ہوں کہ ان کا تعلق کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہو مگر یہ ٹھیک ٹھیک فریظۂ حق ادا کر رہے ہیں، گرافک بھایٔ کا سوال بلا شبہ موضوع کے دایٔرے میں ہی تھا اور اگر آپ میں وسعت نظری اور پختگیٔ عقیدہ ہوتا تو آپ کھلے ڈھلے انداز میں جواب دیتں (شاید آپ کو اپنی کتابوں اور ان میں بیان کی گیٔ خاص کر "فضایٔل" کی روایات پر اعتقاد ہی نہیں( مگر یہاں بھی آپ حیا کی ڈھا ل کو سامنے لے آیٔں اور اس پر بھی ایڈمن نے آپ کی نسوانگی کا لحاظ کرتے ہوئے تنپیہ کی اور گرافک کی پوسٹ ہٹا دی، اور ذاتیات پر بات کرنے کی پابندی لگا دی (حالانکہ جب بات نکلے تو پھر دور تلک جاتی ہے، گرافک بھایٔ نے آپ کو خدانحواستہ کویٔ گالی نہیں نکالی تھی آپ جس چیز کو قرآن سے ثاپت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اسی کا اطلاق آپ کی ذات پر کیا تھا۔ خیر وہ جو بھی ہوا اس پر پابندی ہے اور بقول ایڈمن آیٔندہ ذاتیات سے پرہیز کرنا ہے تو اب آپ نے پاک نیٹ کی بات چھیڑ دی یعنی پاک نیٹ والے آپ کے موقف کی تایٔد کریں اور آپ کی پوسٹ شایٔع کرتے ہوئے آپ کے آگے کسی کو نا بولنے دیں تو وہ اچھے اور اگر کویٔ صاف صاف معاملے کے دونوں پہلو سامنے لاے تو اسے کہا جاے کے یہ آپ کی Specialty نہیں ہے؟؟؟؟؟؟ اور اس بات کا خیال بھی آپ کو تبھی آئے جب آپ سے سوالات کے جوابات نہ بن پڑیں؟؟؟؟

"اختلاف رائے" بذات خود ہرگز برُی بات نہیں بلکہ رحمت ہے۔ جب تک ہم حلال و حرام کی بات کرتے رہے اُس وقت تک ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے رہے۔بذات خود میں نے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں اور بہت سی چیزوں میں مجھے پتا چلا کہ میں غلطی کر رہی تھی اور اصل بات کچھ اور ہے۔ مجھے یقین ہے میری طرح آپ لوگوں نے بھی بہت سی نئی چیزوں سیکھی ہوں گی اور معاشرے کے مسائل زیادہ بہتر طور پر سمجھنے شروع کیے ہوں گے۔
انشاءاللہ اس فورم کے ا ختتا م تک آپ پر مزید کچھ انکشافات ہو جایٔں گے اور آپ بہت کچھ نیا سیکھ لیں گی بس خلوص نیت رکھیں اللہ توفیق دے دے گا۔

اور باقی جہاں‌تک آپ کی نصوص کی بات ہے تو آپ کی ہر دلیل پر دلیل دی جا چکی ہے اور آپ نے قرآن کی جو تشریح کی ہے ان کا رد پیش کیا جا چکا ہے یہ الگ بات ہے کے آپ ڈھاک کے تین پات کا نعرہ ہی لگاتی رہیں اگر آپ کو یاد نہ ہو تو آپ مکرر کریں تاکہ آپ کی تشفی ہو سکے۔ اور قرآن کے جن الفاظ کی تشریح آپ نے اپنی مرضی سے کر کے اپنے موقف کو جایٔز کیا ، کیا "علم کے شہر" نے بھی قرآن کی یہی تشریح کی تھی؟؟ اگر ہاں تو انھوں نے اس کو چھپایا کیوں‌ اور خلافت ملنے کے بعد اس کا عملاً نفاذ کیوں نہیں کیا؟؟؟ اور اپنے پیش رو کے تمام احکمات جوں‌کے توں جاری کیوں نا رکھے؟؟؟؟ اور اگر نہیں تو پھر آپ کے پاسے ایسا کون سا علم خاص ودیعت کیا گیا ہے کہ آپ اپنی مرضی کی تشریع کر کے ایک حرام چیز کو حلال قرار دے رہی ہیں کیا آپ کا علم اور آپ کی قرآنی تشریح مولا علی کے کے علم اور رشریح سے زیادہ معتبر ہے یا مولا علی نے جان بوجھ کے خیانت کی؟؟؟؟ یا پھر ہادیٔ برحق، نبیٔ مرسل صلی اللہ علیہ و سلم نے نعوذ بااللہ خیانت کی اور حکم خدا صاف صاف امت تک نہیں پہونچا پائے یا کم از کم مولا علی جن کو خود فمن کنت۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ کر ایک خاص حیثت دی ، ان کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتا سکے تا کے وہی اس کا نفاذ کر دیتے؟؟؟؟؟


