فیض نظم - کتُے از فیض احمد فیض (کتاب::نقشِ فریادی)

Haya khan

محفلین
یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی


نہ آرام شب کو ، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر ، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو ایک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو


ہر ایک کی ٹھوکر کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے


یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں


کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلا دے


فیض احمد فیض
(مجموعہ کلام ) لفظ لفظ
کسی کو اگر اس پوری نظم کی تشریح سمجھ میں ارہی ہیں پلیز میری ساتھ شیر کریں امتحان میں لکھنے کیلے یاد کرنی ہے،
 

سید ذیشان

محفلین
کسی کو اگر اس پوری نظم کی تشریح سمجھ میں ارہی ہیں پلیز میری ساتھ شیر کریں امتحان میں لکھنے کیلے یاد کرنی ہے،
کتا یہاں غریب عوام کیلئے استعارے (metaphor) کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ باقی اس نظم کو سمجھنے میں اور کوئی مشکل بات نہیں ہونی چاہیے۔
 

Haya khan

محفلین
کسی کو اگر اس پوری نظم کی تشریح سمجھ میں ارہی ہیں پلیز میری ساتھ شیر کریں بہت مہربانی ہوگی امتحان کیلے یاد کرنی ہے،
 
Top