اور سوکت بھایٔ آپ نے یہ لکھ کر تو مجھے ہلا کے رکھ دیا ہے،
راوی کا بیان ہے کہ پھر میں نے حضرت امام رضا سے عرض کیا کہ ایک عورت متعہ کرتی ہے اور اس کے ایام متعہ پورے ہو جاتے ہیں تو عدہ کی مدت پورے ہونے سے پہلے کسی دوسرے مرد سے نکاح یا متعہ کر سکتی ہے ، آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا مطلب اس کا گناہ اس عورت پر ہے
کیا مطلب ایک عورت جو کے پیشہ کرتی ہومتعہ کرتی ہے اور اس روایت کے مطابق یہ سوچتی ہے کے چلو خیر تھوڑا سا گناہ ہی ہو گا نا ( کیوں کے اس روایت میں گناہ کی کویٔ شرع نہیں ہے کہ گناہ کبیرہ ہے کے صغیرہ، قابل معافی ہے کے نظر انداز کیے جانے والا(  اور شام کو پھر عدہ ختم ہونے سے پہلے کسی اور کے ساتھ متعہ کر لیتی ہے تو اس پر کویٔ قدغن نہیں ہے اور" اس کا گناہ اس عورت پر ہے" کہہ کر خاموشی ہے؟؟؟؟ یہ متعہ تو پھر رنڈی بازی کو قانونی شکل دینا ہو گیا نا اور کویٔ بھی فاحشہ اس رعایت سے آسانی سے فایٔدہ اٹھا سکتی ہے، کیا ہے تھوڑا سا گناہ ہی ہوگا نا "رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گیٔ" میں اپنے اس سے پہلی پوسٹ میں عورتوں کےلیے بھی " آزادی" کی کویٔ روایت مانگی تھی، کیا یہ اسی طرف اشارہ تو نہی ہے؟؟؟؟؟  
 

مہوش علی

لائبریرین
راوی کا بیان ہے کہ پھر میں نے حضرت امام رضا سے عرض کیا کہ ایک عورت متعہ کرتی ہے اور اس کے ایام متعہ پورے ہو جاتے ہیں تو عدہ کی مدت پورے ہونے سے پہلے کسی دوسرے مرد سے نکاح یا متعہ کر سکتی ہے ، آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا مطلب اس کا گناہ اس عورت پر ہے
اور سوکت بھایٔ آپ نے یہ لکھ کر تو مجھے ہلا کے رکھ دیا ہے،
کیا مطلب ایک عورت جو کے پیشہ کرتی ہومتعہ کرتی ہے اور اس روایت کے مطابق یہ سوچتی ہے کے چلو خیر تھوڑا سا گناہ ہی ہو گا نا ( کیوں کے اس روایت میں گناہ کی کویٔ شرع نہیں ہے کہ گناہ کبیرہ ہے کے صغیرہ، قابل معافی ہے کے نظر انداز کیے جانے والا( اور شام کو پھر عدہ ختم ہونے سے پہلے کسی اور کے ساتھ متعہ کر لیتی ہے تو اس پر کویٔ قدغن نہیں ہے اور" اس کا گناہ اس عورت پر ہے" کہہ کر خاموشی ہے؟؟؟؟ یہ متعہ تو پھر رنڈی بازی کو قانونی شکل دینا ہو گیا نا اور کویٔ بھی فاحشہ اس رعایت سے آسانی سے فایٔدہ اٹھا سکتی ہے، کیا ہے تھوڑا سا گناہ ہی ہوگا نا "رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گیٔ" میں اپنے اس سے پہلی پوسٹ میں عورتوں کےلیے بھی " آزادی" کی کویٔ روایت مانگی تھی، کیا یہ اسی طرف اشارہ تو نہی ہے؟؟؟؟؟

جس عورت کو بھی طلاق ہو جائے تو طلاق کے بعد وہ جو کچھ کرتی ہے اسکا کوئی گناہ اُسکے پچھلے شوہر پر نہیں ہے۔
اسی طرح ایک آقا اگر اپنی کنیز سے ہمبستری کر کے بازار میں کسی سوداگر کو بیچ دیتا ہے تو پھر اس پر اسکا عذاب نہیں کہ اسکے بعد نئے آقا یا وہ کنیز عدت کا انتظار کرتے ہیں یا نہیں۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
جس عورت کو بھی طلاق ہو جائے تو طلاق کے بعد وہ جو کچھ کرتی ہے اسکا کوئی گناہ اُسکے پچھلے شوہر پر نہیں ہے۔
اسی طرح ایک آقا اگر اپنی کنیز سے ہمبستری کر کے بازار میں کسی سوداگر کو بیچ دیتا ہے تو پھر اس پر اسکا عذاب نہیں کہ اسکے بعد نئے آقا یا وہ کنیز عدت کا انتظار کرتے ہیں یا نہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کے پہلے متعہ کرنے والے کو یا پچھلے آقا کو کویٔ گناہ ہو گا کے نہیں، گناہ تو بلا شبہ ان کو نہیں ہو گا اور ہو نا بھی نہیں چاہیے کہ اب ان کا تعلق تو اس متعی عورت سے ختم ہو چکا ہے، سوال تو یہ ہے کہ کیا اگر اس عورت کے دل میں برایٔ ہو تو وہ اس شق سے فایٔدہ نہیں اٹھائے گی اور کیا وہ تھوڑے سے گناہ کو قبول کرتے ہوئے حد سے نہیں گزر جائے گی اور اپنی حرام کاری کو جایٔز شکل نہیں دے گی اور پوچھنے پر یہ نہیں کہے گی کہ خیر ہے ایک چھوٹا سا گناہ ہی ہے نا اور گناہ تو تم بھی کتنے کرتے ہو؟؟؟؟؟ اور باقی تو میں سب حلال کر رہی ہوں نا تو ایک چھوٹی سی خلاف ورزی ہو گیٔ تو کیا ہوا؟؟؟؟؟
 
ابن حسن،

۱۔ کیا آپ بالکل اس احساس سے عاری ہیں کہ آپ نے حلال و حرام کی بحث پر فضائل کی بحث کو مقدم کر کے چیزیں باکل غلط ملط کر دیں ہیں؟

2۔ دوسرا آپ پہلے یہ ثابت کریں کہ فضائل کی روایات سے کسی چیز کا حلال یا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے؟

3۔ تیسرا آپ یہ ثابت کریں کہ ہمارے کسی عالم نے کہا ہو کہ فضائل کی یہ روایت "صحیح" ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے؟ تو ابتک آپ نے جتنی روایات پر اپنا زور رکھا ہوا ہے، آپکو چیلنج ہے کہ پہلے انکی سندیں پیش کریں، پھر ثابت کریں کہ وہ صحیح ہیں۔
اہل تشیع علماء کے متعلق میں بہت پہلے بیان کر چکی ہوں کہ وہ حلال و حرام اور فقہ کے متعلق صحیح کی شرط لگاتے ہیں جبکہ فضائل میں کمزرو روایات کو بھی بیان کرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے اہلسنت کے سلف علماء نے ہزاروں ایسی فضائل کی ضعیف روایات اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں کہ انہیں علم تھا کہ یہ روایات صحیح کی شرائط پر پورا نہیں اترتیں۔

مہوش علی

یہ بات تو بعد کی ہے کہ فضائل کی بحث پہلے ہونی چاہیے یا کوئی اور (یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ متعہ اہل تشیع کے سوا اس امت کے نزدیک حرمت کے ہی درجہ میں ہے ۔ اور اہل تشیع کے نزدیک متعہ جو نہ کرے تو اس کا ایمان ہی کامل نہیں )
لیکن یہاں جو زیادہ ضروری بات ہے کہ آپ نے واضح و صریح جھوٹ بولا ہے اور اب اپنے اس جھوٹ کو بجائے اس کے آپ تسلیم کریں آپ خلط مبحث کر کہ اپنی جان بچانا چا رہی ہیں سب سے پہلے تو اس بات کا جواب دیجئے کہ آپ نے غلط بیانی سے کام لیا کیوں۔ اتنے بلند بانگ دعووں کے ساتھ جو بحث آپ نے شروع کی اس میں جھوٹ کی قطا کوئی گنجائش نہیں ہوتی آپ نے کہا تھا کہ یہ حدیث جس میں متعی کا مقام آنحضرت تک کرنے کی بات کی گئی وہ تو ہماری ہے ہی نہیں اور کاشانی صاحب نے تو یہ کہا ہے کہ یہ روایت مجھول ہے اور مخالفین نے ہم سے منسوب کردی ہے لیکن جب منھج الصادقین کا متعقلہ صفحہ دیکھا گیا تو ایسی کوئی بات موجود نہیں تھی۔
2۔میں اس فورم کے ممبران کو یہ بتا دوں کہ اس میں بچاری مہوش علی کا کوئی قصور نہیں ہے یہ جھوٹ کہ کاشانی صاحب نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے ان بر ما مجھول است یہ جھوٹ گھڑنے کا سہرا جاتا ہے Answering Ansarنامی ویب سائیٹ کو اور چونکہ مہوش اپنا زیادہ تر مواد اسی ویب سائٹ سے حاصل کرتی ہیں لہذا یہ جھوٹ بھی ان کو وہیں سے مل گیا اس کو آپ حضرات بھی دیکھ سکتے ہیں
http://www.answering-ansar.org/answers/mutah/en/chap5.php

3 ۔ مہوش اگر یہ احدیث غیر مستند ہیں تو اس کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے علما کے اقوال پیش کر دیتیں اور کہ دیتیں کہ یہ حدیث غیر مستند اور ان کی چونکہ سند معلوم نہیں لہذا یہ ضعیف ہیں اور کاشانی نے غلط بات پیش کی ہے نہ کہ آپ جھوٹ کا ہی سہارا لیتیں آئندۃ Answering Answarکی ویب سائٹ ذرا غور سے دیکھ کر جواب دیجئے گا ۔

4۔تو ابن حسن، بے وقوف جا کر آپ کسی اور کو بنائیے گا۔ غنیہ الطالبین کے مؤلف کو اللہ کی جانب سے کوئی براہ راست الہام نہیں ہوا تھا جو انہوں نے یہ حدیث (بلکہ حدیثیں) بیان کی ہیں، بلکہ انہوں نے بھی یہ چیز پیچھے اپنی کسی حدیث کی کتاب سے ہی لی ہے۔ چنانچہ بات کتاب کی نہیں، بلکہ اصول کی ہے کہ جس طرح کاشانی صاحب نے فضائل میں ایسی روایات نقل کی ہیں کہ جن کی کسی سند کا ہی نہیں پتا اسی طرح غنیہ الطالبین میں نقل ہوئی ہیں۔۔۔۔ مگر آپکا دوغلا پن یہ ہے کہ کاشانی کی روایت کی وجہ سے ہم پر تو آگ اگل رہے ہیں، مگر خود اپنے آپ پر ہزار خون معاف ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ بدتمیزی سے کام مت لیجئے اور تمیز کے دائرے میں رہ کر جواب دینے کی کوشش کیجئے یہ دوغلا پن کا انتہائی ناشائسہ لفظ استعمال کرنے سے پہلے کچھ اور نہیں تو اس چیز کا خیال کریں کہ آپ ایک خاتون ہیں اور آپ کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی‌گو کہ اس سے پہلے اسی فورم پر آپ کو ایک وارننگ انتظامیہ کی طرف سے جاری کی جاچکی ہے لیکن افسوس صد افسوس آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
2۔ میں نے اس سےقبل کی پوسٹ میں بالکل صاف الفاظ میں یہ بات کہی تھی کہ آپ کو جھوٹ کا سہارا لینے کی بجائے یہ کہ دینا چاہیے تھا کہ یہ روایت بلا سند ہے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اور اگر غنیتہ الطالبین کے مصنف نے یہ روایت کہیں پیچھے سے نقل کی ہے اور ان پر الہام نہیں ہوا اور اس سلسلے میں سند وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں تو ٹھیک ہے ہم اس حدیث کو قبول کرتے ہیں (کیونکہ اس میں کسی کی کوئی توہین نہیں ہے)اور اب آپ کے پاس بھی کوئی بہانہ نہیں بچتا لہذا اب آپ بھی کاشانی کی اس انتہائی لغو عبارت کو قبول کی اس کو اون کیجئے جس میں اس نے دو روایات میں متعی کا درجہ نبی پاک کے برابر کر یا۔ ہے اس کا کوئی جواب آُپ کے پاس؟؟؟


اور دھوکے پر دھوکا نہیں دیجئیے گا۔ ہمارے نزدیک کتب اربعہ "اہم" ہیں، مگر ہم نے کبھی ان کے متعلق "صحیح" کا دعوی نہیں کیا ہے۔ چنانچہ ہم پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز فرمائیے۔ خود الکافی میں بے تحاشہ روایات ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور اسی لیے علامہ باقر مجلسی اور پتا نہیں دس بارہ پندرہ کتنے اہل تشیع علماء نے الکافی کی شرحیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے روایات کے رجال کی درجہ بندی کی ہے کہ کون سی روایت صحیح ہے اور کون سی ضعیف۔

یہ آپ نے معقول بات کی تو اب آپ کی کتب کی جس روایت میں آپ کو شبہ ہو اس میں آپ اپنے علما کے اقوال بیان کر دیجئے اور اس کی سند پر بحث کر لیجئے یہ طریقہ ایک علمی طریقہ ہے لیکن جھوٹ نہ بولیئے۔
2۔ آپ کی کتب اربعہ یا صحاح اربعہ کا درجہ آپ کے نزدیک ویسا ہی جیسا کہ اہل سنت کے نزدیک صحاح ستہ کا درجہ ان کتب میں تمام احادیث سو فیصد درست نہیں بلکہ ان میں ضعیف و کمزور روایات موجود ہیں لیکن پھر بھی کہلاتی یہ صحاح ستہ ہی ہیں اور احادیث کی دیگر کتابوں سے ان کو افضل مانا جاتا ہے یہی بات آپ کی کتب اربعہ کی بھی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا اب اس میں دھوکہ پر دھوکہ کیا ہے وہ ذرا بتادیجئے؟


اور اوپر "درجات" والی روایت کی ہماری کتب میں کوئی اصل نہیں، مگر اہلسنت کے فضائل کی کتب میں البتہ کچھ درجے والی روایات ملتی ہیں چنانچہ ایک اور بات صاف کر دوں کہ ہمیں بدنام کرنے کے لیے جو "درجہ" کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ص کا "مرتبہ" پا جائے گا، وہ عربی کے لحاظ سے بالکل غلط ترجمہ ہے۔ بلکہ "درجہ" کا مطلب عربی زبان کے حوالے سے یہ ہے کہ اُن کے ساتھ، اُن کی رفاقت میں جنت میں داخل ہو گا یعنی اُن کی صفوں میں ہو گا۔

اسکا ترجمہ ہے:

"The Prophet (s) grabbed Hasan and Husayn by the hands and said: 'Whoever loves me, these two and their parents, shall be with me, in my rank (Arabic Word: Darajati ) on the Day of Judgement".


یہاں پر کسی نے "درجتی" کا مطلب "مرتبہ" نہیں لیا ہے، مگر یہ بیماری صرف اُس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم پر آگ اگلنی ہو۔
اور اس روایت کی اسناد میں دیکھ لیں کہ لکھا ہوا ہے "اسنادہ حسن

مہوش آپ پھر صرف Answering Ansawr کی ہی تحقیق پر تکیہ کیے ہوئے ہیں اور یہ کمزوری کی نشانی ہے۔ یہ بات آپ ا س وقت کرتیں جب میں نے منھج الصادقین کا متعقلہ صفحہ کا عکس نہ دیا ہوتا آپ نے غور سے دیکھا نہیں یہ حدیث نہ صرف کاشانی صاحب نے بیان کی ہے بلکہ اس کا فارسی ترجہ بھی دیا ہے جس کے بعد یہ بات کہ درجہ کا کیا مطلب کاشانی لے رہے اس کے لیے آپ کی یا Answering Ansawr کی تشریح کی ضرورت نہیں رہ جاتی اس پورے ترجمہ کا بھی بطور خاص آخری جزو قابل غور ہے جہاں کاشانی صاحب نے ترجمہ کیا ہے کہ ہر کہ چہار بار متعہ کند درجہ او مانند درجہ من باشد

یہاں صاف طور سے یہ کہا جارہا ہے کہ جو چار دفعہ متعہ کرے گا اس کا درجہ میرے درجے کے مانند ہو گا۔ اب کیا مانند کا بھی آپ کو مطلب بتایا جائے؟؟؟
2۔ اس صفحے پر ایک اور روایات ہے کہ متعی نہ صرف اللہ کے غصہ سے نجات پالے گا بلکہ نبی پاک کے ساتھ جنت میں بھی ساتھ ہو گا۔ صرف متعہ کر کہ وہ نبی پاک کے ساتھ جنت میں ہو گا؟؟؟ استغفر اللہ ( ویسے آپ نے جو استغفراللہ کی تسبیح پڑھنے کا مشورہ ایک سابقہ پوسٹ میں دیا تھا تو واقعتا میں سنجید گی سے اس پر عمل کرنا کا سوچ رہا ہوں ایسی کفریات اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے بعد)

3۔ جو حدیث آپ نے بیان کی ہے بالفرض اس کا ہی ترجمہ اگر اخذ کیا جائے تو بھی ترجمہ یہ ہوتا ہے جس نے ایک بار متعہ کیا وہ حضرت حسین کا ساتھ پاگیا جس نے دوبار متعہ کیا وہ حضرت حسن کا ساتھ پاگیا جس نے تین دفعہ متعہ کیا وہ حضرت علی کا ساتھ پاگیا اور جس نے چار دفعہ متعہ کیا وہ آنحضرت کا ساتھ پا گیا۔
تو کیا اس ترجمہ کے بعد اس حدیث میں کوئی خوبی پیدا ہو گئی کیا چار دفعہ کے متعی کو آنحضرت کی رفاقت ملنے کی جو خوشخبری سنائی جارہی ہے اس میں آنحضرت کی کوئی توہین آپ کو نظر نہیں آتی؟؟؟ اور پھر اس سے سستا کام تو اور کوئی ہوا نہیں حکومت ایران کو چاہیے کہ علمی حوزوں کی جگہ متعوں کے اڈے بنا دیے اور جنت کا فری ٹکٹ بانٹے۔

اور پھر یہ کیسا اندھا انصاف ہے کہ کاشانی والی روایت تو انہیں توہین نظر آئے مگر غنیۃ الطالبین کی روایت میں انہیں کوئی توہین نظر نہ آئے کہ جو بیوی کے ساتھ رات کو سونے کو مجاہد کے جہاد سے بہتر کہے، ساری رات کی عابد کی عبادت سے افضل کہے، سارے دن کے متقی کے روزے سے افضل کہے، چنانچہ اسی لیے ملتا ہے کہ کچھ لوگ جہاد پر نہیں جاتے تھے بلکہ گھروں میں بیویوں سے چمٹے رہتے تھے کہ ایک رات میں کئی کئی جہادوں کا ثواب کمائیں گے۔ اور یہ تو کچھ بھی نہیں، اسکا ثواب تو اس کائنات اور اس زمین و آسمان کے مابین جو کچھ ہے اُس سب سے افضل بیان کیا جا رہا ہے، تو اب پھر توہین کا وہ کونسا پہلو ہے جو کہ باقی رہ گیا؟؟؟ مگر نہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آنا ہے کہ خود پر ہزار ہا خون بلکہ سب کچھ ہی معاف ہیں اور تمام قاعدے قوانین اعتراضات توہین بس اور بس دوسروں کے لیے ہیں۔
یہ اعتراض کرنے سے پہلے اور بیوی سے چمٹے رہنے کا طعنہ دینے سے پہلے ایک نظر من لا یحضرہ الفقیہ کی اس روایات پر بھی آپ نظر ڈال لیتیں جس میں متعہ کے ایک غسل جنابت کا ثواب متعی کے سارے بالوں کے برابر دیا جارہا ہے اور حضرت جبرئیل کی زبانی تمام متعی مرد و عورتوں کی بخشش کی خوشخبری شب معراج کو آنحضرت کو دی جارہی ہے (استغفراللہ)۔

پہلی روایت، صحیح بخاری کی

Sahih al Bukhari Volume 5, Book 58, Number 188 (Online Link to Official English Translation):
Narrated 'Amr bin Maimun:
During the pre-Islamic period of ignorance I saw a she-monkey surrounded by a number of monkeys. They were all stoning it, because it had committed illegal sexual intercourse. I too, stoned it along with them.


بخاری کی اس کتاب کا نام ہے "انصار کے فضائل"

اس کے ذیل میں امام بخاری فرماتے ہیں:
" ابن میمون کہتے ہیں: (اسلام سے قبل) جاہلیت کے زمانے میں میں نے ایک "بندریا" دیکھی کہ جسے بہت سے بندروں نے گھیر رکھا تھا۔ اور وہ سب کے سب اُس بندریا کو پتھر مار رہے تھے کیونکہ اُس بندریا نے زنا کاری کی تھی۔ چنانچہ میں (انسان) نے بھی پتھر اٹھا کر اُس بندریا کو مارنے شروع کر دیے (سنگسار کرنے کے لیے)۔"

۔ اگر اسلام لانے کے بعد کی بات ہوتی تب بھی شاید انسان کچھ عذر پیش کر دیتا، مگر یہ جاہلیت کے زمانے کی بات ہو رہی ہے کہ اُس میں یہ انصاری شخص کا مرتبہ ایسا بڑا تھا اور وہ ایسا عارف باللہ تھا کہ اپنے فضائل میں وہ اللہ کے رسول جناب سلیمان علیہ السلام کے برابر پہنچا ہوا تھا کہ جانوروں کی بولی سمجھتا تھا۔
اُس نے سب سے پہلے وہ انوکھی چیز دیکھی جو پچھلے کئی ہزار سالہ بنی نوع انسانی کی تاریخ میں آج تک کسی شخص نے نہیں دیکھی، اور وہ یہ کہ بہت سے بندر مل کر ایک بندریا کو گھیرے ہوئے ہیں اور اُسے پتھروں سے سنگسار کر رہے ہیں۔
پھر اُسے شاید بندروں سے استفسار کرنے کے بعد معلوم ہوا، یا پھر شاید علم غیب کی طاقت تھی کہ پتا چلا کہ اُن بندروں میں اسلامی شریعت رائج تھی، اور اس لیے ایک بندریا نے چونکہ ایک بندر کی زوجہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے بندر سے زناکاری کر لی تھی، اس لیے اُسے اس چیز کے جرم میں سنگسار کیا جا رہا تھا۔
بہرحال اُس بندریا کے اس جرم کا پتا چل جانے کے بعد وہ ایسا عالی شان و مرتبت انصاری تھا کہ اُس نے بھی اس کار خیر میں حصہ لینے کے لیے بندریا پر سنگباری شروع کر دی (اور جس دوسرے بندر سے زناکاری کی گئی تھی، اُسکا علم نہیں کہ اُس پر بھی حد جاری ہوئی یا نہیں، یا پھر وہاں بھی کانا قانون اور کانی شریعت نافذ تھی کہ جہاں سزائیں صرف عورتوں کے لیے تھیں)۔

بخاری شریف میں کتاب انصار کے مناقب کا ایک ذیلی باب ہے جاہلیت کی قسامت کا بیان ۔عہد جاہلیت کا یہ واقعہ امام بخاری نے بیان کیا ہے عمدۃ القاری میں یہ پورا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس مہوش کے تمام اعتراضات کا جواب موجود ہے۔ اور وہ پورا قصہ کچھ یوں ہے کہ
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں یمن میں تھا اپنے لوگوں کی بکریوں میں، ایک اونچی جگہ پر میں نے دیکھا ایک بندر ایک بندریا کو لے کر آیا اور اس کا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو گیا اتنے میں ایک چھوٹا بندر آیا اور بندریا کو اشارہ کیا اس نے اپنا ہاتھ بندر کے سر کے نیچے سے کھینچ لیااور چھوٹے بندر کے ساتھ چلی گئی اس نے اس کے ساتھ صحبت کی میں دیکھ رہا تھا پھر بندریا لوٹی اور آہستہ سے پھر اپنا ہاتھ بندر کے سر کے نیچے ڈالنے لگی لیکن وہ جاگ اٹھا اور ایک چیخ ماری تو سب بندر جمع ہو گئے۔اس بندریا کی طرف اشارہ کرتا اور چیختا جاتا تھا آخر سارے بندر ادھر ادھر گئے اور اس چھوٹے بندر کو پکڑ لائے میں اسے پہچانتا تھا پھر انہوں نے ان کے لیے گڑھا کھودااور دونوں کو سنگسار کر ڈالا تو میں نے رجم کا یہ عمل جانوروں میں بھی دیکھا۔
یہ ہے پوری روایت یعنی نہ عمرو بن میمون کو جانوروں کی بولی آتی تھی ۔ نہ ان کا درجہ حضرت سلیمان کے برابر تھا اور مہوش خوش ہوجائیں کہ بندریا کے ساتھ بندر کو بھی سنگسار کیا گیا تھا۔
اچھا مہوش اگر آپ کو ایسی روایات پسند ہیں تو کہیے آپ کی کتب سے بھی ایسی روایات کا انبار دیکھایا جاسکتا ہے لیکن پہلے ایک بات تو بتائیے کہ یہ بطور خاص کاشانی صاحب کی روایت کے جواب میں آپ کو بندر والی روایت ہی کیوں نظر آئی؟

ویسے آپ نے بحار الانوار دیکھی ہے جس میں ائمہ کے حالات بیان کیئے گئے ہیں تقریبا ہر امام کی ایک خصوصیت نظر آتی ہے کہ ان سب کو جانوروں کی بولیاں آتی تھیں مثلا بحار الانوار کی چھٹی جلد جو جناب زین العابدین کے حالات میں ہے اس میں امام کو لومڑی ہرنی بکری یہاں تک بھڑیے سے باتیں کرتا دکھایا گیا ہے مثال کے طور پر
ایک دفعہ امام زین العابدین اپنی ذاتی زمینوں کی طرف تشریف لے جارہے تھے کہ ایک بھڑیا سامنے آیا جس کے بال نہیں تھے اور ڈراونی شکل کا تھااور جو آنے جانے والوں کے لیے خوف و ہراس کا سبب بنا ہوا تھا امام کے قریب جاپہنچا اور اس نے امام سے کچھ کہا ۔ امام نے کہا تو واپس چلا جا میں انشاء اللہ تیرا کام کر دوں گا یہ سن کر وہ چلا گیا اور لوگوں نے امام سے پوچھا کہ حضور یہ بھڑیے نے آپ سے کیا عرض کیا اور اس کا کیا کام اٹکا ہوا ہے امام نے فرمایا کہ وہ یہ کہتا تھا کہ میری مادہ پر زچگی دشوار ہو رہی ہے لہذا میری اور اس کی مشکل آسان فرمائیے اور اللہ سے دعا فرمائیے تاکہ جلدی مشکل آسان ہو جائے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اور میری نسل کا کوئی بھڑیا آپ کے کسی محب کو نقصان نہیں پہچائے گا۔ چنانچہ میں نے بارگاہ الہی میں دعا کی ہے۔(بحار الانوار جلد 6 بحالات امام زین العابدین ص 38 )

اب اگر اس میں آپ کی ہی طرح استہزا کرنا چاہوں تو امام کی زبان دانی سے لے کر بھڑیئے کی زچگی میں مشکل کشائی تک بہت کچھ ہے کہنے کو اور یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ بھی پہلی ہی راویت ہے اس طرح کی اور روایات میں سے۔

ایک بار پھر، اگر اوپر بخاری والی روایت پیش کرنے سے ہمارے اہلسنت برادران میں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معافی مانگتی ہوں۔ میں کبھی خود سے ایسی چیزیں شروع نہیں کرتی ہوں، مگر جب فریق مخالف گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے تو میں انتہائی مجبور ہو کر صرف جوابا ایسا کرتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ میری اس مجبوری کو مدنظر رکھیں گے۔

مہوش اگر آپ کو گھٹیا یا گھٹیا حرکتوں کرنے والی کہا جائے تو کیا یہ بات کسی بھی طرح مناسب ہوگی۔ یقنا ہر گز نہیں آپ سے تمام تر اختلاف کے باوجود کوئی ایسی زبان آُپ کے بارے میں استعمال کرے تو یہ چیز ناقابل قبول ہو گی بہتر ہے بہت بہتر ہے کہ آپ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
2۔ اہل سنت کا اگر اتنا ہی درد آپ کو ہوتا تو آپ اس واقعے کی کچھ چھان پٹک کر لیتیں یوں تو ہر جگہ ہر بات میں آپ کو عمدۃ القاری کی یاد آجاتی ہے اور آپ جگہ جگہ اس کے حوالے دے چکی ہیں لیکن اب آپ کو عمدۃ القاری کھولنے کا خیال نہیں آیا اور آپ نے فٹاک سے اعتراض جڑ دیا تو اپ کے ہی الفاظ میں کہ یہ دھوکے پر دھوکہ کسی اور کو دیجئے۔

اور اب آخری بات اس پوسٹ کو جواب دینے سے پہلے وضاحت سے بتائیے کہ آپ نے کیوں منھج الصادقین کی روایت کے بارے میں جھوٹ بولا جب تک آپ اس بات کا کوئی واضح جواب نہیں دے دیتیں اس وقت تک یہ سوال آپ سے کیا جاتا رہے گا۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
اور دھوکے پر دھوکا نہیں دیجئیے گا۔ ہمارے نزدیک کتب اربعہ "اہم" ہیں، مگر ہم نے کبھی ان کے متعلق "صحیح" کا دعوی نہیں کیا ہے۔ چنانچہ ہم پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز فرمائیے۔ خود الکافی میں بے تحاشہ روایات ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور اسی لیے علامہ باقر مجلسی اور پتا نہیں دس بارہ پندرہ کتنے اہل تشیع علماء نے الکافی کی شرحیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے روایات کے رجال کی درجہ بندی کی ہے کہ کون سی روایت صحیح ہے اور کون سی ضعیف۔

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے​

جب آپ خود ہی اپنی بنیادیں‌ ڈھا رہی ہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟؟؟؟

مجھے نے شروع میں بہت بہت درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو فقط "اختلاف رائے" تک محدود رکھئیے اور نصوص و دلائل سے صرف یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اللہ کی شریعت کا کیا حکم ہے، اور خدارا اسے "اختلاف رائے" سے "فرقہ وارانہ اختلاف" نہ بنائیں کہ جس کے بعد لڑ لڑ کر بس ایک دوسرے کو ہی زخمی کرتے ہوں اور اس کا آخری نتیجہ یہ نکلے کہ دشمن (فاروق صاحب سے معذرت کے ساتھ) مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا اور ہمارا مضحکہ اڑائے گا اور آوازیں کسے گا۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا​

یہ سب کچھ جو آپ نےاس فورم پر بیان کیا ہے انہی الفاظ‌ میں اور اسی انداز بیان اور اسی ترتیب میں نیٹ پر پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہے۔ اب خدا جانے وہ کاوش بھی آپکی تھی یا آپ نےاس سے استفادہ کیا ہے۔ اس لیے یہ بات تو رہنے ہی دیں۔ اور یہ کوئی میدان جنگ نہیں محفل ہے تمام تر اختلاف رائے کے باوجود سب محفلین ہیں۔ سب دوست ہیں اور دشمن کوئی نہیں۔

حوالے کے لئے یہ لینک ملاحظہ کیجئے۔

اب جب ایک فریق کا لنک دے دیا ہے تو یہ دوسرے فریق کا لنک بھی دیکھ لیجئے

اور خود دیکھ لیجئے حقیقت کیا ہے !!!!
 
ش

شوکت کریم

مہمان
یہ آپکی پرانی عادت ہے کہ اللہ اور اسکے نازل کردہ نصوص کو چھوڑ کر لوگوں کے پیچھے بھاگنا۔
آپ ہمیں کیا بتلا رہے ہیں پاکستانی اہل تشیع اور ایرانیوں کی حالت تو پہلے تو ہمیں پتا ہے کہ جہاں وہ خود کو کہلواتے تو اہل تشیع ہیں مگر پیروی کرنے کی بات آتی ہے تو اس معاملے میں مولا علی علیہ السلام کو چھوڑ کر حضرت عمر کی ذاتی رائے کی پیروی کرتے ہیں

اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ ذاتی رائے تھی تو ان کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں۔

جنگ نہروان کے موقعہ پر ربیعہ بن شداد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے کتاب اللہ و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سنت ابی ابکر و عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا تو آپ نے فرمایا۔ بے وقوف اگر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ اور سنت رسول کے برخلاف عمل کیا ہوتا تو وہ کسی بات میں حق پر نہ ہوتے (طبری جلد ۵ ص ۷۶)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا آپ میں پختگی ، فراست و ہوشیاری علم اور شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ (تاریخ الخلفاء ص ۹۵)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کےبارے میں کہتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور ہم سب سے زیادہ کتاب اللہ کے پڑھنے والے تھے اور اللہ کے دین کے بارے میں ہم سب سے زیادہ سمجھ دار تھے (مجمع الزوائد جلد ۹ ص ۶۹)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں جبت تک نیکوں کا ذکر ہوگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مبارک کہی جائے گی۔ بے شک عمر ہم سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والے تھے اور اللہ کے دین کے زیادہ سمجھ دار تھے (طبرانی)

حضرت قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کتاب اللہ کا بڑا عالم ، اللہ کے دین کا بڑا سمجھدار، اللہ کی حدوں کو زیادہ قائم کرنے والا اور لوگوں کے دلوں میں زیادہ بارعب نہیں دیکھا۔ (ابن الاثیر۔ جلد ۴ ص۶۰)

اور علامہ شبلی نعمانی رحمہ متعہ کے بارے میں مقالات شبلی میں‌ لکھتے ہیں۔

قرآن نے صرف یہی نہیں کیا کہ چار کی قید لگا کر تعداد ازواج کے دائرہ کو گھٹا دیا بلکہ اس نے اس طریقہ کو بھی مٹا دیا جو عرب میں عام طور سے مروج تھا یعنی چند روزہ نکا ح (متعہ)۔ (مقالات شبلی جلد ۱ ص ۱۶۴)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top